Abd al-Rahman ibn Shibl narrated: The Prophet (ﷺ) forbade eating lizard meat. 2 [Narrated by Abu Dawud, who remained silent on it, 3 so it is hasan or sahih per him]
In “Al-Durr al-Mukhtar,” narrations of eating it apply to the initial ruling.
عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے
گھوڑ پھوڑ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ 1 ابوداؤد نے اس کی روایت اور اس پر سکوت اختیار
کیا۔ 2 پس یہ ان کے پاس حسن یا صحیح ہے اور صاحب درمختار نے کہا ہے اس کے کھانے پر جو روایت
آئی ہے وہ ابتداء زمانہ پر محمول ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3796 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 2
Forbade eating lizard meat
(2) The statement: “Forbade eating lizard meat”: Lizard is called “susmar” in Persian and “goh” in Hindi. It is disliked by us. Our jurists say it is prohibitively disliked; our hadith scholars say it is mildly disliked. Al-Shafi’i and others say it is permissible. We say the Prophet (ﷺ) was uncertain initially, then settled on avoiding it. Shafi’is say the prohibition was initial, then permitted. Authentic hadiths exist for both permission and prohibition, differing in sequence. Muslim’s narration of the prohibition as final suffices. In “Urf al-Shadhi.” In “Bazl al-Majhud,” the Prophet (ﷺ) initially permitted it but avoided it out of disgust, saying it was not in his people’s land, so he found it repulsive. He hesitated, suspecting it might be metamorphosed, neither commanding nor prohibiting it, leaving it permissible initially. Later, he prohibited it, making it prohibited. This view prioritizes prohibition over permission.
Note 3
Remained silent on it, etc.
(3) The statement: “Remained silent on it, etc.”: Al-Mundhiri said: Its chain includes Ismail ibn Ayyash and Damdam ibn Zur’ah, who are debated. We say: Ismail’s narrations from Syrians are authentic, and Damdam is Syrian (from Homs). Al-Bayhaqi admitted his narrations from Syrians are authentic, as in the hadith on not performing wudu from blood, so Abu Dawud’s silence indicates it is hasan or sahih. Bukhari, Ibn Ma’in, and others affirmed Ismail’s authenticity from Syrians. Damdam is truthful but prone to errors, a trait in many Sahih narrators, so the hadith is authentic. Al-Ayni said: Al-Tirmidhi authenticated Ismail’s narration from Sharhabil ibn Muslim from Abu Umamah, so the chain is authentic. Thus, in “Tansiq al-Nizam.”
Note 2
قوله
(٢) قوله: نهى عن أكل لحم الضب: يقال للضب في الفارسية: (سوسمار). وفي الهندية (گوه). وهذه مكروهة عندنا. وقالفقهاؤنا بكراهة تحريمة، ومحدثونا بكراهة تنزيهة. وقال الشافعي وغيره: إنها حلال، ونقول: إنه عليه السلام كان متوقفا في أولالزمان، ثم استقر رأيه على تركه. وقال الشافعية: إن النهي كان أولا ثم أجاز النبي صلي الله عليه واله وسلم ، وأقوال الأحاديث الصحاحفي الإجازة والنهي موجودة، والخلاف في الترتيب، ويكفينا ما ذكره مسلم في كتابه؛ فإنه ذكر النهي آخرًا. قاله في (العرف الشذي). وقال في (بذل المجهود): إن رسول اللّٰه :صلي الله عليه واله وسلم أباحه أولا، ولكن ترك أكله تقذُّرًا، واعتذر بأنه لميكن في أرض قومي فأجدني أعافه، ثم تردد فيه باحتمال كونها من الممسوخات، فلم يأمر فيه بشيء ولم ينه عنه، فكانفي حكم الإباحة الأصلية، ثم بعد ذلك نهى عنه، فصار حراما، وهذا الوجه أولى؛ لأن فيه تغليب الحظر على الإباحة.
Note 3
قوله
(٣) قوله: وسكت عليه إلخ: قال المنذري: في إسناده إسماعيل بن عياش وضمضم بن زرعة، وفيهما مقال، قلنا:إسماعيل إذا روى عن الشاميين كان حديثه صحيحا حجة كما صرحوا، وضمضم حمصي فهو شامي؛ لأن حمص منالشام. وقد اعترف البيهقي نفسه بأن حديثه عن الشاميين صحيح في ترك الوضوء من الدم، ولذا سكت عليه أبوداود، فهو حسن أو صحيح عنده. وقد صرَّح البخاري وابن مَعين وغيرهما أن حديثه عنهم صحيح، وأما ضمضمفجملة القول فيه: إنه صدوق يهم، وهذه الصفة موجودة في كثير من رجال الصحيحين، فالحديث صحيح. وقالالعيني: وقد صحح الترمذي لابن عياش عن شرحبيل بن مسلم عن أبي أمامة، فقد صحَّ الإسناد. كذا في (تنسيقالنظام).
Note 1
1 ”نهى عن اكل لحم الضب“. (گھوڑ پھوڑ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا)۔ ضب کو فارسی میں ”سوسمار“
کہا جاتا ہے اور ہندی زبان میں ”گوہ“ کہا جاتا ہے اور یہ ہمارے پاس مکروہ ہے اور ہمارے فقہاء کراہت
تحریمی کے قائل ہیں اور ہمارے محدثین کراہت تنزیہی کے قائل ہیں۔ امام شافعیؒ اور دیگر حضرات نے کہا ہے
کہ وہ حلال ہے اور ہم کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ ابتداء زمانہ میں اس کے بارے میں توقف فرمائے ہوئے
تھے پھر آپ ﷺ کی رائے مبارک اس کے ترک پر قائم ہوگئی اور شافعیہ نے کہا کہ ممانعت ابتداء میں تھی۔ پھر
نبی کریم ﷺ نے اس کی اجازت مرحمت فرمائی اور میں کہتا ہوں کہ اجازت اور ممانعت ہر دو سے متعلق صحیح
حدیث موجود ہیں اور اختلاف ترتیب (تقدیم و تاخیر) کے بارے میں ہے اور امام مسلم نے اپنی کتاب میں جو
ذکر کیا ہے وہ ہمارے لئے کافی ہے کہ انہوں نے ممانعت والی احادیث کا ذکر آخر میں ذکر کیا ہے یہ بات
صاحب عرف شذی نے بتائی ہے اور صاحب بذل المجہود نے کہا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ابتداء میں اس کو
جائز قرار دیا تھا۔ لیکن کراہت و ناگواری کے باعث اس کو ترک فرما دیا اور یہ عذر بیان فرمایا کہ یہ میری قوم کی
سرزمین میں نہیں ہوتا ہے اس لئے میں اپنے آپ کو اس سے نفرت کرتے ہوئے پاتا ہوں پھر اس کے بارے
میں آپ ﷺ نے توقف فرمایا اس احتمال پر کہ یہ مسخ شدہ جانوروں کی قسم سے ہو، پس آپ ﷺ نے اس سلسلہ
میں کوئی امر نہیں فرمایا اور نہ اس سے منع فرمایا۔ لہذا یہ اباحت اصلیہ کے حکم میں ہوگا۔ پھر اس کے بعد آپ
نے اس سے ممانعت فرما دی لہذا وہ حرام ہوگیا اور یہ توجیہ سب سے بہتر توجیہ ہے کیونکہ اس میں حرمت کے
پہلو کو حلت کے پہلو پر غلبہ ہے۔
2 قوله ”وسكت عليه“. ”(امام ابوداؤد نے) اس پر سکوت اختیار کیا ہے“۔ منذری نے کہا: اس کی
اسناد میں اسمعیل بن عیاش اور ضمضم بن زرعہ ہیں اور ان دونوں کے بارے میں کلام ہے، ہم کہتے ہیں اسمعیل
جب اہل شام سے روایت کرتے ہیں تو ان کی حدیث صحیح اور قابل استدلال رہتی ہے۔ جیسا کہ اہل علم نے
صراحت فرمائی ہے اور ضمضم حمصی یہ شامی ہیں کیونکہ مقام حمص ملک شام میں ہے اور امام بیہقی نے بھی اس
بات کا اعتراف کیا ہے کہ خون نکلنے کی وجہ وضو ٹوٹنے کے بارے میں ان کی اہل شام سے مروی حدیث صحیح
ہے۔ اسی لئے ابوداؤد نے اس پر سکوت فرمایا ہے۔ جو ان کے پاس حسن یا صحیح ہونے کی دلیل ہے۔ امام
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) بخاری اور ابن معین اور دیگر حضرات نے صراحت کی ہے کہ ان کی اہل شام سے روایت صحیح
ہے اب رہا ضمضم کے بارے میں جو کچھ کہا گیا اس کا خلاصہ یہ ہے یہ صدوق ہیں کبھی ان کو وہم ہو جاتا ہے
اور یہ صفت بخاری و مسلم کی بکثرت راویوں میں موجود ہے لہذا یہ حدیث صحیح ہے۔ امام عینی نے کہا امام ترمذی
نے ابن عیاش کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ جو حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بواسطہ شرجیل بن مسلم
آئی ہے۔ اس کی سند صحیح ہے اسی طرح تنسیق النظام میں ہے۔
1 قوله ”رايت رسول الله ياكل لحم الدجاج“: (میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغ کا گوشت تناول
فرماتے ہوئے دیکھا ہے)۔ صاحب عمدۃ القاری نے کہا ہے اس حدیث شریف میں مرغ کا گوشت کھانے کا
جواز ہے اور کتاب توضیح میں ہے مرغ کے جواز پر اجماع منعقد ہے۔
2 قوله ”كنا ناكل معه الجراد“: (ہم آپ ﷺ کے ساتھ ٹڈے کھایا کرتے تھے“۔ صاحب عمدۃ القاری
نے کہا ہے علماء کا اجماع ہے اس بات پر کہ اس کو بغیر ذبح کئے کھایا جا سکتا ہے۔ البتہ مالکیہ کا مشہور مذہب یہ
ہے کہ اس کو ذبح کرنا شرط ہے۔ لیکن کیفیت ذبح میں ان کے (یعنی مالکی حضرات کے) درمیان اختلاف ہے
کہا گیا کہ اس کا سر کاٹ دیا جائے گا۔ اور ابن وہب نے کہا ہے کہ اس کو پکڑنا ہی اس کو ذبح کر دینا ہے اور امام
مالک سے ایک روایت ہے کہ اگر اس کو زندہ پکڑے پھر اس کا سر کاٹ دے یا اس کو بھون لے یا تل لے تو اس
کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ اس کو زندہ پکڑ کر اس سے غافل ہو جائیں یہاں تک کہ وہ مر جائے تو اس
کو نہیں کھایا جائے گا۔ امام طحاوی نے کتاب الصید میں ذکر کیا ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ سے کہا گیا کہ آپ کیا
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) فرماتے ہیں کیا ٹڈی آپ کے پاس مچھلی کے درجہ میں ہے جو کوئی ان میں سے کسی کو پالے تو
اس کو کھا سکتا ہے خواہ بسم اللہ پڑھے نہ پڑھے؟ تو انہوں نے کہا ہاں۔ تو میں نے کہا ٹڈی جہاں بھی پائی
جائے گی میں اس کو کھا لوں تو انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا اگرچہ میں اس کو کسی زمین پر مرا ہوا پاؤں؟۔
انہوں نے کہا ہاں۔ تو میں نے کہا اگرچہ اس پر بارش برس کر اسے ہلاک کر ڈالے۔ انہوں نے کہا: ہاں ٹڈی کو
کوئی چیز کسی بھی حال میں حرام نہیں کر سکتی۔ (انتھی ہدایہ)۔
1 قوله الميتتان الحوت والجراد الخ (دو مرے ہوئے جانور مچھلی اور ٹڈی ہیں) ائمہ اربعہ نے فرمایا
ٹڈی کھانا حلال ہے چاہے وہ طبعی موت مرے یا ذبح کرنے سے یا کسی مجوسی یا مسلمان کے شکار کرنے سے
خواہ اس کا کچھ حصہ کاٹا جائے یا نہ کاٹا جائے اور امام احمد سے مروی ہے کہ اگر اس کو سردی ہلاک کر دے تو نہیں
کھایا جائے گا اور امام مالک کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اس کا سر کاٹا جائے تو حلال ہے ورنہ نہیں اور اس
کے ہر حال میں حلال ہونے کی دلیل حضور ﷺ کا یہ فرمان: ”احلت لنا ميتتان“ ہے۔ (مرقاۃ)۔
1 قوله: و هو قول ابي حنيفة الخ (اور وہ (امام اعظم ابوحنیفہ) کا قول ہے) اور یہ جابر، علی، ابن عباس
سعید بن المسیب اور ابوالشعثاء، نخعی، داؤد، زہری رضی اللہ عنہم اجمعین کا قول ہے، ابن ابی شیبہ، عبدالرزاق اور
دیگر حضرات نے ان سے اسی قول کو ذکر کیا ہے دارقطنی اور بیہقی نے سمک طافی کی حلت کی حدیث حضرت ابوبکر
اور ابوایوب رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے یہی قول امام شافعی، امام احمد، اور بعض تابعین کا ہے اور وہ حضرات
حدیث شریف: ”هو الطهور ماؤه الحل ميتته“ سے اس کو مطلق قرار دے کر اپنے مذہب پر استدلال
