Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Marriage

Hadith 3250a

(اس باب میں نکاح کا اعلان اور اس کے شرائط اور خطبہ کا بیان ہے)

In this book

Current reading

Marriage

(اس باب میں نکاح کا اعلان اور اس کے شرائط اور خطبہ کا بیان ہے)

Zujajat al-Masabih 3250aVolume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4289Noor 4290Noor 4291Noor 4292
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو نماز کا تشہد اور حاجت کا تشہد سکھایا۔ (حضرت ابن مسعود نے) فرمایا کہ نماز میں تشہد یہ ہے۔ زبان جسم و جان اور مال کی تمام عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ اے نبی (ﷺ) آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ بیشک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور حاجت (یعنی نکاح اور دیگر معاملات) کا تشہد یہ ہے: کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے سزاوار ہیں۔ ہم (سارے کاموں میں مدد) اسی سے مانگتے ہیں اور (عبادتوں میں کوتاہی اور طاعتوں میں تاخیر کی) اسی سے مغفرت چاہتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے اس کا کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو وہ گمراہ کرے تو اس کا کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر یہ تین آیتیں پڑھا کریں: مُّسْلِمُوْنَ“ (سورہ آل عمران، پ:4، ع:10، آیت نمبر:102) اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم اسلام کی حالت پر ہی مرو۔ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا“ (سورہ نساء، پ:4، ع:1، آیت نمبر:1) اے ایمان والو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس (کے نام پاک) کا واسطہ دے کے تم آپس میں ایک دوسرے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہو اور قرابت داروں (کے حقوق ضائع کرنے سے بھی) بچو بیشک اللہ تعالیٰ کو تمہاری ہر ہر حالت کی خبر ہے۔ اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت اور اس کے برے انجام سے ڈرتے رہو اور سیدھی بات کہا کرو (اس سے) اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سنوار دے گا (تمہیں نیکیوں کی توفیق دے گا اور انکو قبول کرے گا) اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ (سورہ احزاب، پ:22، ع:9، آیت نمبر:71) اور جو شخص (احکام پر چل کر اور برائیوں سے بچ کر) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔ وہ بڑی کامیابی حاصل کرے گا۔ اور ابن ماجہ نے ”ان الحمد لله“ کے بعد ”نحمده“ کا اضافہ اور ” من شرور“ کے بعد ”سيئات اعمالنا“ کا اضافہ۔ اور دارمی نے ”فَقَدْ فَازَ فَوْزًا“ کے بعد یہ روایت کی ہے کہ (اگر خطبۂ نکاح ہو تو ایجاب و قبول کروائے) پھر اپنی حاجت بیان کرے۔ اور شرح السنہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اتنا زیادہ کیا ہے کہ نکاح اور غیر نکاح میں اسی خطبہ کو پڑھتے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1105 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1892 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2119 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 3278 (unverified) 85% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 3149 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 3149

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He taught us, etc.

(1) The statement: "He taught us, etc.": This Hadith of Ibn Mas‘ud is used as evidence for the legitimacy of the sermon at the marriage contract and for every need. Tirmidhi said in his "Sunan": Scholars said marriage is permissible without a sermon, which is the opinion of Sufyan ath-Thawri and others among the scholars. This is supported by the Hadith of Ismail ibn Ibrahim, coming later. Thus, the sermon in marriage is recommended, as in "Nayl al-Awtar" and "Ad-Durr al-Mukhtar."

Note 1

قوله

(۱) قوله: علمنا رسول الله إلخ : وقد استدل بحديث ابن مسعود هذا على مشروعية الخطبة عند عقد النكاح، وعند كل حاجة، قال الترمذي في سننه : وقد قال أهل العلم: إن النكاح جائز بغير خطبة، وهو قول سفيان الثوري وغيره من أهل العلم، انتهى. ويدل على الجواز حديث إسماعيل بن إبراهيم الآتي، فيكون على هذا الخطبة في النكاحمندوبة. كذا في نيل الأوطار» و«الدر المختار».

Note 1

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت مذکورہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں ایسی ہی مکتوب ہے حالانکہ قرآن میں یہ آیت: ”يٰأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ“ (الیٰ آخرہ) سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن قاریٔ خطبۂ نکاح میں اس آیت کو قرآنِ متواتر کے مطابق پڑھے جس کی ابتداء یوں ہے: ”يٰأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَّنِسَاءً، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِى تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا“۔ (سورۂ نساء، پ:4، ع:1، آیت نمبر:1) اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو! جس نے تم کو اکیلی جان (حضرت آدم سے) پیدا کیا اور (اسی طرح پر کہ پہلے) ان سے ان کی بی بی (حضرت حوّاء) کو پیدا اور ان دو (میاں بیوی) سے بہت سے مرد اور عورت (دنیا میں) پھیلا دیئے۔ جس کا واسطہ دلا کر تم آپس میں ایک دوسرے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہو اور قرابت داروں (کے حقوق ضائع کرنے سے بھی) بچتے رہو۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات) اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے اور جامع ترمذی میں سفیان ثوری رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ نے ان تینوں آیتوں کو بیان فرمایا ہے۔