Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Jihad

Hadith 3960

The Chapter on The Jizyah (Poll Tax)

In this book

Current reading

Jihad

The Chapter on The Jizyah (Poll Tax)

Zujajat al-Masabih 3960Volume 3

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) visited Abu Talib while Quraysh men were with him, with a man’s seat by his head. When Abu Jahl saw him, he sat there. He said: “Your nephew insults our gods.” Abu Talib said: “What is wrong with your people complaining about you?” The Prophet (ﷺ) said: “O uncle, I want them to accept one word by which the Arabs will submit to them, and the non-Arabs will pay them jizyah.” He said: “What is it?” He said: “The testimony that there is no god but Allah.” They stood, saying: “Do you make the gods one god?” Then “Sad. By the Qur’an, full of reminder” [Qur’an 38:1] was revealed, up to “Indeed, this is a strange thing” [Qur’an 38:5]. [Narrated by Al-Bayhaqi in (As-Sunan)] Tirmidhi narrated similarly, saying: Hasan Sahih. Our scholars said: This supports our view with his saying (ﷺ): “The non-Arabs will pay them jizyah.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٩٦٠ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رضي الله عنهما قَالَ: عَادَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم أَبَا طَالِبٍ وَعِنْدَهُ نَاسٌّ مِنْقُرَيْشٍ وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُوْ جَهْلٍ قَامَ فَجَلَسَ، فَقَالَ: ابْنُ أَخِيْكَ يَذْكُرُآلِهَتَنَا، فَقَالَ أَبُوْ طَالِبٍ: مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ قَالَ: (يَا عَمِّ، أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍتَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَّدِّي إِلَيْهِمْ الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ)، قَالَ: مَا هِيَ؟ قَالَ:(شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّاالله) فَقَامُوا فَقَالُوا: أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهَا وَاحِدًا؟ قَالَ: وَنَزَلَ ﴿صَ وَاَلْقُرْءَانِ ذِى الذِّكْرِ﴾(صَ: ١) حَتّى إِذَا بَلَغَ ﴿إِنَّ هَذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ ﴾. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي (السُّنَنِ). وَرَوَى التّرْمِذِيُّ مِثْلَهُ، وَقَالَ: حَسَنٌ صَحِيْحٌ. وَقَالَ عُلَمَاؤُنَا: يُؤَيِّدُ مَذْهَبَنَا قَوْلَهُ صلي الله عليه واله وسلم فِي هَذَا الْحَدِيْثِ:(وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ).

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5368
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطالب کی عیادت کے لئے تشریف لے آئے اور ان کے پاس قریش کے چند لوگ موجود تھے اور ان کے سرہانے ایک آدمی کی جگہ تھی۔ ابوجہل نے اس جگہ کو دیکھا تو اٹھا اور وہاں بیٹھ گیا اور کہا کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے تو ابو طالب نے کہا آپ کی قوم کا کیا معاملہ ہے وہ آپ کی شکایت کرتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ان سے ایک کلمہ چاہتا ہوں جس سے سارا عرب ان کا مطیع ہو جائے گا اور اہل عجم ان کو جزیہ دیں گے۔ انہوں نے کہا وہ کیا کلمہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا لا اله الا الله کلمہ کی گواہی۔ پس وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کیا انہوں نے کئی معبودوں کے بجائے ایک خدا بنا دیا۔ راوی نے کہا: ”صٓ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ“ کی آیت نازل ہوئی۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ ”اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ“ تک پہنچے۔ بیہقی نے سنن میں اس کی روایت کی ہے اور امام ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہمارے علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ”وَتُؤَدِّي اليهم العجم الجزية“ (ان کو اہل عجم جزیہ دیں گے) ہمارے مذہب کی تائید کرتا ہے۔