کرتے ہیں، اور حدیث شریف میں ہمارے لئے دو مرے ہوئے جانور اور دو خون حلال کئے گئے ہیں، مرے
ہوئے دو جانوروں سے مراد مچھلی اور ٹڈی ہے اور اب رہے دو خون تو وہ جگر اور تلی ہے۔
ابن ماجہ، امام احمد، عبد بن حمید، دارقطنی، ابن مردویہ اور دیگر حضرات نے اس حدیث کی تخریج کی ہے،
ہمارے اصحاب نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ سمندر کا مرا ہوا جانور وہی ہے جس کو سمندر نے پھینکا ہو یا جس
سے پانی ہٹ جائے تاکہ اس کا مرنا سمندر کی طرف منسوب ہو بغیر کسی آفت کے طبعی موت مر کر جو پانی پر پلٹ
جائے تو وہ میتہ البحر نہیں ہے، کتاب بنایہ درایہ میں اسی طرح ہے اور صاحب تعلیق ممجد نے یہ بات بتائی ہے۔
1 قوله وما مات فيه وطفا فلا تاكلوه. اور جو اس میں مرجائے اور پلٹ جائے تو اس کو مت کھاؤ شرح
السنہ میں ہے کہ سمک طافی (مرکر پلٹی ہوئی مچھلی) کے مباح ہونے میں علماء نے اختلاف کیا ہے، پس صحابہ اور
تابعین میں سے ایک جماعت نے اس کو مباح قرار دیا ہے اور یہی قول امام مالک وامام شافعی رحمہما اللہ کا ہے
اور ان میں سے ایک جماعت نے اس کو مکروہ کہا ہے یہ بات حضرت جابر، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور اصحاب
ابوحنیفہ رحمہم اللہ سے مروی ہے۔
2 قوله اذا وقع الذباب وفي اناء احدكم، الخ. (جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے) اور شرح
السنہ میں ہے کہ اس میں دلیل ہے اس بات پر کہ مکھی پاک ہے اور اس طرح تمام حیوانات کے اجسام بھی پاک ہیں
سوائے ان کے جن پر سنت سے دلیل قائم ہو، جیسے کتا اور خنزیر ہے۔ اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس
جانور میں بہتا خون نہ ہو جب کسی قلیل پانی یا کسی مشروب میں اس کی موت واقع ہوجائے تو وہ اس کو ناپاک نہیں
کرتا جیسا کہ مکھی اور شہد کی مکھی، بچھو، گبریلا، ڈوری، اور اس جیسے جاندار ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ برتن میں مکھی
ڈبودینے سے کبھی اس کی موت واقع ہوجاتی ہے اگر مکھی کا اس میں مرجانا اس کو ناپاک کرتا تو کھانے کو ناپاک
کردینے کے اندیشہ کے پیش نظر حضور ﷺ کے ڈبونے کا حکم نہ فرماتے اور جمہور فقہاء کا قول یہی ہے۔
اور کتاب رحمة الامة في اختلاف الائمة میں ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہ اللہ کے پاس
مکھی بہنے والی چیز کو خراب نہیں کرتی اور فی نفسہ وہ پاک ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کا راجح مذہب یہ ہے کہ وہ بہنے
والی چیز کو ناپاک نہیں کرتی اور لیکن وہ مرنے سے فی نفسہ ناپاک ہوجاتی ہے اور امام احمد رحمہ اللہ کا مذہب بھی
یہی ہے۔ (مرقات)۔
اور مرقات میں ایک دوسری جگہ کتاب حیوۃ الحیوان میں ہے کہ مکھی کی کوئی بھی قسم ہو اس کا کھانا حرام ہے، اور
ایک صورت ایسی بھی ہے کہ اس میں اس کا کھانا حلال ہے۔ جس کو رافعی نے بیان کیا ہے اور احیاء العلوم میں
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) ہے کہ اگر پکی ہوئی ہانڈی میں مکھی یا چیونٹی گر جائے اور اس کے اجزاء فنا ہو جائیں تو اس پکی
ہوئی چیز کا کھانا حرام نہیں ہوگا۔ کیونکہ مکھی چیونٹی اور اس جیسی چیزوں کے کھانے کو حرام قرار دیا جانا ناگواری
طبیعت کی وجہ سے ہے اور یہ بر خلاف اس کے طبیعت کی ناگواری کا موجب نہیں ہوتا۔
1 قوله القوها و ما حولها و كلوه. (اس کو اور اس کے اطراف کو نکال کر پھینک دو) اور اس (گھی) کو
کھالو۔ صاحب عمدۃ القاری نے کہا اس بات پر اجماع منعقد ہے کہ یہ حکم جامد گھی کا ہے البتہ پتلا گھی اور اس
طرح دیگر مائعات تو اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر اس میں چوہا یا اس جیسی کوئی چیز گر جائے تو اس میں سے
کوئی بھی چیز نہیں کھائی جا سکتی لیکن اس کو فروخت کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں اختلاف
ہے۔ حسن بن صالح اور امام احمد رحمہ اللہ نے کہا ہے جس طرح اس کو کھایا نہیں جا سکتا اسی طرح اس کو بیچا نہیں
جا سکتا اور اس کے کسی چیز سے استفادہ بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ثوری اور امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ نے
کہا: اسے چراغ میں استعمال کرنا اور صابن وغیرہ کے لئے اس سے استفادہ کرنا درست ہے، البتہ اس کو بیچنا
اور کھانا جائز نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب اور فقیہ لیث نے کہا ہے کھانے کے سوا اس سے ہر چیز
میں نفع حاصل کیا جا سکتا ہے، اور اس کا بیچنا بھی بشرط بیان جائز ہے اور ہماری دلیل امام طحاوی کی نقل کردہ
حدیث اور ابوموسیٰ وابن وہب کی مرویات ہیں۔
1 قوله اقتلوا الحيات، الخ۔ (سانپوں کو مار ڈالو) صاحب دراختیار نے کہا ہے، امام طحاوی نے کہا تمام قسم
کے سانپوں کو مار ڈالنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات سے عہد لیا کہ وہ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے گھروں میں داخل نہ ہوں، پس جب وہ داخل ہوئے تو گویا انہوں نے عہد شکنی
کی ہے، لہذا ان کے لئے کوئی ذمہ نہیں ہوگا، البتہ عذر کا موقع دینا اور ان کو آگاہ کرنا بہتر ہے، چنانچہ اس طرح
کہا جائے گا کہ اللہ کے حکم سے واپس چلے جاؤ اور اگر وہ انکار کرے تو اس کو قتل کر ڈالے (اھ) یعنی آگاہ کرنا
اور متنبہ کرنا بحکم غیر نماز میں ہے۔ (بحر)۔ صاحب حلیہ نے کہا اور امام طحاوی اور بہت سے حضرات نے ان
کی موافقت کی ہے اور اس میں سب سے اخیر میں ہمارے شیخ یعنی ابن ہمام ہیں۔ پس انہوں نے کہا کہ حق
بات تو یہ ہے کہ ان کو قتل کرنے کا جواز و حلت ثابت شدہ امر ہے، مگر یہ کہ جس میں جنات کی علامت ہے اس
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) کے قتل سے رک جانا بہتر ہے اور یہ ان کے قتل کے حرام ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے
طرف سے پیدا ہونے والے ایک وہمی ضرر کو دفع کرنے کی غرض سے ہے۔
1 قوله الا الجان الابيض، الخ۔ (سوائے اس سفید سانپ کے) صاحب مرقات نے کہا ہے حنفیہ کے
پاس سفید سانپ کو نہ مارنا مناسب ہے کیونکہ وہ جنات میں سے نہیں ہے اور امام طحاوی نے کہا تمام قسم کے
سانپوں کو قتل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، البتہ ان کو متنبہ کر دینا بہتر ہے۔
2 قوله: من تركهن خشية ثائر فليس منا۔ (جو کوئی ان کو انتقام اور بدلہ لینے کے ڈر سے چھوڑ دے تو وہ
ہم میں سے نہیں) شارح علیہ السلام نے کہا جاہلیت کے دستور کے مطابق یہ عادت جاری تھی کہ اس طرح کہا
جاتا سانپوں کو قتل مت کرو کیونکہ اگر تم ان کو قتل کر دو گے تو ان کا شوہر آئے گا اور انتقام کے طور پر تمہیں ڈس لے
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قول و عقیدہ سے منع فرمایا، اسی طرح مرقات میں ہے
اور صاحب بذل المجہود کے کہا اسی طرح ہندوستان کے بعض شہروں میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص کسی مخصوص
حالت میں سانپ کو مار ڈالے تو اس کا شوہر اس کا بدلہ لے گا اور ہر سال اس کو ڈستا رہے گا۔
1 قوله: امر بقتل الوزغ، الخ۔ (گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم فرمایا) علامہ کرمانی نے کہا: وزغ ایک جانور ہے
جس کو پیر ہوتے ہیں، گھاس کی جڑوں میں دوڑتا ہے، اور ابن اثیر نے کہا: یہ وہی ہے جس کو ”سام ابرص“
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) کہا جاتا ہے اور علامہ عینی نے کہا یہی بات صحیح ہے اور یہ وہی ہے جو دیواروں اور چھتوں میں رہتا
ہے اور اس کی آواز ہوتی ہے جس سے وہ پہچنتا ہے، صاحب غیاث اللغات نے منتخب سے نقل کیا ہے کہ وزغ
گرگٹ ہے اور برہان میں لکھا ہے کہ وہ ”چلپاسا کی ایک قسم ہے جس کو سام ابرص بھی کہتے ہیں۔ یہ گرگٹ کے
مشابہ ہوتا ہے جو گھروں کے چھتوں میں رہتا ہے، ہندی میں اس کو چھپکلی کہتے ہیں۔
اور مولانا ابوالحسنات محمد عبدالحی رحمہ اللہ نے کتاب ”نفع المفتی و السائل بجمع متفرقات المسائل“
میں کہا ہے ”استفتاء“ کیا گرگٹ کو مار ڈالنا جائز ہے۔ ”استبشار“ ہاں بلکہ اس کو مار ڈالنے میں بڑا ثواب
ہے۔ جیسا کہ مروی ہے کہ جس نے گرگٹ کو قتل کیا اس نے ستر نیکیاں پائیں اور ”خزانة الروايات“ میں
”حاشية المشارق“ سے منقول ہے کہ یہ حدیث شریف ام شریک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔
1 قوله : فاوحى الله تعالى اليه ان قرصتك نملة احرقت امة، الخ۔ (پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف
وحی کی کہ تم کو صرف ایک چیونٹی نے کاٹا تھا لیکن تم نے امتوں میں سے ایک امت کو جو تسبیح کرتی تھی جلا ڈالا)
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) صاحب مرقات نے کہا چیونٹیوں کو مار ڈالنے کی ممانعت کی حدیث شریف اور احادیث شریفہ
کے درمیان جمع کرتے ہوئے اور اس کو جوں پر قیاس کرتے ہوئے ممانعت کی حدیث کو اس میں سے غیر موذی
چیونٹی کے قتل پر محمول کرنا ممکن ہے، کیونکہ چیونٹی کی اذیت کبھی جوں سے سخت ہوتی ہے، کیا تم نہیں جانتے کہ ابتداء
بلی کو مار ڈالنا جائز نہیں ہے، مگر اسی صورت میں جبکہ اس سے تکلیف پہنچے۔ اور ممکن ہے کہ جلا دینا (کا حکم) منسوخ
ہو یا جن کو بغیر جلانے کے قتل کرنا ممکن نہ ہو اس پر ضرورۃ محمول کیا جائے۔ اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ چیونٹی کو مار
ڈالنے کے بارے میں علماء نے بحث کی ہے اور مختار قول یہ ہے کہ جب وہ تکلیف دینا شروع کرے تو اس کو
مار ڈالنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر تکلیف دینا شروع نہ کرے تو اس کو قتل کرنا مکروہ ہے اور علماء نے اس پر اتفاق
کیا ہے کہ چیونٹی کو پانی میں ڈالنا مکروہ ہے اور جوؤں کو مار ڈالنا ہر حال میں جائز ہے (خلاصہ) اور ایک چیونٹی کے وجہ
سے چیونٹی کے گھر جلائے نہیں جائیں گے۔(فتاویٰ عتابیہ)۔
1 قوله النملة (چیونٹی) الخ کتاب حیوۃ الحیوان میں ہے چیونٹی جس چیز کو اپنے منہ میں اور پیروں میں پکڑی
ہو اس کو کھانا مکروہ ہے۔
حافظ ابونعیم نے کتاب طب نبوی میں صالح بن خوات بن جبیر سے بواسطہ ان کے والد ان کے دادا سے روایت
کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو کھانے سے منع فرمایا جس کو چیونٹی نے اپنے منہ اور پیروں
میں پکڑا ہو اور چیونٹی کو کھانا اس کے قتل کی ممانعت آنے کی وجہ سے حرام ہے۔(مرقاۃ)۔
2 قوله النحلة الخ (شہد کی مکھی) حیاۃ الحیوان میں ہے مجاہد نے شہد کی مکھی کو قتل کرنا مکروہ ہے اور اس کے
کھانے کو حرام قرار دیا ہے اگرچہ کہ شہد حلال ہے جس طرح عورت کہ اس کا دودھ حلال اور گوشت حرام ہے
اور سلف میں سے بعض نے ٹڈے کی طرح اس کو مباح قرار دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے قتل سے
منع فرمانا اس کے حرام ہونے کی دلیل ہے۔
اور کتاب ابانۃ میں ہے کہ شہد کی مکھی کی بیع مکروہ ہے جبکہ وہ چھتے میں ہو، اگر وہ پوری طرح سے دکھائی دے تو
(بیع) صحیح ہے، ورنہ وہ بیع غائب ہے، اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا شہد کی مکھی، ڈکوری اور تمام
