اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4596
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیتیں
نازل ہوئیں: ”وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ“، (سورہ بنی اسرائیل،
پ:15، ع:4، آیت نمبر:34)(یتیم کے مال کے پاس نہ جانا مگر ایسے طریقے سے جو اس کے
حق میں بہتر ہو)۔
وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا“۔ (سورہ نساء، پ:4، ع:1، آیت نمبر:10)(وہ لوگ جو ناحق یتیموں
کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں انگارے بھرتے ہیں اور وہ عنقریب دوزخ میں داخل
ہوں گے) تو وہ لوگ جن کی نگرانی میں یتیم بچے تھے (انہوں نے بڑی احتیاط برتنی شروع کی)
انہوں نے ان بچوں کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پینا اپنے پینے سے الگ کر دیا، جب یتیم
کا کھانا پینا بچ رہتا تو اس کے لئے رکھ چھوڑتے یہاں تک کہ اس کو یتیم ہی کھاتا یا پھر خراب
ہو جاتا، یہ بات یتیموں کے سرپرستوں پر دشوار گزری تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا پس اللہ تعالیٰ نے (اس بارے میں) یہ آیت نازل فرمائی: ”
،پ:2،ع:27،آیت نمبر:220)(آپ سے لوگ یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں
تو آپ ان سے یہ فرما دیجئے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے۔ اور اگر تم (ان کا خرچ) اپنے ساتھ
ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں) اس کے بعد (ان کے سرپرستوں نے) (نیک نیتی کے ساتھ)
ان کے کھانے پینے کے سامان کو اپنے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔ (اس کی روایت ابوداؤد
اور نسائی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2871 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 3670 (unverified) 65% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.