اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3854
عمرو بن شعیب رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ بیچنے والے اور خریدنے والے میں سے ہر ایک
کو بیع کے قطعی ہونے سے پہلے بیع کو فسخ کرنے کا اختیار ہے مگر یہ کہ (بیع میں) خیار شرط کی قید لگائی
جائے (تو ایسی صورت میں بیع قطعی نہ ہوگی اور فسخ کرنے کا اختیار باقی رہے گا) اور فریقین میں
سے کسی ایک کو یہ بات جائز نہیں کہ بیع کی قطعیت کے بعد اس ڈر سے اپنے بھائی سے جدا ہوجائے
(کہ مال کا نقص معلوم ہونے سے) فسخ بیع کا اندیشہ ہو۔
اس کی روایت ترمذی، ابوداود اور نسائی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ اہل کوفہ کے بعض
فقہا اور دیگر علماء نے اس حدیث میں تفرق سے تفرق بالکلام مراد لیا ہے (یعنی ایجاب و قبول کے
بعد بیع قطعی ہوجاتی ہے اگرچہ کہ مجلس نہ بدلے) اور امام ثوری کا بھی یہی قول ہے اور مالک بن انس
رحمۃ اللہ علیہ سے بھی یہی روایت ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1247 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3456 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 4483 (unverified) 85% confidence · Validation similarity: 0.753
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (9)
Note 1
(1) The statement "as long as they have not separated": Likely refers to the parting of hands, which occurs only after the contract is concluded, supporting our view (Al-Mirqat).
Note 2
(2) The statement "unless it is a sale with an explicit option": If they separate, their option is void unless the contract includes a stipulated option (Al-Mirqat).
Note 3
(3) The statement "It is not permissible for one to separate": Means physically leaving the session (Al-Mirqat).
Note 4
(4) The statement "fearing that the other may rescind": This explicitly supports our view, as rescission only applies after a binding contract. If the option of session existed, rescission would not be requested (Al-Mirqat).
Note 1
(۱) قوله : ما لم يتفرقا : لعل المراد بالتفرق تفرق الأيدي، فإنه لا يكون إلا بعد تمام العقد، وبه يتقوى مذهبنا. قاله في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: إلا أن يكون صفقة خيار : يعني إذا تفرقا بطل خيارهما إلا أن يكون العقد بيع خيار أي بيعًا شرط فيه الخيار. كذا في «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله : أن يفارق صاحبه أي بالبدن بأن يقوم من المجلس ويخرج، كما في المرقاة».
Note 4
(٤) قوله: خشية أن يستقيله أي يطلب منه الإقالة، وهو دليل صريح لمذهبنا؛ لأن الإقالة لا تكون إلا بعد تمام العقد، ولو كان له خيار المجلس لما طلب من صاحبه الإقالة. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مال میں کچھ عیب رکھ کر بیچنا اور عیب کے ظاہر ہوجانے کے ڈر سے جدا اٹھ جانا جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