اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 5368
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
ابوطالب کی عیادت کے لئے تشریف لے آئے اور ان کے پاس قریش کے چند لوگ موجود تھے اور ان
کے سرہانے ایک آدمی کی جگہ تھی۔ ابوجہل نے اس جگہ کو دیکھا تو اٹھا اور وہاں بیٹھ گیا اور کہا کہ آپ کا
بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے تو ابو طالب نے کہا آپ کی قوم کا کیا معاملہ ہے وہ آپ کی
شکایت کرتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ان سے ایک کلمہ چاہتا ہوں جس سے سارا
عرب ان کا مطیع ہو جائے گا اور اہل عجم ان کو جزیہ دیں گے۔ انہوں نے کہا وہ کیا کلمہ ہے؟ آپ ﷺ
نے فرمایا لا اله الا الله کلمہ کی گواہی۔ پس وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کیا انہوں نے کئی
معبودوں کے بجائے ایک خدا بنا دیا۔ راوی نے کہا: ”صٓ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ“ کی آیت نازل
ہوئی۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ ”اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ“ تک پہنچے۔ بیہقی نے سنن میں اس کی
روایت کی ہے اور امام ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہمارے علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ”وَتُؤَدِّي اليهم العجم الجزية“ (ان کو اہل عجم جزیہ دیں گے) ہمارے مذہب کی تائید کرتا ہے۔