حشرات الارض کی بیع درست نہیں۔(مرقات)۔
3 قوله الصرد صاحب مرقات نے کہا صرد ”ص“ کے ضمہ اور ”راء“ کے فتح کے ساتھ بڑے سر اور موٹی چونچ
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) والا ایک پرندہ ہے اس کا پر بڑا ہوتا ہے جو آدھا سفید اور آدھا کالا ہوتا ہے۔ (نہایہ)۔
غیاث اللغات میں منتخب سے منقول ہے صرد ایک بڑے سر کا پرندہ ہے جو چڑیا کا شکار کرتا ہے۔ ”ترجمہ شافیہ“
میں لکھا ہے اس کو فارسی میں ”وردکاک“ اور ہندی میں ”لٹورا“ کہتے ہیں۔ (اتقی)۔
صاحب مرقات نے کہا عرب صرد پرندے سے نحوست سمجھتے اور اس کی آواز اور اس کی نظر سے بدفالی لیتے ہیں،
پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل کرنے سے منع فرمایا تاکہ ان کے دل میں بدفالی کا جو اعتقاد جم گیا تھا، اس
کو نکال دیں، پس کہتا ہوں اور اس میں اس روایت کی طرف اشارہ ہے:
”اللهم لا طير الا طيرك و لا خير الا خيرك و لا اله غيرك اللهم لا ياتي بالحسنات الا
انت و لا يصرف السيئات الا انت“
(اے اللہ! فال تو صرف تیرا فال ہے بھلائی صرف تیری بھلائی ہے۔ اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے اللہ
نیکیوں کو تیرے سوا کوئی نہیں لاتا اور برائیوں کو تیرے سوا کوئی دفع نہیں کرتا)
اور برائیوں کو تیرے سوا کوئی نہیں دفع کرتا اور حیاۃ الحیوان میں ہے اس حدیث کی بنیاد پر صرد پرندے کے
کھانے کو حرام قرار دیا جانا ہی صحیح ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کو کھایا جا سکتا ہے کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے
محرم پر جب کہ وہ اس کو قتل کر دے تو اس میں جزاء کو واجب قرار دیا اور یہی بات امام مالک رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔
1 قوله: اكلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لحم حبارى. (میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ سرخاب کا گوشت کھایا ہے) امیری کی کتاب حیوۃ الحیوان میں ہے حباری لمبی گردن والا
خاکستری رنگ کا ایک پرندہ ہے جس کی چونچ میں تھوڑی سے لمبائی ہوتی ہے اور اس کی حالت یہ ہے کہ وہ شکار
کیا جاتا ہے وہ خود شکار نہیں کرتا۔ (مرقات)۔ صاحب بذل المجہود نے کہا سرخاب کے گوشت کے حلال
ہونے پر اجماع ہے، میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی اختلاف ہے۔
2 قوله نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اكل الجلالة، الخ. (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے جلالہ (غلاظت خور) جانور کو کھانے اور اس کے دودھ سے منع فرمایا ہے) شرح السنہ میں ہے اس جانور کے
بارے میں جو غلاظت کھاتا ہے حکم یہ ہے کہ اس کو دیکھا جائے گا پس اگر وہ کبھی کبھار گندگی کھاتا ہے تو وہ جلالہ
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) نہیں ہے اور اس کی وجہ سے اس کو کھانا حرام نہیں ہوگا، جیسا کہ مرغی ہے، اور اگر اس کی اکثر غذا
وہی ہے یہاں تک کہ اس کے گوشت اور دودھ میں اس کا اثر ظاہر ہو لیا تو اس کے کھانے میں علماء کا اختلاف
ہے۔ ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ اس کا کھانا حلال نہیں مگر یہ کہ چند دن اس کو قید میں رکھا جائے اس کو اس
کے سوا دوسرا چارہ کھلایا جائے یہاں تک کہ اس کا گوشت پاکیزہ ہو جائے یہ قول امام شافعی، امام احمد اور امام اعظم
ابوحنیفہ رحمہم اللہ کا ہے اور حسن بصری رحمہ اللہ جلالہ کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اور یہ امام مالک رحمہ اللہ کا
قول ہے اور امام اسحاق نے کہا اس کو اچھی طرح دھو لینے کے بعد اس کو کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ (مرقات)۔
اور صاحب رحمۃ الامۃ نے کہا اونٹ یا بکری یا مرغی میں سے جلالہ (غلاظت خور) کا کھانا بالاتفاق ائمہ ثلاثہ مکروہ ہے
اور امام احمد نے کہا اس کا گوشت اور دودھ اور انڈے حرام ہیں اگر اس کو قید میں رکھا جائے اور پاک غذا دی جائے
یہاں تک کہ نجاست کی بو زائل ہو جائے تو وہ حلال ہوگا اور بالاتفاق کراہیت ختم ہو جائے گی، پھر کہا گیا کہ اونٹ
اور گائے کو چالیس دن، بکری کو سات دن اور مرغی کو تین دن تک قید میں رکھا جائے۔ (انتہی)۔
رد المحتار فصل البئر میں ہے علماء نے صراحت کی ہے کہ جلالہ کی قربانی نہیں دی جاسکتی، جیسا کہ اضحیہ کے بیان
میں آئے گا، صاحب شرح وہبانیہ اور منتقی نے کہا جلالہ مکروہ ہے کہ تم جب اس کے قریب جاؤ تو اس سے بدبو
آنے لگے ایسی صورت میں اس کو کھایا نہیں جائے گا، اس کا دودھ نہیں پیا جائے گا اور اس پر سواری نہیں کی
جائے گی اور اس کو بیچنا اور اس کو ہبہ کرنا مکروہ ہے جبکہ اس کی یہ حالت ہو، اور بقالی نے ذکر کیا ہے کہ اس کا
پسینہ ناپاک ہے۔ مصنف نے کتاب الحظر والاباحۃ میں تصریح کی ہے کہ گدھی اور جلالہ کا گوشت مکروہ
ہے، اس مقام پر شارح نے کہا جلالہ کو قید کیا جائے حتی کہ اس کے گوشت کی بدبو ختم ہو جائے۔ راجح قول کے
مطابق مرغی کے لئے تین دن بکری کے لئے چار دن، اونٹ اور گائے کے لئے دس دن کی مدت کا اندازہ کیا
گیا ہے اور اگر وہ نجاست یا اس کے سوا دیگر چیزیں اس طرح کھائے کہ اس کا گوشت بدبودار نہ ہو تو حلال ہے
،اس سے معلوم ہوا کہ جس جلالہ کا پس خوردہ مکروہ ہے، اس سے مراد وہ ہے جو صرف نجاست کھاتا ہے۔ یہاں
تک کہ اس کا گوشت بدبودار ہو جاتا ہے تو اس وقت وہ کھایا نہیں جائے گا، اسی لئے صاحب جوہرہ نے کہا اگر وہ
غلاظت اور دوسری غذا کو مخلوط طور پر کھاتا ہو یا اس کی اکثریت غذا چوپایوں کی غذا ہو تو اس کا پس خوردہ مکروہ نہیں۔
1 قوله السنور من السبع. (بلی درندوں میں سے ہے) یعنی درندوں میں بلی بھی داخل ہے کیونکہ اس کو
کوچلی ہے، اپنی اس کوچلی سے وہ لڑتی ہے، لہذا بھیڑیے وغیرہ کی طرح اس کا بھی گوشت نہیں کھایا جائے گا۔
1 قوله لا باس بثمن السنور. (بلی کی قیمت لینے میں کوئی مضائقہ نہیں) یعنی چوپایوں میں سے تمام قسم
کے درندوں کی بیع درست ہے، یہاں تک کہ بلی کی، پس بلی کی بیع درست ہے کیونکہ اس سے گھر میں اذیت
دینے والی چیزوں کو دفع کرنے میں نفع اٹھایا جاتا ہے اور اس کی کھال سے بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے، اور
کوچلی والے درندوں کی بیع جیسا کہ شیر، چیتا، بجو، بھیڑیا اور پنجے والے پرندوں کی بیع بھی درست ہے،
کیونکہ ازروئے شرع ان سے نفع حاصل کرنا جائز ہے، سوائے خنزیر کے کیونکہ وہ نجس العین ہے اور اس سے
فائدہ حاصل کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح اس کی بیع بھی درست نہیں اور زمین کے کیڑے مکوڑوں کی بھی بیع
درست نہیں جیسا کہ گبریلا اور اسی طرح مچھلی کے سوا تمام سمندری کیڑے مکوڑوں کی جیسے کیکڑا (بیع بھی
درست نہیں) اگرچہ کہ وہ اذیت رساں نہ ہوں (ان) کی بیع درست نہیں، اور البتہ ہر قیمت والی چیز کی بیعت
درست ہے جیسا کہ ریت کی مچھلی ہے، اور اگر سانپوں سے دواؤں میں فائدہ حاصل ہوسکتا ہے تو ان کی بیع
درست ہے، ورنہ جائز نہیں ہے۔ (کنز اور شروح کنز کا خلاصہ)۔
1 قوله: من ولد له ولد فأحب ان ينسك عن ولده فليفعل، الخ. (جس کسی کو لڑکا پیدا ہوا اور وہ
اپنے لڑکے کی طرف سے ذبح کرنا چاہے تو وہ کرے) صاحب ردالمحتار نے ”کتاب الاضحیہ“ کے آخر میں کہا:
ائمہ ثلاثہ کے پاس جس کسی کو لڑکا پیدا ہوا اس کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ ساتویں دن اس کا نام رکھے اور اس کا
حلق کرے، اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی یا سونا صدقہ کرے، پھر حلق کرتے وقت بطور
اباحت عقیقہ کرے، جیسا کہ ”الجامع المحبوبی“ میں ہے یا بطور نفل جیسا کہ طحاوی کی شرح میں ہے اور
وہ (عقیقہ) ایسی بکری ہے جو قربانی کے قابل ہو اس کو نر، اور مادہ کے لئے ذبح کیا جائے گا، خواہ اس کا
گوشت پکا تقسیم کیا جائے یا اس کو کھٹے کے ساتھ پکا کر یا اس کے بغیر اس کی ہڈیوں کو توڑ کر یا بغیر توڑے کے
اور دعوت کر کے یا دعوت کئے بغیر۔ یہ امام مالک نے کہا ہے اور امام شافعی اور امام احمد نے اس کو سنت موکدہ
قرار دیا ہے، کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی جانب سے ایک بکری ہے (ملخص از غرر الافکار) اور
صاحب عرف شذی نے کہا: امام اعظم ابو حنیفہ کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ آپ عقیقہ کے قائل نہیں
ہیں اور اس وہم کا باعث موطا میں مذکور امام محمد رحمہ اللہ کی ایک عبارت بنی ہے اور حق یہ ہے کہ ہمارے
مسلک میں پیدائش کے بعد ساتویں یا چودھویں یا اکیسویں دن اس کا کرنا مستحب ہے، اور وہ اسی دن اس کا
نام رکھے گا، اور عمدۃ القاری میں ہے، امام اعظم ابو حنیفہ نے کہا: عقیقہ سنت نہیں، اور صاحب ”توضیح“ نے
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور کوفیین سے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ بدعت ہے اور اسی طرح ان
میں سے بعض نے اس کی شرح میں کہا: وہ صاحب جس سے یہ منقول ہے کہ وہ بدعت ہے وہ امام اعظم
ابوحنیفہ ہیں، میں کہتا ہوں: یہ بہتان ہے پس امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی طرف اس کو منسوب کرنا جائز نہیں
ہے اور یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ امام صاحب اس طرح کہے ہوں، اور آپ نے تو صرف یہ فرمایا وہ سنت نہیں
ہے تو آپ کی مراد یہ ہے کہ یا تو وہ سنت ثابتہ نہیں ہے یا تو سنت موکدہ نہیں ہے۔
1 قولہ: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عق عن الحسن و الحسين كبشا كبشا. (رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کا ایک ایک مینڈھے سے عقیقہ کیے) امام اعظم ابوحنیفہ و امام
مالک رحمہما اللہ نے یہی کہا ہے، چنانچہ ان کے نزدیک لڑکا اور لڑکی کے لئے صرف ایک ایک بکری ذبح کی جائے
گی۔
اور امام شافعی و امام احمد رحمہما اللہ کے پاس لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح
کی جائے گی۔ (ردالمحتار، غرر الافکار)۔
1 قوله: لا عموم لها عندنا. (اس میں ہمارے نزدیک کوئی عموم نہیں) اور ائمہ ثلاثہ کے پاس بچے کے
بالوں کے برابر چاندی یا سونا صدقہ کیا جائے گا۔ (ردالمحتار، غرر الاذکار، مسوی)۔
2 قوله: ويحنكهم. (اور ان کی تحنیک فرماتے) امام نوویؒ کہتے ہیں اس حدیث میں کئی فوائد ہیں: منجملہ ان
کے بچے کی پیدائش کے وقت اس کی تحنیک کرنا اور یہ بالاجماع سنت ہے (اھ)۔
اور امام نووی رحمہ اللہ نے دوسرے مقام پر کہا ولادت کے موقع پر کھجور سے بچے کی تحنیک مستحب ہونے پر علماء
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) نے اتفاق کیا ہے۔ پس اگر وہ مل سکے تو اس جیسی اور اسی کے قریب کسی بھی میٹھی چیز سے کرے
،پس تحنیک کرنے والا کھجور کو چبائے یہاں تک کہ وہ اس قدر سیال ہو جائے کہ اس کو نگلا جا سکے، پھر نومولود کا
منہ کھولے اور اس کو اس میں ڈالے تا کہ اس میں سے کچھ اس کے سینہ میں چلا جائے اور یہ بہتر ہے کہ تحنیک
