English
‘Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Allah curses the muhallil (one who marries to make a woman lawful for her first husband) and the one for whom he does so." [Narrated by Ad-Darimi]
Ibn Majah narrated it from ‘Ali, Ibn ‘Abbas, and ‘Uqbah ibn ‘Amir. Muhammad narrated in Al-Athar from Sa’id ibn Jubayr: "I was sitting with ‘Abdullah ibn Mas’ud when a Bedouin came and asked about a man who divorced his wife once or twice, her waiting period ended, she married another man, he consummated the marriage, then died or divorced her, and her waiting period ended. The first husband wants to remarry her—how many divorces remain?" Ibn Mas’ud turned to Ibn ‘Abbas and said, "What do you say?" Ibn ‘Abbas replied, "The second husband annuls the first and second (divorces), leaving three. Ask Ibn ‘Umar." The Bedouin met Ibn ‘Umar, who agreed with Ibn ‘Abbas.
Muhammad narrated in Al-Muwatta’ from Abu Hurairah that he sought a verdict from ‘Umar ibn al-Khattab about a man who divorced his wife once or twice, left her until her waiting period ended, she married another, then he died or divorced her. The first husband wanted to remarry her—how many divorces remain? ‘Umar said, "She is on the remaining divorces."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٣٧٢ وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللهِ ﷺ الْمُحَلَّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ». رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
وَرَوَاهُ ابْنِ مَاجَهُ عَنْ عَلَى الله وَابْن عَبَّاسٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَرَوَى مُحَمَّدٌ فِي كِتَابِ الْآثَارِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ الله بْنِ مَسْعُوْدٍ، فَجَاءَ أَعْرَابِيُّ فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا وَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ مَاتَ عَنْهَا أَوْ طَلَّقَهَا ثُمَّ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَأَرَادَ الْأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا عَلَى كَمْ هِيَ؟ فَالْتَفَتَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَ: مَا تَقُوْلُ فِي هَذَا؟ فَقَالَ: يَهْدِمُ الزَّوْجُ الثَّانِي الْوَاحِدَةَ وَالْثِنْتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، وَاسْأَلْ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: فَلَقِيْتُ ابْنَ عُمَرَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ.
وَرَوَى مُحَمَّدٌ فِي مُوَطَّئِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لله أَنَّهُ اسْتَفْتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَابِ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ، وَتَرَكَهَا حَتَّى تَحِلَّ ثُمَّ تَنْكِحُ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَيَمُوْتُ أَوْ يُطَلِّقُهَا فَيَتَزَوَّجُهَا زَوْجَهَا الْأَوَّلَ عَلَى كَمْ هِيَ ؟ قَالَ عُمَرُ: هِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ طَلَاقِهَا.
اردو
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلال کرنے والے اور حلال کرانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔
اور ابن ماجہ نے اس کی روایت حضرت علی اور حضرت ابن عباس اور حضرت
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم سے کی ہے۔
اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الآثار میں سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ سے
روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کی خدمت میں بیٹھا تھا
ایک اعرابی آپ کے پاس حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک طلاق یا دو
طلاقیں دیں پھر اس کی عدت گزر گئی اور اس عورت نے دوسرے شوہر سے عقد کیا اور اس نے صحبت
بھی کی پھر دوسرا شوہر مر گیا یا اس نے طلاق دیدی پھر عدت گزر گئی۔ اس کے بعد پہلے شوہر کا ارادہ
ہے کہ اپنی (قدیم) بیوی سے پھر نکاح کرے تو بتائے کہ وہ اس (عورت کو عقد ثانی کے
بعد شوہر) کو کتنے طلاق کا حق ہوگا؟ پس کہ حضرت عبداللہؓ بن عتبہ بن مسعود حضرت ابن عباسؓ کی
طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اس مسئلہ میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ
دوسرا شوہر ایک طلاق، دو طلاق یا تین طلاق کو ختم کر دیتا ہے۔ (یعنی سابقہ دی ہوئی طلاقوں کا اعتبار
نہ ہوگا بلکہ اس کو از سر نو تین طلاق کا حق ہوگا) اور (حضرت عبداللہ بن عتبہ نے سائل سے کہا کہ) تم
ابن عمرؓ سے بھی (اس بارے میں) دریافت کرو۔ سائل کا بیان ہے کہ میں حضرت ابن عمر سے ملا
اور یہ مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے بھی حضرت ابن عباس ہی کے قول کے مطابق ہی کہا۔
اور امام محمد رحمة اللہ علیہ نے اپنی موطا میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی
ہے کہ انہوں نے امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فتویٰ طلب کیا ایک ایسے شخص
کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کو ایک طلاق یا دو طلاق دی ہو پھر اس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ
(عدت گزار کر دوسرے شوہر کے لئے حلال ہو جائے پھر وہ عورت دوسرے شوہر سے نکاح کرے
پھر یہ (دوسرا شوہر) مر جائے یا اس کو طلاق دیدے (پھر عدت گزرنے کے بعد) وہ اپنے پہلے شوہر
کے ساتھ نکاح کرے تو اس کو کتنے طلاق کا حق ہوگا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ اس عورت کو جتنے
طلاق باقی رہ گئے ہیں (یعنی ایک یا دو) اتنے ہی طلاق باقی رہیں گے۔ (یعنی پہلے شوہر کو عقد ثانی
کی وجہ سے از سر نو تین طلاق کا حق نہیں ملے گا بلکہ گزشتہ جتنی طلاقیں دی تھیں وہ شمار کر لی جائیں گی
اور باقی طلاقوں کا اس کو حق رہے گا اگر ایک طلاق دی تھی تو دو کا حق اور اگر دو طلاق دی تھیں تو ایک کا
حق باقی رہے گا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 3296 (unverified) 50% confidence
- Candidate: Sunan al-Darimi 2258 (unverified) 35% confidence
Mishkat (candidate) 3296
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(1) The statement: "Allah curses the muhallil and the one for whom he does so"—If a man marries a woman on the condition that he will consummate and divorce her so she can return to her first husband, such a marriage is prohibitively disliked due to this hadith. If he marries her with this condition, consummates, and divorces her, she becomes lawful for the first husband after her waiting period, though the sin remains for such a marriage and tahill. There is disagreement: Muhammad held that the marriage is valid with the tahill condition, as contracts are not invalidated by invalid conditions. However, she does not become lawful for the first husband through such consummation, as it hastens what the Shari’ah delayed. Abu Yusuf and Ash-Shafi’i said the marriage is invalid due to the tahill condition, as it resembles a temporary marriage. Abu Hanifah’s view is that the marriage is valid but disliked. If the tahill is concealed in the heart without explicit mention, it is permissible without dislike. The Shafi’i school differs from us in that they consider tahill invalid, while we consider it valid but sinful.