English
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: When the words of Allah, the Exalted, were revealed: And do not approach the orphan’s property except in a way that is best [Al-An‘am: 152], and His words: Indeed, those who devour the property of orphans unjustly [An-Nisa: 10], whoever had an orphan with them separated their food from the orphan’s food and their drink from the orphan’s drink. If anything remained of the orphan’s food or drink, it was kept for them until they consumed it or it spoiled. This became difficult for them, so they mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ). Then Allah, the Exalted, revealed: They ask you about orphans. Say, “Improvement for them is best. And if you mix your affairs with theirs, they are your brothers” [Al-Baqarah: 220]. So they mixed their food with the orphans’ food and their drink with the orphans’ drink.
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٤٣٥ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ : لَمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿ وَلَا تَقْرَبُواْ مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾(الأنعام: ١٥٢)وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتـَــٰمَىٰ ظُلْمًا﴾(النساء (١٠) الْآيَةَ انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَتِيمٌ، فَعَزَلَ طَعَامَهُ مِنْ طَعَامِهِ وَشَرَابَهُ مِنْ شَرَابِهِ، فَإِذَا فَضُلَ مِنْ طَعَامِ الْيَتِيمِ وَشَرَابِهِ شَيْءٌ حُبِسَ لَهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ أَوْ يَفْسُدَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَذَكَرُوْا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: ﴿وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ وَإِن تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ (البقرة: ٢٢٠) فَخَلَطُوا طَعَامَهُمْ بِطَعَامِهِمْ وَشَرَابَهُمْ بِشَرَابِهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4596
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیتیں
نازل ہوئیں: ”وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ“، (سورہ بنی اسرائیل،
پ:15، ع:4، آیت نمبر:34)(یتیم کے مال کے پاس نہ جانا مگر ایسے طریقے سے جو اس کے
حق میں بہتر ہو)۔
وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا“۔ (سورہ نساء، پ:4، ع:1، آیت نمبر:10)(وہ لوگ جو ناحق یتیموں
کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں انگارے بھرتے ہیں اور وہ عنقریب دوزخ میں داخل
ہوں گے) تو وہ لوگ جن کی نگرانی میں یتیم بچے تھے (انہوں نے بڑی احتیاط برتنی شروع کی)
انہوں نے ان بچوں کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پینا اپنے پینے سے الگ کر دیا، جب یتیم
کا کھانا پینا بچ رہتا تو اس کے لئے رکھ چھوڑتے یہاں تک کہ اس کو یتیم ہی کھاتا یا پھر خراب
ہو جاتا، یہ بات یتیموں کے سرپرستوں پر دشوار گزری تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا پس اللہ تعالیٰ نے (اس بارے میں) یہ آیت نازل فرمائی: ”
،پ:2،ع:27،آیت نمبر:220)(آپ سے لوگ یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں
تو آپ ان سے یہ فرما دیجئے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے۔ اور اگر تم (ان کا خرچ) اپنے ساتھ
ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں) اس کے بعد (ان کے سرپرستوں نے) (نیک نیتی کے ساتھ)
ان کے کھانے پینے کے سامان کو اپنے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔ (اس کی روایت ابوداؤد
اور نسائی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2871 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 3670 (unverified) 65% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.