کرنے والے صالحین میں سے اور ان حضرات میں سے ہوں جن سے برکت حاصل کی جاتی ہے، خواہ وہ مرد
ہوں کہ عورت۔ اور اگر وہ نومولود کے پاس حاضر نہ ہو تو اس کو ان کے پاس اٹھا کر لے جایا جائے۔
1 قولہ: اذن فی اذن الحسن، الخ۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسنؓ کے کان میں اذان دی) صاحب
مرقات نے کہا: اور یہ حدیث نومولود کے کان میں اذان دینے کے سنت ہونے کی دلیل ہے، اور شرح السنہ
میں ہے: روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو اس کے دائیں کان میں اذان
دیتے اور بائیں کان میں اقامت کہتے، میں کہتا ہوں: مسند ابویعلی موصلی میں حسین رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً
روایت آئی ہے کہ جس شخص کو کوئی لڑکا پیدا ہوا اور وہ اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت
کہے تو اس کو ام الصبیان (بچوں کی مسان کی بیماری) نقصان نہیں پہنچائے گی۔ (اھ)۔
اور صاحب ردالمختار نے ”باب الاذان“ میں کہا ہے: نمازوں کے سوا کسی کام کے لئے اذان دینا مسنون نہیں
ہے۔ ورنہ نومولود کے لئے وہ مستحب ہوتی“۔
1 قوله: بركة الطعام الوضوء قبله والوضوء بعده: (کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور کھانے کے
بعد بھی وضو کرنے میں ہے) یعنی (وضو سے مراد) دونوں ہاتھوں کا دھونا۔
کل کا اطلاق جز پر مجازاً کیا گیا ہے یا یہ معنی لغوی اور معنی عرفی پر مبنی ہے (مرقات)۔ عالمگیری میں ہے کہ
کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونا سنت ہے۔ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کے آداب یہ ہیں کہ
(ہاتھ دھونا) نوجوانوں سے شروع کیا جائے پھر عمر رسیدہ حضرات سے (کھانے کے بعد اس کے برعکس
کیا جائے)۔ (ظہیریہ)۔
نجم الائمہ بخاری اور دوسروں نے کہا ایک ہاتھ کا دھونا یا دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کا دھونا کھانے سے قبل ہاتھ
دھونے کی سنت کے لئے کافی نہیں ہوگا کیونکہ احادیث میں ”غسل اليدين“ دونوں ہاتھوں کا دھونا مذکور
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) ہے اور وہ کھالا پیروں تک ہوتا ہے (قنیہ 2) کھانے سے قبل وہ اپنے ہاتھ کو رتی سے نہ پونچھے
تا کہ کھا کے وقت دھونے کا اثر باقی رہے اور کھانے کے بعد اپنے ہاتھ کو پونچھ لے تا کہ کھانے کا اثر مکمل طور پر
زائل ہو جائے۔ (خزانۃ المفتین)۔
کتاب یتیمیہ میں ہے کہ بیرے والے سے کھانے کے وقت منہ دھونے سے متعلق دریافت کیا گیا کہ کیا وہ ہاتھ
دھونے کی طرح سنت ہے تو انہوں نے کہا نہیں (تاتارخانیہ میں اسی طرح ہے) جنبی خواہ مرد ہو یا عورت
دونوں کیلئے دونوں ہاتھ اور منہ دھونے سے قبل کھانا پینا مکروہ ہے۔ حائضہ عورت کیلئے مکروہ نہیں ہے۔ تمام
مقامات میں منہ کو صاف کرنا مستحب ہے۔ (فتاوی قاضی خان)۔
1 قوله وهو في المسجد فاكل واكلنا معه (جبکہ آپ مسجد میں تھے تو آپ تناول فرمائے اور ہم بھی
آپ کے ساتھ کھائے) ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ اعتکاف میں تھے یا آپ کے پاس مہمان موجود تھے یا
آپ ﷺ نے بیان جواز کیلئے ایسا کیا کیونکہ مسجد میں کھانا مباح ہے بشرطیکہ مسجد ملوث نہ ہو۔ (مرقات)۔
2 قوله ولم نزد على ان مسحنا ايدينا بالحصباء (اور ہم نے اپنے ہاتھوں کو کنکریوں سے پونچھنے سے
زیادہ نہیں کیا) صاحب مرقات نے کہا شارحین حدیث میں سے ہمارے بعض علماء نے کہا ہے کہ کھانے کے
وقت اور کھانے سے فارغ ہونے کے وقت وضو کرنا ایسے کھانے میں مستحب ہے جس سے ہاتھ ملوث
ہوتا ہے۔ اور اس سے چکناہٹ پیدا ہوتی ہے۔
1 قوله: سَمِّ اللّٰهَ (اللہ کا نام لو) الخ جمہور علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ اس حدیث شریف میں تینوں
احکام استحبابی ہیں اور بعض علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ دائیں ہاتھ سے کھانے کا حکم وجوب کے لئے
ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ کھانے کے شروع میں تسمیہ کا مستحب ہونا متفق علیہ ہے اسی طرح
کھانے کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنا مستحب ہے۔
علماء نے کہا: تسمیہ بالجہر مستحب ہے تاکہ دوسرے کو تنبیہ ہو اور اگر اس نے عمداً یا بھول کر یا ناواقفیت سے یا
زبردستی یا کسی عارض کی وجہ سے عاجز ہو کر تسمیہ ترک کردے پھر کھانے کے دوران قدرت پالے تو اس کے
لئے بسم اللہ کہنا مستحب ہے۔ (کھانے والے کیلئے) بسم اللہ کہنے سے تسمیہ حاصل ہوجائے گا۔ اور اگر اس کے
بعد الرحمن الرحیم کہے تو اچھا ہے۔ کھانے والوں میں سے ہر ایک تسمیہ پڑھے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول
ہے کہ اگر ان میں سے کسی ایک نے بھی بسم اللہ پڑھ لیا تو تسمیہ حاصل ہوجائے گا۔
پانی، دودھ، شہد، شوربہ، دواء اور تمام مشروبات کے پیتے وقت اسی طرح بسم اللہ کہنا ہے جس طرح کھانے پر
کہنا ہے۔ (ماخوذ از مرقات عمدۃ القاری)۔
صاحب درمختار اور ردالمحتار نے کہا کہ کھانے کی سنت ابتداء میں بسم اللہ اور آخر میں الحمدللہ کہنا ہے۔ اگر
(ابتداء میں) بسم اللہ کہنا بھول جائے تو ”بسم الله على اوله واخره“ کہے۔ (الاختیار)۔
جب تم بسم اللہ کہو تو اپنی آواز کو بلند کرو تاکہ تمام اپنے ساتھ والوں کو تلقین کرسکو اور حمد میں آواز کو بلند نہ کیا جائے مگر
یہ کہ وہ کھانے سے فارغ ہوجائیں۔ (تاتارخانیہ)۔
کھانے پر بسم اللہ اس وقت کہا جائے گا جبکہ کھانا حلال اور آخر میں حمد بیان کرے چاہے کھانا کیسا بھی ہو۔ (قنیہ)۔
1 قولہ كل بيمينك (اپنے سیدھے ہاتھ سے کھاؤ): صاحب عمدۃ القاری نے کہا: ہمارے شیخ زین الدین
نے کہا سامنے سے کھانے اور سیدھے کھانے کے حکم کو ہمارے اکثر اصحاب نے استحباب پر محمول کیا ہے۔
امام غزالی اور امام نووی نے اسی کی صراحت کی ہے۔ اور امام شافعی نے کتاب الام میں اس کے واجب ہونے
کو بیان کیا۔ علامہ قرطبی کا خیال ہے کہ سیدھے ہاتھ سے کھانا استحباب پر محمول ہے۔ اس لئے کہ یہ حکم سیدھے
ہاتھ کی بزرگی کو ظاہر کرنے کے باب سے ہے۔ اور اس لئے کہ سیدھا ہاتھ کاموں میں زیادہ قوت اور سبقت
والا اور زیادہ قدرت رکھنے والا ہوتا ہے۔ اور اس لئے بھی کہ وہ یمن اور برکت سے مشتق ہے۔
ابوداؤد کی حدیث میں اپنے سیدھے ہاتھ کو اپنے کھانے اور پینے کے لئے رکھے اور اپنے بائیں ہاتھ کو اس کے
ماسوا چیزوں کیلئے۔ اور اگر بائیں ہاتھ سے مدد لینے کی ضرورت لاحق ہو تو یہ ایک ضمنی حکم کے طور پر ہے۔
2 قولہ: كل مما يليك (اپنے سامنے سے کھاؤ): صاحب عمدۃ القاری نے کہا اور قرطبی نے ذکر کیا کہ
کھانے والے کا اپنے سامنے سے کھانا متفق علیہ سنت ہے اور اس کے خلاف کرنا مکروہ اور نہایت برا
سمجھا گیا ہے جبکہ کھانا ایک قسم کا ہو۔
اور صاحب ردالمحتار نے کہا کہ برتن کے درمیان سے نہ کھانا سنت ہے کیونکہ برکت برتن کے درمیان نازل
ہوتی ہے اور ایک ہی جگہ سے کھائے کیونکہ وہ ایک ہی قسم کا کھانا ہے۔ برخلاف ایسی طبق کے جس میں مختلف قسم
کے پھل ہو تو جہاں سے چاہے کھا سکتا ہے کیونکہ وہ مختلف اقسام ہیں۔
1 قوله: ان الشيطان يستحل الطعام ......... الخ (شیطان کھانے کو حلال کر لیتا ہے) امام نووی نے
کہا: درست بات وہی ہے جس پر محدثین فقہاء اور متکلمین میں سے جمہور علماء معتقد ہیں و متاخرین متفق ہیں کہ
یہ حدیث اور اس جیسی احادیث جو شیطان کے کھانے سے متعلق وارد ہوئی ہیں اپنے ظاہر پر محمول ہیں اور یہ کہ
شیطان حقیقت میں کھاتا ہے جبکہ عقل اسکو محال قرار نہیں دیتی ہے اور شریعت بھی اس کا انکار نہیں کرتی بلکہ اسکو
ثابت کرتی ہے۔ پس اس کو قبول کرنا اور اس کا اعتقاد رکھنا واجب ہے۔
1 قوله: فنسى ان يذكر الله على طعامه .....الخ (اپنے کھانے پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا بھول جائے) اس میں
اس بات کی خبر دینا کہ کھانے کے شروع میں مطلق اللہ تعالیٰ کا ذکر کافی ہے لیکن بسم اللہ (بسم اللہ پڑھنا) افضل ہے۔
محیط میں ہے اگر کوئی وضو کے شروع میں لا اله الا الله ”یا“ الحمدلله ”یا“ اشهد ان لا اله الا الله
کہے تو سنت کو تمام کرنے والا ہوگا اسی طرح کا حکم کھانے کے شروع میں کہنے کا ہے کیونکہ تسمیہ وضو کے شروع
میں زیادہ موکد ہے۔
اور ابن ہمام نے کہا کہ کوئی تسمیہ بھول جائے اور وضو کے دوران یاد آئے تو بسم اللہ پڑھے تو سنت حاصل نہیں
ہوگی برخلاف کھانے کے (العنایہ)۔ انہوں نے اس کی علت یہ بیان کی کہ وضو ایک ہی عمل ہے برخلاف
کھانے کے۔ اور وہ (بسم اللہ پڑھنا) ما باقی کھانے میں بھی حصول سنت کا موجب ہے۔ فوت شدہ چیز کا
تدارک نہیں (مرقات)۔
2 قوله: فلما ذكر اسم الله .......الخ (جب اس نے اللہ تعالیٰ کا نام لیا) کھانے پر تسمیہ سے متعلق علماء
نے اختلاف کیا ہے، امام احمد کے اصحاب وجوب کے قائل ہیں اور جمہور علماء اس کے مسنون ہونے پر متفق
ہیں (بذل المجهود)۔
1 قوله: يا كل بثلاثة اصابع ويلعق يده الخ (تین انگلیوں سے کھایا کرتے اور اپنے ہاتھ کو چاٹا کرتے
تھے) اس باب میں متعدد نوعیت سے کلام ہے) پہلی یہ کہ ہاتھ کی پاکی کو برقرار رکھنے کے لئے اور تکبر کو دور
کرنے کے لئے چاٹنا مستحب ہے اور جمہور علماء کے پاس اس میں امر استحباب اور ارشاد پر محمول ہے اور
اصحاب ظواہر نے اس کو وجوب پر محمول کیا ہے۔ خطابی نے کہا: ایک قوم انگلیوں کے چاٹنے کو معیوب سمجھتی ہے
کیونکہ عیش پسندی نے ان کی عقلوں کو بگاڑ دیا ہے اور شکم سیری اور بدہضمی نے ان کی طبیعتوں کو بدل دیا ہے
اور انہوں نے سمجھ لیا کہ انگلیوں کو چاٹنا برا ہے یا مکروہ ہے کیا انہوں نے نہیں جانا کہ جو چیز اس کے انگلیوں پر
ہے وہ اسی کا ایک حصہ ہے جو اس نے کھایا ہے۔ پس اس سے وہی آدمی دور رہتا ہے جو (متکبر اور نازک
الست عشرت پسند ہوتا ہے)۔
دوسری یہ کہ انگلیوں کو چاٹنے میں مجمل حکمت وہ بات ہے جو امام ترمذی کی تخریج کردہ حضرت ابوہریرہؓ کی
حدیث میں مذکور ہے انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو اپنے انگلیوں کو
چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کس کھانے میں برکت ہے۔ امام مسلم وغیرہ نے بھی اس کی تخریج کی
ہے یعنی یہ حدیث اس چیز کے متعلق ہے جو اس نے کھایا ہے اور جو اس کے انگلیوں پر باقی رہ گیا ہے اور جو
اس کے برتن میں باقی رہ گیا ہے، اس کو چاہیے کہ حصول برکت کی امید میں اپنے ہاتھ کو چاٹ لے اور برتن کو
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) پونچھے اور برکت سے مراد واللہ اعلم وہ چیز ہے جس سے غذا حاصل ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ
تکلیف سے محفوظ رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت وغیرہ پر تقویت دینے والی ہوتی ہے۔ امام نووی نے کہا کہ
اصل برکت زیادتی اور خیر کا ثبوت ہے۔
تیسری یہ کہ انگلیوں کو چاٹنے میں مناسب ہے کہ وہ بیچ کی انگلی سے ابتداء کرے پھر شہادت کی انگلی پھر انگوٹھا
جیسا کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں آیا جس کو طبرانی نے الاوسط میں روایت کیا ہے۔ چوتھی
