Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Jihad

Hadith 3981

The Chapter on Al-Fay’ (Spoils Taken Without Fighting)

In this book

Current reading

Jihad

The Chapter on Al-Fay’ (Spoils Taken Without Fighting)

Zujajat al-Masabih 3981Volume 3

English

Al-Mughirah ibn Shu’bah narrated: When Umar ibn Abd al-Aziz (may Allah be pleased with him) was appointed as caliph, he gathered the Banu Marwan and said: The Messenger of Allah (ﷺ) had Fadak, from which he spent, supported the young of Banu Hashim, and married off their widows. Fatimah asked him to give it to her, but he refused. It remained so during the life of the Messenger of Allah (ﷺ) until he passed away. When Abu Bakr (may Allah be pleased with him) assumed leadership, he managed it as the Prophet (ﷺ) did during his lifetime until he passed away. When Umar ibn al-Khattab assumed leadership, he managed it similarly until he passed away. Then Marwan took it as a fief, and it came to Umar ibn Abd al-Aziz. I believe that something the Messenger of Allah (ﷺ) withheld from Fatimah (may Allah be pleased with her) is not rightful for me. I bear witness to you that I have returned it to its state during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, and Umar (may Allah be pleased with them both).

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٩٨١ - وَعَنِ الْمُغِيْرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيْنِ رضي الله عنه جَمَعَ بَنِي مَرْوَانَحِينَ اسْتُخْلِفَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم كَانَتْ لَهُ فَدَكُ، فَكَانَ يُنْفِقُ مِنْهَا، وَيَعُودُ مِنْهَاعَلَى صَغِيرِ بَنِي هَاشِمٍ، وَيُزَوِّجُ مِنْهَا أَيِّمَهُمْ، وَإِنَّ فَاطِمَةَ سَأَلَتْهُ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهَا، فَأْبَى فَكَانَتْ كَذَلِكَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، فَلَمَّا أَنْ وُلِّي أَبُو بَكْرٍرضى الله عنه عَمِلَفِيهَا بِمَا عَمِلَ النَّبِيُّ صلي الله عليه واله وسلم فِي حَيَاتِهِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، فَلَمَّا أنْ وُلَيَ عُمَرُ ابْنُ الخَطَّابِعَمِلَ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلًا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، ثُمَّ أَقْطَعَهَا مَرْوَانُ، ثُمَّ صَارَتْ لِعُمَرَ بْنِعَبْدِ الْعَزِيزِ، فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَهُ رَسُولُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم فَاطِمَةَ رضى الله عنها لَيْسَ لِي بِحَقِّ، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْأَنِّي قَدْ رَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ، يَعْنِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم وَأْبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ رضي الله عنهما . رَوَاهُأبُوْ دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5396
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ جس وقت خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے بنی مروان کو جمع کر کے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے فدک خاص تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس (کے اموال) میں سے خرچ فرماتے اور اس سے بنی ہاشم کے بچوں کی خاطر و مدارات فرماتے اور اس سے ان کے غیر شادی شدہ کی شادی کرواتے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (فدک) کو انہیں دے دینے کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منظور نہ فرمایا۔ پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں اسی طرح رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اپنی وفات تک اس کے متعلق وہی طرز عمل اپنایا جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات میں اختیار فرمایا تھا۔ پھر جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس کے متعلق ان (دونوں) کے طرز عمل کی طرح عمل کیا، یہاں تک کہ انہوں نے بھی وفات پائی۔ پھر مروان نے ان کو لے لیا۔ پھر وہ عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کا ہو گیا ہے، تو میری رائے (فدک کے) اس معاملہ کے متعلق جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو روک دیا، یہ ہے کہ مجھے کوئی حق نہیں ہے اور میں تمہیں اس بات کا گواہ بناتا ہوں کہ میں ان اموال کو اس حالت پر لوٹا دیا ہوں، جس حالت پر وہ تھے، یعنی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2972 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.