Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Hudud

Hadith 3604

The Chapter on What Should Not Be Invoked Against the Punished

In this book

Current reading

Hudud

The Chapter on What Should Not Be Invoked Against the Punished

Zujajat al-Masabih 3604Volume 3

English

Abu Hurayra (may Allah be pleased with him) said: Al-Aslami came to the Prophet of Allah (ﷺ) and testified against himself four times that he had committed unlawful intercourse with a woman, each time the Prophet turned away from him. On the fifth time, he turned to him and said: Did you have intercourse with her? He said: Yes. He said: Until that part of you was concealed in that part of her? He said: Yes. He said: Like the stick is concealed in the kohl container or the rope in the well? He said: Yes. He said: Do you know what adultery is? He said: Yes, I did with her unlawfully what a man does with his wife lawfully. He said: What do you want with this statement? He said: I want you to purify me. So he ordered him to be stoned. The Prophet of Allah (ﷺ) heard two of his companions, one saying to the other: Look at this one whom Allah concealed, but his soul did not leave him until he was stoned like a dog. He remained silent about them, then traveled for a while until he passed by the carcass of a donkey with its leg raised. He said: Where are so-and-so and so-and-so? They said: We are here, O Messenger of Allah. He said: Get down and eat from this donkey’s carcass. They said: O Prophet of Allah, who would eat this? He said: What you took from your brother’s honor just now is worse than eating it. By the One in Whose hand is my soul, he is now plunging in the rivers of Paradise.

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٦٠٤-وَعَنْ أَبِيُّ هُرَيْرَةَ رضي الله عنه ، قَالَ: جَاءَ الْأَسْلَميُّ إِلَى نَبِيَّ اللّهِ ﷺ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِأَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ، فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ، فَقَالَ:(أَنِكْتَهَا؟) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: (حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا؟) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: (كَمَايَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرَّشَاءُ فِي الْبِئُرِ) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: (فَهَلْ تَدْرِي مَا الرَّنَاءُ؟) قَالَ:نَعَمْ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ امْرَأَتِهِ حَلَالًا، قَالَ: (فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟)قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهَّرَنِي، فَأَمَرَ بِه فَرُجِمَ، فَسَمِعَ نَبِيُّ اللَّهِ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُأَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللهُ عَلَيْهِ، فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَالْكُلْبِ، فَسَكَتَ عَنْهُمَا، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: (أَيْنَفُلَانُ وَفُلَانُ؟) فَقَالَا: نَحْنُ ذَانٍ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: (انْزِلَا فَكُلَا مِنْ جِيفَةٍ هَذَا الْجِمَارِ) فَقَالَا: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟ قَالَ:(فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضٍ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْأَكْلٍ مِنْهُ، وَالَّذِيْ نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ الْآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَّنةِ يَنْقَمِسُ فِيهَا). رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4916
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ اسلمی صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اپنے اوپر چار مرتبہ گواہی دے کہ ایک خاتون سے فعل حرام کئے ہیں۔ ہر مرتبہ آپ ان سے منہ پھیر لیتے تو پانچویں مرتبہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو دخول کیا ہے۔ تو انہوں نے کہا ہاں۔ پھر آپ فرمائے کیا اس قدر ہوا کہ تیرا (عضو) اس کے عضو میں چھپ گیا تو ان نے کہا، ہاں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں اور رسی کنویں میں چھپ جاتی ہے۔ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو زنا کو جانتا ہے۔ تو انہوں نے کہا: ہاں میں نے اس کے ساتھ وہی فعل کیا ہے جو کوئی آدمی حلال طریقہ پر اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اس بات سے کیا چاہتا ہے۔ تو اس نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کریں۔ اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا اور اس کو رجم کر دیا گیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کو سنا ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا اللہ نے اس کے عیب کو چھپایا تھا لیکن وہ اپنے کو چھوڑا نہیں یہاں تک کہ کتے کی طرح رجم کر دیا گیا۔ پھر آپ ﷺ کچھ دیر چلے اور ایک مردار گدھے کے پاس سے گزرے جو اپنا پیر اوپر اٹھایا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فلاں اصحاب کہاں ہیں تو ان دونوں نے کہا ہم ہیں یا رسول اللہﷺ۔ آپ نے فرمایا تم دونوں اترو اور اس مردار گدھے کو کھاؤ۔ ان دونوں نے عرض کیا یا نبی اللہﷺ اس کو کون کھاتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا تم دونوں نے اپنے بھائی کے بارے میں ابھی جو کچھ کہا وہ اس کو کھانے سے زیادہ سخت ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے بلاشبہ اس وقت وہ جنت کی نہروں میں غوطہ لگا رہا ہے۔ (ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4428 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.