یہ کہ تین انگلیوں سے کھانا سنت ہے اور اگر وہ پانچ انگلیوں سے کھائے تو کوئی مانع نہیں لیکن وہ سنت کا ترک
کرنے والا ہوگا سوائے ضرورت کے برتن کو چاٹنے کا مستحب ہونا بھی وارد ہوا ہے عرباض بن
ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی بناء پر جس کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: جو شخص برتن کو اور اپنی انگلیوں کو چاٹتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت میں شکم سیر کرتا ہے۔ امام ترمذی
نے پیالہ کا استغفار کرنا بھی روایت کیا ہے۔ پانچویں یہ کہ برتن کو چاٹنے کا مستحب ہونا بھی وارد ہوا ہے عرباض
بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی بناء پر جس کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص برتن کو اور اپنی انگلیوں کو چاٹتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت میں شکم
سیر کر دیتا ہے۔ امام ترمذی نے پیالہ کا استغفار کرنا بھی روایت کیا ہے۔ چھٹی یہ کہ پیالے کے استغفار کرنے
سے کیا مراد ہے؟ احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں تمیز یا گویائی پیدا کرے جس سے وہ مغفرت طلب کرے گا۔
اور بعض احادیث میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ وہ یہ کہتا ہے ”اللہ تعالیٰ تجھے آگ سے بچائے جس طرح تو نے مجھے
شیطان سے بچایا“ اور اس کے حقیقی معنی میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ وہ مجازاً
ہوا اور اس سے کنایہ کیا گیا ہو۔ (ماخوذ از عمدۃ القاری)۔
1 قوله: كل من حيث شئت (جہاں سے چاہے تو کھاؤ): ابن ملک نے کہا: اس میں تنبیہ ہے اس بات پر
کہ میوہ اگر ایک قسم کا ہو تو کھانے کی طرح اپنے ہاتھ کو اس میں گھمانا جائز نہیں ہے اور اس بات کا آگاہ کرنا ہے
کہ اگر کھانا مختلف قسم کا ہو تو ہاتھ گھمانا جائز ہے اور وہ جس قسم (کے کھانے) چاہے کھائے۔ (مرقات)۔
1 قوله: هذا الوضوء ...... الخ (یہ وضو ہے): وضو سے وضوء عرفی مراد ہے یعنی دونوں ہاتھوں کو دھونا اس
چیز کی وجہ سے جس کو آگ نے متغیر کردیا ہے۔ یعنی اس کھانے کی وجہ سے جس کو آگ سے پکایا گیا ہو اب رہا
وضوء شرعی تو وہ ابتداء اسلام میں تھا پھر اس جیسی احادیث سے منسوخ ہو گیا۔ (مرقات الکوکب الدری)۔
2 قوله: فاذا سقطت من احدكم اللقمة ........ الخ (پس تم میں سے کسی سے کوئی لقمہ گر جائے)
صاحب ردالمختار نے کہا کہ ہاتھ سے گرا ہوا لقمہ نہ چھوڑنا مسنون ہے کیونکہ چھوڑنا اسراف ہے بلکہ مناسب
ہے کہ اسی کو لے۔
1 قوله: لا آكل متكئًا ......... الخ (میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ہوں) صاحب عمدۃ القاری نے کہا: ہمارے
شیخ زین الدین رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: امام ترمذی نے ٹیک لگا کر کھانے کی احادیث کو کراہت پر محمول کیا ہے
جیسا کہ انہوں نے اس باب پر قائم کیا ہے اور یہی جمہور کا قول ہے۔ ایک سے زائد صحابہ و تابعین نے ٹیک
لگا کر کھایا ہے۔ - (مصنف ابن ابی شیبہ)۔
پھر انہوں نے کہا کھانے کی حالت میں ٹیک لگانے کی مراد سے متعلق اختلاف کیا گیا ہے پس کہا گیا ہے کہ اس
سے مراد چار زانو بیٹھنے والا ہے۔ کھانے کیلئے تیار ہونے والے کی طرح ہے ان کا کلام ختم ہوا۔ اور تلویح میں
ہے یہاں پر ٹیک لگانے والے سے مراد وہ شخص ہے جو گدی پر جو اس کے نیچے ہے جم کر بیٹھنے والا ہے اور ہر وہ
شخص جو گدی پر برابر بیٹھ جائے وہی ٹیک لگانے والا ہے گویا کہ اس نے اپنی مقعد کو باندھ دیا ہے اور اس کے
نیچے گدی پر بیٹھ کر اس کو بند کر لیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ٹیک لگانے سے مراد اپنے دونوں پہلوؤں میں سے کسی
ایک پر ٹیک لگانے والا ہے اور وہ متکبرین کا عمل ہے۔ خطابی نے کہا عوام الناس کے مطابق ٹیک لگانے والا وہ
شخص ہے جو اپنے دونوں پہلوؤں میں سے کسی ایک کی طرف مائل ہو۔ اور یہ اس طرح نہیں ہے بلکہ ٹیک
لگانے والا یہاں وہ شخص ہے جو اپنے نیچے کی گدی پر جم کر بیٹھنے والا ہوا اور ہر وہ شخص جو اپنی گدی پر سیدھے بیٹھ
جائے پس وہی ٹیک لگانے والا ہے۔ یعنی جب میں کھاتا ہوں تو گدی پر زیادہ کھانے والے کی طرح جم کر نہیں
بیٹھتا ہوں بلکہ میں تھوڑا کھانا کھاتا ہوں، پس میرا بیٹھنا اس کے لئے جم کر نہیں ہوتا ہے۔ ترمذی کے الفاظ یہ
ہیں اب رہا میں تو (ٹیک) لگا کر نہیں کھاتا ہوں۔ اس سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ ٹیک لگا کر کھانے کو
ترک کرنا آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے ہیں۔ تحقیق کے ابوالعباس بن العاص نے اسکو آپ ﷺ کے
خصائص میں شمار کیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ آپ ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ طبرانی نے اوسط میں
ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ٹیک لگا کر
مت کھاؤ اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں۔ بیہقی نے کہا یقیناً اس کو اس لئے بھی ناپسند کیا گیا ہے کہ یہ متکبرین کا
عمل ہے اور یہ عجم کے بادشاہوں سے لیا گیا ہے۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس خالد بن ولید عبیدہ سلمانی محمد
بن سیرین عطاء بن یسار رحمہم اللہ سے اس کے مطلقاً جائز ہونے کی تخریج کی ہے۔ جب اس کا مکروہ
ہونا یا خلاف اولیٰ ہونا ثابت ہو جائے تو کھانے والے کے لئے بیٹھنے کے طریقے کے بارے میں مستحب یہ ہے
کہ اپنے دونوں گھٹنوں اور دونوں قدموں کے پشت کے بل بیٹھے یا اپنے سیدھے پاؤں کو کھڑا کرے اور
بائیں پیر پر بیٹھے (عمدۃ القاری کا کلام ختم ہوا) اس لئے میں کہتا ہوں کہ عالمگیری میں ہے ٹیک لگا کر اپنے
بائیں ہاتھ کو زمین پر رکھ کر یا سہارا لگا کر کھانا اور پینا مکروہ ہے (فتاویٰ عتابیہ) صاحب رد المحتار نے کہا ٹیک
لے کر یا کھلے سر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور عالمگیری میں یہ بھی ہے کہ ٹیک لگا کر کھانے میں کوئی
حرج نہیں جبکہ وہ تکبر کی وجہ سے نہ ہو اور ظہیریہ میں ہے یہی قول مختار ہے۔ - (جواہر الاخلاطی)۔
1 قوله: ما اكل النبي صلى الله عليه وسلم على خوان (نبی کریم ﷺ نے چوکی پر نہیں کھایا) عمدۃ القاری میں ہے قوم
نے جو کچھ ذکر کیا ہے وہ خوان کی ہیئت کی مکمل صراحت نہیں ہے اور وہ تانبہ کا ایک بڑا طبق ہے جس کے نیچے
تانبے کی اس کے ساتھ لگی ہوئی کرسی ہوتی ہے جس کی لمبائی ایک ذراع کے مقدار ہوتی ہے جس میں خوشبو
ڈالی جاتی تھی اور عیش پسند لوگوں میں سے کسی بڑے کے سامنے رکھا جاتا ہے اور جس کو دو یا دو سے زائد افراد
ہی اٹھاتے ہیں۔ تورپشتی نے کہا لفظ خوان معرب ہے جس پر کھایا جاتا ہے اور اس پر کھانا ہمیشہ خوشحال زندگی
والوں کی عادت اور متکبرین کا عمل رہا ہے تاکہ ان کو کھاتے وقت جھکنے کی ضرورت نہ ہو۔ (انتہی)۔
صاحب مرقات نے کہا نہایہ میں ہے: سفرہ وہ کھانا ہے جس کو مسافر تیار کرتا ہے اور اکثر اس کو گول چمڑے میں
اٹھایا جاتا ہے پس کھانے کا نام اس چمڑے کو دیا گیا اور اس سے موسوم کر دیا گیا جیسا کہ پکھال کو راویہ نام
دیا گیا اور اس کے سوا بہت سے اسماء منقولہ ہیں پھر وہ ایسی چیز کے لئے مشہور ہو گیا جس پر کھانا رکھا جاتا ہے
چمڑا ہو یا اس کے علاوہ سوائے مائدہ، اس چیز کی وجہ سے جو گزر گیا ہے کہ وہ عام طور پر متکبرین کی علامت ہے
(سلسلہ صفحہ گزشتہ) پس سفرہ پر کھانا سنت ہے اور خوان (چوکی) پر کھانا بدعت ہے لیکن وہ جائز ہے۔
الکوکب الدری میں ہے چوکی پر کھانا یا تو عمداً ہوگا یا اتفاقاً۔ اگر پہلا ہو تو اس کی کراہت لازم ہے اگر دوسرا ہو تو چوکی
پر کھانے میں کوئی حرج نہیں مگر یہ کہ وہ متکبرین کی عادت سے ہونے کی بناء پر مسنون ہوگا جبکہ وہ ان کی عادت ہو۔
حاصل کلام یہ ہے کہ چوکی پر کھانا حقیقت میں ترک اولی سے زائد نہیں ہوگا۔ اب رہا جب اس سے یہود
ونصاری سے تشبہ لازم ہوتا ہو جیسا کہ ہمارے ملک میں ہے تو وہ مکروہ تحریمی ہے۔ اب رہا جب وہ ان کی
عادت نہ ہو تو بھی چند فوائد کے چھوٹ جانے سے خالی نہیں ہے کیونکہ جب کھانا بلند مقام پر ہوگا تو وہ اس کے
کھانے میں تھکنے پر مجبور ہوگا تو اس سے پیٹ کی گنجائش کم ہوگی اور وہ تھوڑے سے کھانے پر اکتفا کرے گا۔
اور یہ کہ اس ہیئت پر بیٹھنے سے عاجزی انکساری آتی ہے برخلاف اس کے۔ اسی طرح چھوٹی پیالی کا حکم ہے۔
اور وہ سکوری سے معرب ہے اور وہ اس سے معرب نہ ہو تو بھی اسی کے معنی میں ہے اور وہ حضور پاک صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک (قسم کے) کھانے پر اکتفا کرنے کی بناء پر ہے کیونکہ وہ کم کھانے کا سبب ہے۔ اور
متخم (کا کھانا) کثرت طعام کا موجب ہوتا ہے اور میدہ کی روٹی کا حکم اسی قیاس پر ہے۔ کیونکہ وہ مترفہ
الحال آسودہ زندگی والوں کی عادت ہونے کے ساتھ کھانے والے کے لئے زیادہ کھانے کا سبب بنتا ہے
علاوہ ازیں گیہوں کی کمی کے باوجود ان کے پاس چھلنیاں نہیں تھے جس سے آٹا چھانا جاتا اور اس وقت عموماً ان
کا کھانا جو ہی تھا۔
1 قولہ: ما اعلم النبي ﷺ رأى رغيفًا مرققا (میں نہیں جانتا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی دونوں آنکھوں
سے میدہ کی چپاتی دیکھی ہو) ابن بطال نے کہا میدہ کی چپاتی کھانا جائز ہے مباح ہے اور ہمارے آقا رسول
اکرم ﷺ نے اس کو صرف دنیا سے بے رغبتی اور عیش و عشرت کے ترک کرنے اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے اس
کو ترجیح دینے وغیرہ کے لئے چھوڑا ہے۔ (عمدۃ القاری)۔
اور عالمگیری میں ہے فالودہ اور اقسام کے لذیذ کھانے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اسی طرح ظہیریہ میں
ہے اور اقسام کے میوہ جات سے لذت پانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ اس کو ترک کرنا افضل ہے۔
(خزانۃ المفتین)۔
Commentary and footnotes (5)
Note 2
(2) The statement: “Forbade eating lizard meat”: Lizard is called “susmar” in Persian and “goh” in Hindi. It is disliked by us. Our jurists say it is prohibitively disliked; our hadith scholars say it is mildly disliked. Al-Shafi’i and others say it is permissible. We say the Prophet (ﷺ) was uncertain initially, then settled on avoiding it. Shafi’is say the prohibition was initial, then permitted. Authentic hadiths exist for both permission and prohibition, differing in sequence. Muslim’s narration of the prohibition as final suffices. In “Urf al-Shadhi.” In “Bazl al-Majhud,” the Prophet (ﷺ) initially permitted it but avoided it out of disgust, saying it was not in his people’s land, so he found it repulsive. He hesitated, suspecting it might be metamorphosed, neither commanding nor prohibiting it, leaving it permissible initially. Later, he prohibited it, making it prohibited. This view prioritizes prohibition over permission.
