اردو
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ پچھلی امتوں میں سے ایک امت میں ایک شخص ایسا گزرا ہے کہ اس کے
پاس موت کا فرشتہ اس کی روح قبضہ کرنے کے لئے آیا تو اس سے سوال کیا کہ کیا تیرے پاس کوئی
نیک عمل بھی ہے؟ تو اس نے جواب دیا مجھے تو (کوئی نیک عمل) یاد نہیں! فرشتہ نے اس سے کہا پھر
سوچ لے اور یاد کر لے (سوچنے کے بعد) اس نے جواب دیا مجھے کوئی نیک عمل یاد تو نہیں البتہ
(ایک عمل مجھے یاد پڑتا ہے اور وہ یہ ہے کہ) دنیا میں، میں لوگوں سے خرید و فروخت کا معاملہ کرتا تو
لوگوں پر (اس طرح) احسان کرتا کہ تقاضے کے وقت خوشحال کو مہلت دیتا (کہ وہ سہولت سے ادا
کرے) اور تنگدست کو معاف کر دیتا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی اسی نیکی کی بدولت اس کو جنت میں
داخل فرمانے کا حکم دیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور مسلم کی ایک روایت میں عقبہ بن عامر اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہما سے
حدیث کے آخری الفاظ اس طرح مروی ہیں کہ (اس شخص کا بیان سن کر) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
کہ عفو اور درگزر کے معاملے میں میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا مستحق ہوں (اے فرشتو!)
میرے اس بندہ سے درگزر کرو! (سبحان اللہ! خداوند کریم کی اپنے بندوں پر کس قدر عنایت ہے کہ
ایک ذرا سی نیکی پر (اس کے سارے گناہ معاف فرما دیئے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2077 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1560a (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.527
Confidence and text similarity are not editorial verification.