اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 5230
ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ایک آدمی ایک سواری پر آیا پس وہ سیدھے اور بائیں مارنے لگا تو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ زائد سواری ہو تو اس کو وہ اس آدمی کو دے جس کے
پاس سواری نہیں ہے۔7 اور جس کے پاس زائد توشہ ہے تو اس کو وہ اس آدمی کو دے جس کے پاس
توشہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال کے انواع میں اسے ذکر کرتے گئے یہاں
تک کہ ہم سمجھے کہ ہم میں سے کسی کو زائد چیز میں کوئی حق نہیں ہے۔(مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1728 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "Whoever has an extra mount should offer it, etc.": Al-Nawawi said: This encourages charity, mutual support, kindness to companions, and attending to their needs by offering assistance without their asking. This applies even if the person has a mount or clothes or is wealthy in their homeland; they may give from zakat in this situation. As stated in (Al-Mirqat).
Note 1
(١)قوله: من كان معه فضل ظهر فليقعد به إلخ: قال النووي: فيه حث على الصدقة والمواسات والإحسان إلى الرفقة والأصحاب والاعتناء بمصالحهم، والسعي في قضاء حاجة المحتاج بتعرضه للعطاء، وتعريضه من غير سؤال، وإن كان له راحلة وعليه ثياب أو كان موسرا في وطنه فيعطي من الزكاة في هذا الحال. كذا في (المرقاة).