Note 3
(3) The statement: “Remained silent on it, etc.”: Al-Mundhiri said: Its chain includes Ismail ibn Ayyash and Damdam ibn Zur’ah, who are debated. We say: Ismail’s narrations from Syrians are authentic, and Damdam is Syrian (from Homs). Al-Bayhaqi admitted his narrations from Syrians are authentic, as in the hadith on not performing wudu from blood, so Abu Dawud’s silence indicates it is hasan or sahih. Bukhari, Ibn Ma’in, and others affirmed Ismail’s authenticity from Syrians. Damdam is truthful but prone to errors, a trait in many Sahih narrators, so the hadith is authentic. Al-Ayni said: Al-Tirmidhi authenticated Ismail’s narration from Sharhabil ibn Muslim from Abu Umamah, so the chain is authentic. Thus, in “Tansiq al-Nizam.”
Note 2
(٢) قوله: نهى عن أكل لحم الضب: يقال للضب في الفارسية: (سوسمار). وفي الهندية (گوه). وهذه مكروهة عندنا. وقالفقهاؤنا بكراهة تحريمة، ومحدثونا بكراهة تنزيهة. وقال الشافعي وغيره: إنها حلال، ونقول: إنه عليه السلام كان متوقفا في أولالزمان، ثم استقر رأيه على تركه. وقال الشافعية: إن النهي كان أولا ثم أجاز النبي صلي الله عليه واله وسلم ، وأقوال الأحاديث الصحاحفي الإجازة والنهي موجودة، والخلاف في الترتيب، ويكفينا ما ذكره مسلم في كتابه؛ فإنه ذكر النهي آخرًا. قاله في (العرف الشذي). وقال في (بذل المجهود): إن رسول اللّٰه :صلي الله عليه واله وسلم أباحه أولا، ولكن ترك أكله تقذُّرًا، واعتذر بأنه لميكن في أرض قومي فأجدني أعافه، ثم تردد فيه باحتمال كونها من الممسوخات، فلم يأمر فيه بشيء ولم ينه عنه، فكانفي حكم الإباحة الأصلية، ثم بعد ذلك نهى عنه، فصار حراما، وهذا الوجه أولى؛ لأن فيه تغليب الحظر على الإباحة.
Note 3
(٣) قوله: وسكت عليه إلخ: قال المنذري: في إسناده إسماعيل بن عياش وضمضم بن زرعة، وفيهما مقال، قلنا:إسماعيل إذا روى عن الشاميين كان حديثه صحيحا حجة كما صرحوا، وضمضم حمصي فهو شامي؛ لأن حمص منالشام. وقد اعترف البيهقي نفسه بأن حديثه عن الشاميين صحيح في ترك الوضوء من الدم، ولذا سكت عليه أبوداود، فهو حسن أو صحيح عنده. وقد صرَّح البخاري وابن مَعين وغيرهما أن حديثه عنهم صحيح، وأما ضمضمفجملة القول فيه: إنه صدوق يهم، وهذه الصفة موجودة في كثير من رجال الصحيحين، فالحديث صحيح. وقالالعيني: وقد صحح الترمذي لابن عياش عن شرحبيل بن مسلم عن أبي أمامة، فقد صحَّ الإسناد. كذا في (تنسيقالنظام).
Note 1
1 ”نهى عن اكل لحم الضب“. (گھوڑ پھوڑ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا)۔ ضب کو فارسی میں ”سوسمار“ کہا جاتا ہے اور ہندی زبان میں ”گوہ“ کہا جاتا ہے اور یہ ہمارے پاس مکروہ ہے اور ہمارے فقہاء کراہت تحریمی کے قائل ہیں اور ہمارے محدثین کراہت تنزیہی کے قائل ہیں۔ امام شافعیؒ اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ وہ حلال ہے اور ہم کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ ابتداء زمانہ میں اس کے بارے میں توقف فرمائے ہوئے تھے پھر آپ ﷺ کی رائے مبارک اس کے ترک پر قائم ہوگئی اور شافعیہ نے کہا کہ ممانعت ابتداء میں تھی۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اس کی اجازت مرحمت فرمائی اور میں کہتا ہوں کہ اجازت اور ممانعت ہر دو سے متعلق صحیح حدیث موجود ہیں اور اختلاف ترتیب (تقدیم و تاخیر) کے بارے میں ہے اور امام مسلم نے اپنی کتاب میں جو ذکر کیا ہے وہ ہمارے لئے کافی ہے کہ انہوں نے ممانعت والی احادیث کا ذکر آخر میں ذکر کیا ہے یہ بات صاحب عرف شذی نے بتائی ہے اور صاحب بذل المجہود نے کہا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ابتداء میں اس کو جائز قرار دیا تھا۔ لیکن کراہت و ناگواری کے باعث اس کو ترک فرما دیا اور یہ عذر بیان فرمایا کہ یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں ہوتا ہے اس لئے میں اپنے آپ کو اس سے نفرت کرتے ہوئے پاتا ہوں پھر اس کے بارے میں آپ ﷺ نے توقف فرمایا اس احتمال پر کہ یہ مسخ شدہ جانوروں کی قسم سے ہو، پس آپ ﷺ نے اس سلسلہ میں کوئی امر نہیں فرمایا اور نہ اس سے منع فرمایا۔ لہذا یہ اباحت اصلیہ کے حکم میں ہوگا۔ پھر اس کے بعد آپ نے اس سے ممانعت فرما دی لہذا وہ حرام ہوگیا اور یہ توجیہ سب سے بہتر توجیہ ہے کیونکہ اس میں حرمت کے پہلو کو حلت کے پہلو پر غلبہ ہے۔ 2 قوله ”وسكت عليه“. ”(امام ابوداؤد نے) اس پر سکوت اختیار کیا ہے“۔ منذری نے کہا: اس کی اسناد میں اسمعیل بن عیاش اور ضمضم بن زرعہ ہیں اور ان دونوں کے بارے میں کلام ہے، ہم کہتے ہیں اسمعیل جب اہل شام سے روایت کرتے ہیں تو ان کی حدیث صحیح اور قابل استدلال رہتی ہے۔ جیسا کہ اہل علم نے صراحت فرمائی ہے اور ضمضم حمصی یہ شامی ہیں کیونکہ مقام حمص ملک شام میں ہے اور امام بیہقی نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ خون نکلنے کی وجہ وضو ٹوٹنے کے بارے میں ان کی اہل شام سے مروی حدیث صحیح ہے۔ اسی لئے ابوداؤد نے اس پر سکوت فرمایا ہے۔ جو ان کے پاس حسن یا صحیح ہونے کی دلیل ہے۔ امام (سلسلہ صفحہ گزشتہ) بخاری اور ابن معین اور دیگر حضرات نے صراحت کی ہے کہ ان کی اہل شام سے روایت صحیح ہے اب رہا ضمضم کے بارے میں جو کچھ کہا گیا اس کا خلاصہ یہ ہے یہ صدوق ہیں کبھی ان کو وہم ہو جاتا ہے اور یہ صفت بخاری و مسلم کی بکثرت راویوں میں موجود ہے لہذا یہ حدیث صحیح ہے۔ امام عینی نے کہا امام ترمذی نے ابن عیاش کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ جو حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بواسطہ شرجیل بن مسلم آئی ہے۔ اس کی سند صحیح ہے اسی طرح تنسیق النظام میں ہے۔ 1 قوله ”رايت رسول الله ياكل لحم الدجاج“: (میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغ کا گوشت تناول فرماتے ہوئے دیکھا ہے)۔ صاحب عمدۃ القاری نے کہا ہے اس حدیث شریف میں مرغ کا گوشت کھانے کا جواز ہے اور کتاب توضیح میں ہے مرغ کے جواز پر اجماع منعقد ہے۔ 2 قوله ”كنا ناكل معه الجراد“: (ہم آپ ﷺ کے ساتھ ٹڈے کھایا کرتے تھے“۔ صاحب عمدۃ القاری نے کہا ہے علماء کا اجماع ہے اس بات پر کہ اس کو بغیر ذبح کئے کھایا جا سکتا ہے۔ البتہ مالکیہ کا مشہور مذہب یہ ہے کہ اس کو ذبح کرنا شرط ہے۔ لیکن کیفیت ذبح میں ان کے (یعنی مالکی حضرات کے) درمیان اختلاف ہے کہا گیا کہ اس کا سر کاٹ دیا جائے گا۔ اور ابن وہب نے کہا ہے کہ اس کو پکڑنا ہی اس کو ذبح کر دینا ہے اور امام مالک سے ایک روایت ہے کہ اگر اس کو زندہ پکڑے پھر اس کا سر کاٹ دے یا اس کو بھون لے یا تل لے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ اس کو زندہ پکڑ کر اس سے غافل ہو جائیں یہاں تک کہ وہ مر جائے تو اس کو نہیں کھایا جائے گا۔ امام طحاوی نے کتاب الصید میں ذکر کیا ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ سے کہا گیا کہ آپ کیا (سلسلہ صفحہ گزشتہ) فرماتے ہیں کیا ٹڈی آپ کے پاس مچھلی کے درجہ میں ہے جو کوئی ان میں سے کسی کو پالے تو اس کو کھا سکتا ہے خواہ بسم اللہ پڑھے نہ پڑھے؟ تو انہوں نے کہا ہاں۔ تو میں نے کہا ٹڈی جہاں بھی پائی جائے گی میں اس کو کھا لوں تو انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا اگرچہ میں اس کو کسی زمین پر مرا ہوا پاؤں؟۔ انہوں نے کہا ہاں۔ تو میں نے کہا اگرچہ اس پر بارش برس کر اسے ہلاک کر ڈالے۔ انہوں نے کہا: ہاں ٹڈی کو کوئی چیز کسی بھی حال میں حرام نہیں کر سکتی۔ (انتھی ہدایہ)۔ 1 قوله الميتتان الحوت والجراد الخ (دو مرے ہوئے جانور مچھلی اور ٹڈی ہیں) ائمہ اربعہ نے فرمایا ٹڈی کھانا حلال ہے چاہے وہ طبعی موت مرے یا ذبح کرنے سے یا کسی مجوسی یا مسلمان کے شکار کرنے سے خواہ اس کا کچھ حصہ کاٹا جائے یا نہ کاٹا جائے اور امام احمد سے مروی ہے کہ اگر اس کو سردی ہلاک کر دے تو نہیں کھایا جائے گا اور امام مالک کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اس کا سر کاٹا جائے تو حلال ہے ورنہ نہیں اور اس کے ہر حال میں حلال ہونے کی دلیل حضور ﷺ کا یہ فرمان: ”احلت لنا ميتتان“ ہے۔ (مرقاۃ)۔ 1 قوله: و هو قول ابي حنيفة الخ (اور وہ (امام اعظم ابوحنیفہ) کا قول ہے) اور یہ جابر، علی، ابن عباس سعید بن المسیب اور ابوالشعثاء، نخعی، داؤد، زہری رضی اللہ عنہم اجمعین کا قول ہے، ابن ابی شیبہ، عبدالرزاق اور دیگر حضرات نے ان سے اسی قول کو ذکر کیا ہے دارقطنی اور بیہقی نے سمک طافی کی حلت کی حدیث حضرت ابوبکر اور ابوایوب رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے یہی قول امام شافعی، امام احمد، اور بعض تابعین کا ہے اور وہ حضرات حدیث شریف: ”هو الطهور ماؤه الحل ميتته“ سے اس کو مطلق قرار دے کر اپنے مذہب پر استدلال کرتے ہیں، اور حدیث شریف میں ہمارے لئے دو مرے ہوئے جانور اور دو خون حلال کئے گئے ہیں، مرے ہوئے دو جانوروں سے مراد مچھلی اور ٹڈی ہے اور اب رہے دو خون تو وہ جگر اور تلی ہے۔ ابن ماجہ، امام احمد، عبد بن حمید، دارقطنی، ابن مردویہ اور دیگر حضرات نے اس حدیث کی تخریج کی ہے، ہمارے اصحاب نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ سمندر کا مرا ہوا جانور وہی ہے جس کو سمندر نے پھینکا ہو یا جس سے پانی ہٹ جائے تاکہ اس کا مرنا سمندر کی طرف منسوب ہو بغیر کسی آفت کے طبعی موت مر کر جو پانی پر پلٹ جائے تو وہ میتہ البحر نہیں ہے، کتاب بنایہ درایہ میں اسی طرح ہے اور صاحب تعلیق ممجد نے یہ بات بتائی ہے۔ 1 قوله وما مات فيه وطفا فلا تاكلوه. اور جو اس میں مرجائے اور پلٹ جائے تو اس کو مت کھاؤ شرح السنہ میں ہے کہ سمک طافی (مرکر پلٹی ہوئی مچھلی) کے مباح ہونے میں علماء نے اختلاف کیا ہے، پس صحابہ اور تابعین میں سے ایک جماعت نے اس کو مباح قرار دیا ہے اور یہی قول امام مالک وامام شافعی رحمہما اللہ کا ہے اور ان میں سے ایک جماعت نے اس کو مکروہ کہا ہے یہ بات حضرت جابر، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور اصحاب ابوحنیفہ رحمہم اللہ سے مروی ہے۔ 2 قوله اذا وقع الذباب وفي اناء احدكم، الخ. (جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے) اور شرح السنہ میں ہے کہ اس میں دلیل ہے اس بات پر کہ مکھی پاک ہے اور اس طرح تمام حیوانات کے اجسام بھی پاک ہیں سوائے ان کے جن پر سنت سے دلیل قائم ہو، جیسے کتا اور خنزیر ہے۔ اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس جانور میں بہتا خون نہ ہو جب کسی قلیل پانی یا کسی مشروب میں اس کی موت واقع ہوجائے تو وہ اس کو ناپاک نہیں کرتا جیسا کہ مکھی اور شہد کی مکھی، بچھو، گبریلا، ڈوری، اور اس جیسے جاندار ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ برتن میں مکھی ڈبودینے سے کبھی اس کی موت واقع ہوجاتی ہے اگر مکھی کا اس میں مرجانا اس کو ناپاک کرتا تو کھانے کو ناپاک کردینے کے اندیشہ کے پیش نظر حضور ﷺ کے ڈبونے کا حکم نہ فرماتے اور جمہور فقہاء کا قول یہی ہے۔ اور کتاب رحمة الامة في اختلاف الائمة میں ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہ اللہ کے پاس مکھی بہنے والی چیز کو خراب نہیں کرتی اور فی نفسہ وہ پاک ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کا راجح مذہب یہ ہے کہ وہ بہنے والی چیز کو ناپاک نہیں کرتی اور لیکن وہ مرنے سے فی نفسہ ناپاک ہوجاتی ہے اور امام احمد رحمہ اللہ کا مذہب بھی یہی ہے۔ (مرقات)۔ اور مرقات میں ایک دوسری جگہ کتاب حیوۃ الحیوان میں ہے کہ مکھی کی کوئی بھی قسم ہو اس کا کھانا حرام ہے، اور ایک صورت ایسی بھی ہے کہ اس میں اس کا کھانا حلال ہے۔ جس کو رافعی نے بیان کیا ہے اور احیاء العلوم میں (سلسلہ صفحہ گزشتہ) ہے کہ اگر پکی ہوئی ہانڈی میں مکھی یا چیونٹی گر جائے اور اس کے اجزاء فنا ہو جائیں تو اس پکی ہوئی چیز کا کھانا حرام نہیں ہوگا۔ کیونکہ مکھی چیونٹی اور اس جیسی چیزوں کے کھانے کو حرام قرار دیا جانا ناگواری طبیعت کی وجہ سے ہے اور یہ بر خلاف اس کے طبیعت کی ناگواری کا موجب نہیں ہوتا۔ 1 قوله القوها و ما حولها و كلوه. (اس کو اور اس کے اطراف کو نکال کر پھینک دو) اور اس (گھی) کو کھالو۔ صاحب عمدۃ القاری نے کہا اس بات پر اجماع منعقد ہے کہ یہ حکم جامد گھی کا ہے البتہ پتلا گھی اور اس طرح دیگر مائعات تو اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر اس میں چوہا یا اس جیسی کوئی چیز گر جائے تو اس میں سے کوئی بھی چیز نہیں کھائی جا سکتی لیکن اس کو فروخت کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں اختلاف ہے۔ حسن بن صالح اور امام احمد رحمہ اللہ نے کہا ہے جس طرح اس کو کھایا نہیں جا سکتا اسی طرح اس کو بیچا نہیں جا سکتا اور اس کے کسی چیز سے استفادہ بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ثوری اور امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ نے کہا: اسے چراغ میں استعمال کرنا اور صابن وغیرہ کے لئے اس سے استفادہ کرنا درست ہے، البتہ اس کو بیچنا اور کھانا جائز نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب اور فقیہ لیث نے کہا ہے کھانے کے سوا اس سے ہر چیز میں نفع حاصل کیا جا سکتا ہے، اور اس کا بیچنا بھی بشرط بیان جائز ہے اور ہماری دلیل امام طحاوی کی نقل کردہ حدیث اور ابوموسیٰ وابن وہب کی مرویات ہیں۔ 1 قوله اقتلوا الحيات، الخ۔ (سانپوں کو مار ڈالو) صاحب دراختیار نے کہا ہے، امام طحاوی نے کہا تمام قسم کے سانپوں کو مار ڈالنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات سے عہد لیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے گھروں میں داخل نہ ہوں، پس جب وہ داخل ہوئے تو گویا انہوں نے عہد شکنی کی ہے، لہذا ان کے لئے کوئی ذمہ نہیں ہوگا، البتہ عذر کا موقع دینا اور ان کو آگاہ کرنا بہتر ہے، چنانچہ اس طرح کہا جائے گا کہ اللہ کے حکم سے واپس چلے جاؤ اور اگر وہ انکار کرے تو اس کو قتل کر ڈالے (اھ) یعنی آگاہ کرنا اور متنبہ کرنا بحکم غیر نماز میں ہے۔ (بحر)۔ صاحب حلیہ نے کہا اور امام طحاوی اور بہت سے حضرات نے ان کی موافقت کی ہے اور اس میں سب سے اخیر میں ہمارے شیخ یعنی ابن ہمام ہیں۔ پس انہوں نے کہا کہ حق بات تو یہ ہے کہ ان کو قتل کرنے کا جواز و حلت ثابت شدہ امر ہے، مگر یہ کہ جس میں جنات کی علامت ہے اس (سلسلہ صفحہ گزشتہ) کے قتل سے رک جانا بہتر ہے اور یہ ان کے قتل کے حرام ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے طرف سے پیدا ہونے والے ایک وہمی ضرر کو دفع کرنے کی غرض سے ہے۔ 1 قوله الا الجان الابيض، الخ۔ (سوائے اس سفید سانپ کے) صاحب مرقات نے کہا ہے حنفیہ کے پاس سفید سانپ کو نہ مارنا مناسب ہے کیونکہ وہ جنات میں سے نہیں ہے اور امام طحاوی نے کہا تمام قسم کے سانپوں کو قتل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، البتہ ان کو متنبہ کر دینا بہتر ہے۔ 2 قوله: من تركهن خشية ثائر فليس منا۔ (جو کوئی ان کو انتقام اور بدلہ لینے کے ڈر سے چھوڑ دے تو وہ ہم میں سے نہیں) شارح علیہ السلام نے کہا جاہلیت کے دستور کے مطابق یہ عادت جاری تھی کہ اس طرح کہا جاتا سانپوں کو قتل مت کرو کیونکہ اگر تم ان کو قتل کر دو گے تو ان کا شوہر آئے گا اور انتقام کے طور پر تمہیں ڈس لے (سلسلہ صفحہ گزشتہ) گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قول و عقیدہ سے منع فرمایا، اسی طرح مرقات میں ہے اور صاحب بذل المجہود کے کہا اسی طرح ہندوستان کے بعض شہروں میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص کسی مخصوص حالت میں سانپ کو مار ڈالے تو اس کا شوہر اس کا بدلہ لے گا اور ہر سال اس کو ڈستا رہے گا۔ 1 قوله: امر بقتل الوزغ، الخ۔ (گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم فرمایا) علامہ کرمانی نے کہا: وزغ ایک جانور ہے جس کو پیر ہوتے ہیں، گھاس کی جڑوں میں دوڑتا ہے، اور ابن اثیر نے کہا: یہ وہی ہے جس کو ”سام ابرص“ (سلسلہ صفحہ گزشتہ) کہا جاتا ہے اور علامہ عینی نے کہا یہی بات صحیح ہے اور یہ وہی ہے جو دیواروں اور چھتوں میں رہتا ہے اور اس کی آواز ہوتی ہے جس سے وہ پہچنتا ہے، صاحب غیاث اللغات نے منتخب سے نقل کیا ہے کہ وزغ گرگٹ ہے اور برہان میں لکھا ہے کہ وہ ”چلپاسا کی ایک قسم ہے جس کو سام ابرص بھی کہتے ہیں۔ یہ گرگٹ کے مشابہ ہوتا ہے جو گھروں کے چھتوں میں رہتا ہے، ہندی میں اس کو چھپکلی کہتے ہیں۔ اور مولانا ابوالحسنات محمد عبدالحی رحمہ اللہ نے کتاب ”نفع المفتی و السائل بجمع متفرقات المسائل“ میں کہا ہے ”استفتاء“ کیا گرگٹ کو مار ڈالنا جائز ہے۔ ”استبشار“ ہاں بلکہ اس کو مار ڈالنے میں بڑا ثواب ہے۔ جیسا کہ مروی ہے کہ جس نے گرگٹ کو قتل کیا اس نے ستر نیکیاں پائیں اور ”خزانة الروايات“ میں ”حاشية المشارق“ سے منقول ہے کہ یہ حدیث شریف ام شریک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ 1 قوله : فاوحى الله تعالى اليه ان قرصتك نملة احرقت امة، الخ۔ (پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ تم کو صرف ایک چیونٹی نے کاٹا تھا لیکن تم نے امتوں میں سے ایک امت کو جو تسبیح کرتی تھی جلا ڈالا) (سلسلہ صفحہ گزشتہ) صاحب مرقات نے کہا چیونٹیوں کو مار ڈالنے کی ممانعت کی حدیث شریف اور احادیث شریفہ کے درمیان جمع کرتے ہوئے اور اس کو جوں پر قیاس کرتے ہوئے ممانعت کی حدیث کو اس میں سے غیر موذی چیونٹی کے قتل پر محمول کرنا ممکن ہے، کیونکہ چیونٹی کی اذیت کبھی جوں سے سخت ہوتی ہے، کیا تم نہیں جانتے کہ ابتداء بلی کو مار ڈالنا جائز نہیں ہے، مگر اسی صورت میں جبکہ اس سے تکلیف پہنچے۔ اور ممکن ہے کہ جلا دینا (کا حکم) منسوخ ہو یا جن کو بغیر جلانے کے قتل کرنا ممکن نہ ہو اس پر ضرورۃ محمول کیا جائے۔ اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ چیونٹی کو مار ڈالنے کے بارے میں علماء نے بحث کی ہے اور مختار قول یہ ہے کہ جب وہ تکلیف دینا شروع کرے تو اس کو مار ڈالنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر تکلیف دینا شروع نہ کرے تو اس کو قتل کرنا مکروہ ہے اور علماء نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ چیونٹی کو پانی میں ڈالنا مکروہ ہے اور جوؤں کو مار ڈالنا ہر حال میں جائز ہے (خلاصہ) اور ایک چیونٹی کے وجہ سے چیونٹی کے گھر جلائے نہیں جائیں گے۔(فتاویٰ عتابیہ)۔ 1 قوله النملة (چیونٹی) الخ کتاب حیوۃ الحیوان میں ہے چیونٹی جس چیز کو اپنے منہ میں اور پیروں میں پکڑی ہو اس کو کھانا مکروہ ہے۔ حافظ ابونعیم نے کتاب طب نبوی میں صالح بن خوات بن جبیر سے بواسطہ ان کے والد ان کے دادا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو کھانے سے منع فرمایا جس کو چیونٹی نے اپنے منہ اور پیروں میں پکڑا ہو اور چیونٹی کو کھانا اس کے قتل کی ممانعت آنے کی وجہ سے حرام ہے۔(مرقاۃ)۔ 2 قوله النحلة الخ (شہد کی مکھی) حیاۃ الحیوان میں ہے مجاہد نے شہد کی مکھی کو قتل کرنا مکروہ ہے اور اس کے کھانے کو حرام قرار دیا ہے اگرچہ کہ شہد حلال ہے جس طرح عورت کہ اس کا دودھ حلال اور گوشت حرام ہے اور سلف میں سے بعض نے ٹڈے کی طرح اس کو مباح قرار دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے قتل سے منع فرمانا اس کے حرام ہونے کی دلیل ہے۔ اور کتاب ابانۃ میں ہے کہ شہد کی مکھی کی بیع مکروہ ہے جبکہ وہ چھتے میں ہو، اگر وہ پوری طرح سے دکھائی دے تو (بیع) صحیح ہے، ورنہ وہ بیع غائب ہے، اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا شہد کی مکھی، ڈکوری اور تمام حشرات الارض کی بیع درست نہیں۔(مرقات)۔ 3 قوله الصرد صاحب مرقات نے کہا صرد ”ص“ کے ضمہ اور ”راء“ کے فتح کے ساتھ بڑے سر اور موٹی چونچ (سلسلہ صفحہ گزشتہ) والا ایک پرندہ ہے اس کا پر بڑا ہوتا ہے جو آدھا سفید اور آدھا کالا ہوتا ہے۔ (نہایہ)۔ غیاث اللغات میں منتخب سے منقول ہے صرد ایک بڑے سر کا پرندہ ہے جو چڑیا کا شکار کرتا ہے۔ ”ترجمہ شافیہ“ میں لکھا ہے اس کو فارسی میں ”وردکاک“ اور ہندی میں ”لٹورا“ کہتے ہیں۔ (اتقی)۔ صاحب مرقات نے کہا عرب صرد پرندے سے نحوست سمجھتے اور اس کی آواز اور اس کی نظر سے بدفالی لیتے ہیں، پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل کرنے سے منع فرمایا تاکہ ان کے دل میں بدفالی کا جو اعتقاد جم گیا تھا، اس کو نکال دیں، پس کہتا ہوں اور اس میں اس روایت کی طرف اشارہ ہے: ”اللهم لا طير الا طيرك و لا خير الا خيرك و لا اله غيرك اللهم لا ياتي بالحسنات الا انت و لا يصرف السيئات الا انت“ (اے اللہ! فال تو صرف تیرا فال ہے بھلائی صرف تیری بھلائی ہے۔ اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے اللہ نیکیوں کو تیرے سوا کوئی نہیں لاتا اور برائیوں کو تیرے سوا کوئی دفع نہیں کرتا) اور برائیوں کو تیرے سوا کوئی نہیں دفع کرتا اور حیاۃ الحیوان میں ہے اس حدیث کی بنیاد پر صرد پرندے کے کھانے کو حرام قرار دیا جانا ہی صحیح ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کو کھایا جا سکتا ہے کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے محرم پر جب کہ وہ اس کو قتل کر دے تو اس میں جزاء کو واجب قرار دیا اور یہی بات امام مالک رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔ 1 قوله: اكلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لحم حبارى. (میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سرخاب کا گوشت کھایا ہے) امیری کی کتاب حیوۃ الحیوان میں ہے حباری لمبی گردن والا خاکستری رنگ کا ایک پرندہ ہے جس کی چونچ میں تھوڑی سے لمبائی ہوتی ہے اور اس کی حالت یہ ہے کہ وہ شکار کیا جاتا ہے وہ خود شکار نہیں کرتا۔ (مرقات)۔ صاحب بذل المجہود نے کہا سرخاب کے گوشت کے حلال ہونے پر اجماع ہے، میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی اختلاف ہے۔ 