العربية
Typed, pending editorial approval
٣٧٣٣ - وَعَنْ عَوْفٍ بْنِ مَالِكِ رضي الله عنه ، أَنَّ الَّنبِيَّ ﷺ قَضَّى بَيْنَ رَجُلَيْنٍ فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِلَمَّا أَدْبَرَ - : حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ :(إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَلُومُ2 عَلَى الْعَجْزِوَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ، فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرُّ فَقُلْ: حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ). رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3627 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) Regarding the saying: Reproves weakness: Meaning He does not approve. Weakness is the opposite of prudence, which is vigilance in affairs and guidance to planning and benefit. It means you should have been vigilant in your dealings and not settled without the claimant’s proof. If the opponent overcomes you, then say: Allah is sufficient for me, etc. [Al-Lam‘at]
Note 2
(٢) قوله: يلوم على العجز: أي لا يرضى. والمراد بالعجز ضد الكيس، والكيس التَيَقَّظ في الأمور والاهتداء إلى التدبيروالمصلحة، يعني كان ينبغي لك أن تتيقّظ في معاملتك، ولا تقتصر فيها قبل إقامة المدعي البينةَ أو مع ذلك إذا غلبكالخصم قلت: (حسبي الله إلخ). كذا في (اللمعات).
Note 1
1قولہ: فاقتلوا المشركين (پس تم مشرکوں کو قتل کرو) الخ تم اس بات کو جانو کہ جہاد فرض کفایہ ہے۔ اب رہا اس کا فرض ہونا وہ ان آیات سے ثابت ہے لیکن اس کا علی الکفایہ ہونا وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد لا يستوى القاعدون سے رحيما تک آیت کی بناء پر ہے۔ پھر یہ اس وقت ہے جب کہ عام کوچ کرنے کا اعلان نہ ہو۔ اور اگر ایسا ہو کہ وہ دشمن مسلمانوں کے کسی ملک پر حملہ کر دیں تو فرض عین میں ہو جاتا ہے خواہ اعلان کرنے والا پرہیزگار ہو یا فاسق ہو۔ اس شہر کے تمام لوگوں پر کوچ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اگر وہ شہر والے کافی نہیں ہو رہے ہیں یا سستی کر رہے ہیں یا خلاف ورزی کر رہے ہیں تو ان لوگوں پر بھی فرض ہو جاتا ہے جو ان کے قریب ہیں۔ اور اسی طرح یہاں تک کہ مشرق و مغرب کے تمام مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے استدلال کیا گیا ہے۔ انفروا خفافا وثقالا..................(ماخوذ از مرقات) 2قولہ: جاهد في سبيل الله او جلس في ارضه التي ولد فيها (وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرے یا اس سر زمین میں بیٹھے رہے جس میں وہ پیدا ہوا ہے) یعنی وہ جہاد نہ کرے اور یہ وجوب ہجرت کے منافی نہیں ہے۔ اور اس میں دو چیزوں میں جو برابری رکھی گئی ہے اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے۔ (ماخوذ از لمعات و مرقات) اور صاحب رحمتہ اللہ نے کہا ہے کہ امت اس بات پر متفق ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے اور جب مسلمانوں میں سے کچھ ایسے لوگ اس کا اہتمام کریں جو اس کے لئے کافی ہیں تو باقی لوگوں سے گناہ ساقط ہو جائے گا۔ 3قوله: و اخرى (اور ایک دوسری بات) الخ اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے اس حیثیت سے کہ اس کا عطف (دلالت التزامی کے) بطور لوازم اسلام پر ہوا ہے کیوں کہ عطف کلام میں مغایرت کو چاہتا ہے۔ (مرقات) 4قوله: لا هجرة بعد الفتح الخ (فتح کے بعد ہجرت نہیں) صاحب عرف شذی نے کہا ہے کہ دارالحرب سے دار اسلام کی طرف ہجرت کا مسئلہ متاخرین میں مختلف فیہ رہا ہے اور یہ مسلک کتب احناف میں ہے۔ البتہ علماء شافعیہ اس سے بحث کئے ہیں۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے کسی رسالہ میں ہجرت کے مستحب ہونے کی بات کہی ہے اور قول مختار یہی ہے اور بعض علماء اس کے وجوب کے قائل ہیں۔ اور آیات کریمہ و احادیث شریفہ اس کے استحباب پر دلالت کرتے ہیں۔ منجملہ ان کے وہ حدیث شریف ہے جس کو امام ترمذی نے صفحہ 195 پر تخریج کیا ہے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے لما فيه انهم كاعراب المسلمين يجري عليهم الخ اور انہوں نے کہا کہ ہجرت اہل مکہ پر واجب تھی اور بعض حالات میں کبھی واجب ہوسکتی ہے۔ 