اردو
سلمہ ابن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے اپنی سواری کے اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام رباح کے ساتھ روانہ فرمایا اور میں ان
کے ساتھ تھا اور جب ہم صبح کئے تو اچانک عبدالرحمن فزاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں
پر حملہ کر دیا تو میں ایک ٹیلہ پر کھڑا ہو گیا اور مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور تین مرتبہ آواز دیا ”حملہ
ہو گیا“، پھر اس میں قوم کے پیچھے نکل پڑا ان پر تیر برساتا جاتا اور رجز پڑھتے ہوئے کہتا جاتا تھا۔
میں ابن اکوع ہوں اور آج کا دن (ماں کا) دودھ پینے والوں کا ہے۔ پس میں مسلسل ان پر
تیر چلاتا رہا اور ان کا راستہ کاٹا یہاں تک کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سواری کے اونٹوں کو، جن
کو اللہ نے پیدا کیا، میں نے ان کو اپنی پیٹھ کے پیچھے کر لیا پھر میں نے ان لوگوں کا پیچھا کیا، ان پر تیر
چلاتے ہوئے یہاں تک کہ وہ تیس سے زائد چادریں اور تیس نیزے، اپنا بوجھ ہلکا کرتے ہوئے چھوڑ
دئے اور وہ نہیں چھوڑتے کوئی چیز مگر میں اس پر پتھر کے نشان رکھ دیتا تا کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم
اور آپ ﷺ کے صحابہ اس کو پہچان لیں۔ یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے
سواروں کو دیکھا اور ابوقتادہ جو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے گھوڑا سوار تھے عبدالرحمن کے پاس پہنچ
گئے اور اس کو قتل کر ڈالا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا آج ہمارے بہترین گھوڑے سوار
ابوقتادہ ہیں اور ہماری پیدل فوج میں بہترین سلمہ ہیں۔ پھر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے مجھے دو حصے
عطا فرمائے گھوڑے سوار کا ایک حصہ اور پیدل فوج کا ایک حصہ23پس آپ ان دونوں کو میرے
لئے جمع کئے پھر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے مدینہ منورہ کو واپس ہوتے عضباء اونٹنی پر مجھے اپنے
پیچھے بٹھا لیا ہے۔ (مسلم)
اور ابن حبان نے اس کی روایت کی اور کہا ہے کہ سلمہ بن اکوع اس جنگ میں
پیدل تھے آپ ﷺ نے انہیں اپنے خمس میں سے عطا فرمایا نہ کہ مسلمانوں کے سہمین میں سے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1807a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “He gave me two shares—a horseman’s and a foot soldier’s”: He gave me a horseman’s share alongside a foot soldier’s because most of the spoils’ recovery was due to Salamah. The leader may give extra from the fifth, not the Muslims’ shares, to one who exerts great effort. He did not give all due to no prior tanfil before the battle. Post-battle tanfil is from the fifth, as detailed by As-Sarakhsi. As in (Al-Mirqat), (Fath al-Qadir), and (Radd al-Mukhtar).
Note 1
(١) قوله: ثم أعطاني رسول الله صلي الله عليه واله وسلم سهمين سهم الفارس وسهم الراجل إلخ: أي أعطاني سهم فارس مع سهمراجل؛ لأن معظم أخذ تلك الغنيمة كانت بسبب سلمة،وللإمام أن يعطي من كثر سعيه في الجهاد شيئًا زائدًا علىنصيبه من الخمس لا من سهمان المسلمين، وإنما لم يعطه صلي الله عليه واله وسلم الجميع؛ لأنه لم ينفل صلي الله عليه واله وسلم قبل القتال، وكل ما وردمن التنفيل بعد القتال فهو محمول عندنا على أنه من الخمس، كما بسطه السرخسي. التقطته من (المرقاة) و(فتحالقدير) و (رد المختار).