Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Marriage

Hadith 3407

Chapter on Istibra’ (Ascertainment of a Clear Womb)

In this book

Current reading

Marriage

Chapter on Istibra’ (Ascertainment of a Clear Womb)

Zujajat al-Masabih 3407Volume 2

English

Abu Ad-Darda (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) passed by a woman and asked about her. They said, "She is a slave woman of so-and-so." He said, "Does he approach her?" They said, "Yes." He said, "I was about to curse him with a curse that would enter his grave with him. How can he enslave her when she is not permissible for him? Or how can he make her inherit when she is not permissible for him?"

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٤٠٧ - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ(رضي الله عنه) قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ بِامْرَأَةِ فَسَأَلَ عَنْهَا، فَقَالُوا: أَمَةٌ لِفُلَانٍ. قَالَ: «أَيُلِمُ بِهَا؟ فَقَالُوا : نَعَمْ، قَالَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَا يَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ، كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ، أَمْ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4555
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ایک حاملہ عورت پر سے ہوا جس کا پیٹ بہت بھاری تھا اور وہ وضع حمل کے قریب تھی آپ نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا (یہ لونڈی یا آزاد عورت ہے) تو حاضرین نے عرض کیا کہ یہ فلاں شخص کی لونڈی ہے آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا وہ شخص اس سے (اس حالت میں) صحبت کرتا ہے؟ تو ان لوگوں نے جواب دیا ہاں! تو آپ نے فرمایا میرا ارادہ ہے کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ ساتھ قبر میں جائے، بھلا وہ اس بچے سے کیسے خدمت لے سکتا ہے جبکہ وہ اس کے لئے حلال نہیں ہے یا وہ اس کو اپنا وارث کیسے بنا سکتا ہے جبکہ یہ بات اس کے لئے درست نہیں (اس لیے کہ وہ اس کا بیٹا نہیں ہے) اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1441 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں یہ ذکر ہے کہ مالک اپنی حاملہ لونڈی سے جو اس کے حصہ میں آئی تھی صحبت کرنا چاہتا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اس لیے کہ اس لونڈی کو جو بچہ پیدا ہوگا اگر مالک نے اس کو اپنا بیٹا بنا لیا تو ہو سکتا ہے کہ لونڈی کا حمل اس کے پہلے خاوند کا ہو تو مالک نے کافر کے بیٹے کو اپنا وارث بنا لیا حالانکہ کافر اور مسلمان میں وراثت نہیں اور اگر مالک نے اس کو اپنا بیٹا نہ کہا اور شاید یہ نطفہ اسی کا ہو تو اس کو غلام بنانا اور اس سے غلام کی طرح خدمت لینا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ نسب کا خلط کرنا درست نہیں۔ اسی واسطے اجنبی عورت سے خواہ لونڈی ہو خواہ مطلقہ حیض آئے بغیر، یا حمل ہو تو وضع حمل کے بغیر صحبت کرنا درست نہیں تا کہ نطفہ میں شبہ نہ پڑے۔12