5قولہ: اذا استنفرتم فانفروا (جب تم سے نکلنے کے لئے کہا جائے تو تم نکل پڑو) امام نووی نے فرمایا: اس میں دلیل ہے کہ جہاد فرض عین نہیں ہے بلکہ فرض کفایہ ہے اور جب اس کو کوئی ایسے افراد کریں جو ان کے لئے کافی ہو جاتے ہیں تو دیگر حضرات سے اس کا گناہ ساقط ہو جائے گا اور اگر وہ سب کے سب اس کو چھوڑ دیں تو تمام کے تمام گناہ گار ہو جائیں گے۔ 6قولہ: أَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ أُحْيَى الخ (میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں) اس میں جہاد اور شہادت کی فضیلت اور شہادت و خیر کی اور ایسے نیک کاموں کی تمنا کرنے کی فضیلت ہے جو عملاً ممکن نہیں ہیں۔ نیز اس میں یہ ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں۔ اور عمدۃ القاری میں علامہ عینی نے یہ بھی اضافہ فرمایا ہے کہ اس میں یہ بات بھی ہے کہ امام (حاکم) اور عام دونوں کے لئے کسی ایسے امر طاعت کو جس کو اس کے ساتھی اور اس کے خیر خواہ اس طرح کرنے کی طاقت نہیں رکھتے جس طرح یہ کر سکتا ہے تو ایسے کام کو ان میں اس کی طاقت آنے تک چھوڑ دینا جائز ہے اور یہ دقتی کے کریمانہ اخلاق و آداب سے ہے۔ 7؎ قولہ: ارواحهم فی اجواف طیر خضر (ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر (قالب) میں ہیں) یہ بات کہی گئی ہے کہ ان (کی روحوں) کو ان پرندوں کے قالب میں رکھنا ایسا ہے جیسے موتی کو اس کی عظمت و شرافت کے لئے صندوقوں میں رکھتے ہیں۔ اور ان کو اس طرح کی صورت میں جنت میں داخل کرنا: جس کا تعلق دنیا کے اس بدن سے نہیں ہے مگر وہ جس طرح دنیا کے بدن میں تدبیر کرتے ہیں اسی طرح تدبیر کرتے ہیں کیونکہ وہ جنت میں بسرا کرتی ہیں اور وہاں کی پاکیزہ خوشبو (ہوائیں) پاتی ہیں اور جو وہاں انوار ہیں۔ اس کا مشاہدہ کرتی ہیں اور اس سے لطف اندوز ہوتی ہیں اور تناسخ (آواگون) کے قائلین کے شبہ کو دفع کیا گیا ہے۔ اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان کو انسانی جسم سے نکال کر حیوانی جسم میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ ان کی شان کو گھٹانا ہے ان کے اس وہم کو بھی دفع کرنا ہے اس کو اچھی طرح سمجھ لو۔ اور اس سلسلہ میں یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ شہداء کی روحیں جب مرتبہ کمال پر پہنچ گئیں تو اللہ سبحانہ کے حکم سے وہ سبز پرندوں کی شکلیں اختیار کرلیں اور ان کو وہ شکل حاصل ہوگئی جیسا کہ فرشتہ انسانی شکل کو اختیار کرتا ہے۔ پس یہ بدن وہ نہیں جس سے روحیں متعلق ہوتی ہیں اور جس میں تدبیر کی جاتی ہے۔ بلکہ یہ بذات خود ان روحوں کی صورتیں ہیں جو یہ شکل اختیار کرلی ہیں۔ اس کو اچھی طرح سمجھ لو۔ اور میں یہ کہتا ہوں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جسم انسانی جسموں کے صفات لئے ہوئے ہوں اگرچہ کہ سبز پرندوں کی صورتوں میں ہوں اور درحقیقت پرندوں کی صفات پر نہ ہوں کیونکہ صورتوں اور شکلوں کا کوئی شان نہیں ہوتا بلکہ یہ بات بعید نہیں کہ ان کو پرندے جو کہا گیا ہے اس لئے کہ وہ ایک مکان سے دوسرے مکان میں آدمیوں کی طرح پاؤں سے چل کر نہیں بلکہ پرندوں کی طرح اُڑ کر منتقل ہوتے ہیں۔ پس ان کی تنقیص شان کا جو وہم کیا گیا تھا وہ اس معنی کی وجہ سے لازم نہیں آئے گا۔ پس اگر تم یہ کہو کہ ان کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کا کیا فائدہ کہ ان کی روحوں کو ان کے جسموں میں دوبارہ لوٹایا جائے یہاں تک کہ وہ اللہ کے راستہ میں دوبارہ شہید کردئیے جائیں جب کہ ان کو پھر اس میں وہی چیز حاصل ہوگی جو حاصل ہے تو اس کے جواب میں یہ کہا گیا ہے، اس کلام سے ان کا مقصد اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں سے ان کو سرفراز کیا ہے اس کی شکرگزاری کا اظہار کرنا ہے۔ اور اگر تم یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار تو سب سے بڑی نعمت ہے تو وہ اس کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے تو اس کے جواب میں میں یہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار اس کے لائق کامل صلاحیت پر موقوف ہے۔ جو قیامت کے دن حاصل ہوگی تو اللہ تعالیٰ نے ان میں کامل استعداد پیدا ہونے کے وقت تک کے لئے ان کے دلوں کو اس کی طلب سے روک دیا۔ (شرح ابن ملک، لمعات سے بالاختصار)