2 قوله نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اكل الجلالة، الخ. (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ (غلاظت خور) جانور کو کھانے اور اس کے دودھ سے منع فرمایا ہے) شرح السنہ میں ہے اس جانور کے بارے میں جو غلاظت کھاتا ہے حکم یہ ہے کہ اس کو دیکھا جائے گا پس اگر وہ کبھی کبھار گندگی کھاتا ہے تو وہ جلالہ (سلسلہ صفحہ گزشتہ) نہیں ہے اور اس کی وجہ سے اس کو کھانا حرام نہیں ہوگا، جیسا کہ مرغی ہے، اور اگر اس کی اکثر غذا وہی ہے یہاں تک کہ اس کے گوشت اور دودھ میں اس کا اثر ظاہر ہو لیا تو اس کے کھانے میں علماء کا اختلاف ہے۔ ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ اس کا کھانا حلال نہیں مگر یہ کہ چند دن اس کو قید میں رکھا جائے اس کو اس کے سوا دوسرا چارہ کھلایا جائے یہاں تک کہ اس کا گوشت پاکیزہ ہو جائے یہ قول امام شافعی، امام احمد اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہم اللہ کا ہے اور حسن بصری رحمہ اللہ جلالہ کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اور یہ امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے اور امام اسحاق نے کہا اس کو اچھی طرح دھو لینے کے بعد اس کو کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ (مرقات)۔ اور صاحب رحمۃ الامۃ نے کہا اونٹ یا بکری یا مرغی میں سے جلالہ (غلاظت خور) کا کھانا بالاتفاق ائمہ ثلاثہ مکروہ ہے اور امام احمد نے کہا اس کا گوشت اور دودھ اور انڈے حرام ہیں اگر اس کو قید میں رکھا جائے اور پاک غذا دی جائے یہاں تک کہ نجاست کی بو زائل ہو جائے تو وہ حلال ہوگا اور بالاتفاق کراہیت ختم ہو جائے گی، پھر کہا گیا کہ اونٹ اور گائے کو چالیس دن، بکری کو سات دن اور مرغی کو تین دن تک قید میں رکھا جائے۔ (انتہی)۔ رد المحتار فصل البئر میں ہے علماء نے صراحت کی ہے کہ جلالہ کی قربانی نہیں دی جاسکتی، جیسا کہ اضحیہ کے بیان میں آئے گا، صاحب شرح وہبانیہ اور منتقی نے کہا جلالہ مکروہ ہے کہ تم جب اس کے قریب جاؤ تو اس سے بدبو آنے لگے ایسی صورت میں اس کو کھایا نہیں جائے گا، اس کا دودھ نہیں پیا جائے گا اور اس پر سواری نہیں کی جائے گی اور اس کو بیچنا اور اس کو ہبہ کرنا مکروہ ہے جبکہ اس کی یہ حالت ہو، اور بقالی نے ذکر کیا ہے کہ اس کا پسینہ ناپاک ہے۔ مصنف نے کتاب الحظر والاباحۃ میں تصریح کی ہے کہ گدھی اور جلالہ کا گوشت مکروہ ہے، اس مقام پر شارح نے کہا جلالہ کو قید کیا جائے حتی کہ اس کے گوشت کی بدبو ختم ہو جائے۔ راجح قول کے مطابق مرغی کے لئے تین دن بکری کے لئے چار دن، اونٹ اور گائے کے لئے دس دن کی مدت کا اندازہ کیا گیا ہے اور اگر وہ نجاست یا اس کے سوا دیگر چیزیں اس طرح کھائے کہ اس کا گوشت بدبودار نہ ہو تو حلال ہے ،اس سے معلوم ہوا کہ جس جلالہ کا پس خوردہ مکروہ ہے، اس سے مراد وہ ہے جو صرف نجاست کھاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا گوشت بدبودار ہو جاتا ہے تو اس وقت وہ کھایا نہیں جائے گا، اسی لئے صاحب جوہرہ نے کہا اگر وہ غلاظت اور دوسری غذا کو مخلوط طور پر کھاتا ہو یا اس کی اکثریت غذا چوپایوں کی غذا ہو تو اس کا پس خوردہ مکروہ نہیں۔ 1 قوله السنور من السبع. (بلی درندوں میں سے ہے) یعنی درندوں میں بلی بھی داخل ہے کیونکہ اس کو کوچلی ہے، اپنی اس کوچلی سے وہ لڑتی ہے، لہذا بھیڑیے وغیرہ کی طرح اس کا بھی گوشت نہیں کھایا جائے گا۔ 1 قوله لا باس بثمن السنور. (بلی کی قیمت لینے میں کوئی مضائقہ نہیں) یعنی چوپایوں میں سے تمام قسم کے درندوں کی بیع درست ہے، یہاں تک کہ بلی کی، پس بلی کی بیع درست ہے کیونکہ اس سے گھر میں اذیت دینے والی چیزوں کو دفع کرنے میں نفع اٹھایا جاتا ہے اور اس کی کھال سے بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے، اور کوچلی والے درندوں کی بیع جیسا کہ شیر، چیتا، بجو، بھیڑیا اور پنجے والے پرندوں کی بیع بھی درست ہے، کیونکہ ازروئے شرع ان سے نفع حاصل کرنا جائز ہے، سوائے خنزیر کے کیونکہ وہ نجس العین ہے اور اس سے فائدہ حاصل کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح اس کی بیع بھی درست نہیں اور زمین کے کیڑے مکوڑوں کی بھی بیع درست نہیں جیسا کہ گبریلا اور اسی طرح مچھلی کے سوا تمام سمندری کیڑے مکوڑوں کی جیسے کیکڑا (بیع بھی درست نہیں) اگرچہ کہ وہ اذیت رساں نہ ہوں (ان) کی بیع درست نہیں، اور البتہ ہر قیمت والی چیز کی بیعت درست ہے جیسا کہ ریت کی مچھلی ہے، اور اگر سانپوں سے دواؤں میں فائدہ حاصل ہوسکتا ہے تو ان کی بیع درست ہے، ورنہ جائز نہیں ہے۔ (کنز اور شروح کنز کا خلاصہ)۔ 1 قوله: من ولد له ولد فأحب ان ينسك عن ولده فليفعل، الخ. (جس کسی کو لڑکا پیدا ہوا اور وہ اپنے لڑکے کی طرف سے ذبح کرنا چاہے تو وہ کرے) صاحب ردالمحتار نے ”کتاب الاضحیہ“ کے آخر میں کہا: ائمہ ثلاثہ کے پاس جس کسی کو لڑکا پیدا ہوا اس کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ ساتویں دن اس کا نام رکھے اور اس کا حلق کرے، اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی یا سونا صدقہ کرے، پھر حلق کرتے وقت بطور اباحت عقیقہ کرے، جیسا کہ ”الجامع المحبوبی“ میں ہے یا بطور نفل جیسا کہ طحاوی کی شرح میں ہے اور وہ (عقیقہ) ایسی بکری ہے جو قربانی کے قابل ہو اس کو نر، اور مادہ کے لئے ذبح کیا جائے گا، خواہ اس کا گوشت پکا تقسیم کیا جائے یا اس کو کھٹے کے ساتھ پکا کر یا اس کے بغیر اس کی ہڈیوں کو توڑ کر یا بغیر توڑے کے اور دعوت کر کے یا دعوت کئے بغیر۔ یہ امام مالک نے کہا ہے اور امام شافعی اور امام احمد نے اس کو سنت موکدہ قرار دیا ہے، کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی جانب سے ایک بکری ہے (ملخص از غرر الافکار) اور صاحب عرف شذی نے کہا: امام اعظم ابو حنیفہ کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ آپ عقیقہ کے قائل نہیں ہیں اور اس وہم کا باعث موطا میں مذکور امام محمد رحمہ اللہ کی ایک عبارت بنی ہے اور حق یہ ہے کہ ہمارے مسلک میں پیدائش کے بعد ساتویں یا چودھویں یا اکیسویں دن اس کا کرنا مستحب ہے، اور وہ اسی دن اس کا نام رکھے گا، اور عمدۃ القاری میں ہے، امام اعظم ابو حنیفہ نے کہا: عقیقہ سنت نہیں، اور صاحب ”توضیح“ نے (سلسلہ صفحہ گزشتہ) امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور کوفیین سے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ بدعت ہے اور اسی طرح ان میں سے بعض نے اس کی شرح میں کہا: وہ صاحب جس سے یہ منقول ہے کہ وہ بدعت ہے وہ امام اعظم ابوحنیفہ ہیں، میں کہتا ہوں: یہ بہتان ہے پس امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی طرف اس کو منسوب کرنا جائز نہیں ہے اور یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ امام صاحب اس طرح کہے ہوں، اور آپ نے تو صرف یہ فرمایا وہ سنت نہیں ہے تو آپ کی مراد یہ ہے کہ یا تو وہ سنت ثابتہ نہیں ہے یا تو سنت موکدہ نہیں ہے۔ 1 قولہ: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عق عن الحسن و الحسين كبشا كبشا. (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کا ایک ایک مینڈھے سے عقیقہ کیے) امام اعظم ابوحنیفہ و امام مالک رحمہما اللہ نے یہی کہا ہے، چنانچہ ان کے نزدیک لڑکا اور لڑکی کے لئے صرف ایک ایک بکری ذبح کی جائے گی۔ اور امام شافعی و امام احمد رحمہما اللہ کے پاس لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی۔ (ردالمحتار، غرر الافکار)۔ 1 قوله: لا عموم لها عندنا. (اس میں ہمارے نزدیک کوئی عموم نہیں) اور ائمہ ثلاثہ کے پاس بچے کے بالوں کے برابر چاندی یا سونا صدقہ کیا جائے گا۔ (ردالمحتار، غرر الاذکار، مسوی)۔ 2 قوله: ويحنكهم. (اور ان کی تحنیک فرماتے) امام نوویؒ کہتے ہیں اس حدیث میں کئی فوائد ہیں: منجملہ ان کے بچے کی پیدائش کے وقت اس کی تحنیک کرنا اور یہ بالاجماع سنت ہے (اھ)۔ اور امام نووی رحمہ اللہ نے دوسرے مقام پر کہا ولادت کے موقع پر کھجور سے بچے کی تحنیک مستحب ہونے پر علماء (سلسلہ صفحہ گزشتہ) نے اتفاق کیا ہے۔ پس اگر وہ مل سکے تو اس جیسی اور اسی کے قریب کسی بھی میٹھی چیز سے کرے ،پس تحنیک کرنے والا کھجور کو چبائے یہاں تک کہ وہ اس قدر سیال ہو جائے کہ اس کو نگلا جا سکے، پھر نومولود کا منہ کھولے اور اس کو اس میں ڈالے تا کہ اس میں سے کچھ اس کے سینہ میں چلا جائے اور یہ بہتر ہے کہ تحنیک کرنے والے صالحین میں سے اور ان حضرات میں سے ہوں جن سے برکت حاصل کی جاتی ہے، خواہ وہ مرد ہوں کہ عورت۔ اور اگر وہ نومولود کے پاس حاضر نہ ہو تو اس کو ان کے پاس اٹھا کر لے جایا جائے۔ 1 قولہ: اذن فی اذن الحسن، الخ۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسنؓ کے کان میں اذان دی) صاحب مرقات نے کہا: اور یہ حدیث نومولود کے کان میں اذان دینے کے سنت ہونے کی دلیل ہے، اور شرح السنہ میں ہے: روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو اس کے دائیں کان میں اذان دیتے اور بائیں کان میں اقامت کہتے، میں کہتا ہوں: مسند ابویعلی موصلی میں حسین رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت آئی ہے کہ جس شخص کو کوئی لڑکا پیدا ہوا اور وہ اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے تو اس کو ام الصبیان (بچوں کی مسان کی بیماری) نقصان نہیں پہنچائے گی۔ (اھ)۔ اور صاحب ردالمختار نے ”باب الاذان“ میں کہا ہے: نمازوں کے سوا کسی کام کے لئے اذان دینا مسنون نہیں ہے۔ ورنہ نومولود کے لئے وہ مستحب ہوتی“۔ 1 قوله: بركة الطعام الوضوء قبله والوضوء بعده: (کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد بھی وضو کرنے میں ہے) یعنی (وضو سے مراد) دونوں ہاتھوں کا دھونا۔ کل کا اطلاق جز پر مجازاً کیا گیا ہے یا یہ معنی لغوی اور معنی عرفی پر مبنی ہے (مرقات)۔ عالمگیری میں ہے کہ کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونا سنت ہے۔ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کے آداب یہ ہیں کہ (ہاتھ دھونا) نوجوانوں سے شروع کیا جائے پھر عمر رسیدہ حضرات سے (کھانے کے بعد اس کے برعکس کیا جائے)۔ (ظہیریہ)۔ نجم الائمہ بخاری اور دوسروں نے کہا ایک ہاتھ کا دھونا یا دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کا دھونا کھانے سے قبل ہاتھ دھونے کی سنت کے لئے کافی نہیں ہوگا کیونکہ احادیث میں ”غسل اليدين“ دونوں ہاتھوں کا دھونا مذکور (سلسلہ صفحہ گزشتہ) ہے اور وہ کھالا پیروں تک ہوتا ہے (قنیہ 2) کھانے سے قبل وہ اپنے ہاتھ کو رتی سے نہ پونچھے تا کہ کھا کے وقت دھونے کا اثر باقی رہے اور کھانے کے بعد اپنے ہاتھ کو پونچھ لے تا کہ کھانے کا اثر مکمل طور پر زائل ہو جائے۔ (خزانۃ المفتین)۔ کتاب یتیمیہ میں ہے کہ بیرے والے سے کھانے کے وقت منہ دھونے سے متعلق دریافت کیا گیا کہ کیا وہ ہاتھ دھونے کی طرح سنت ہے تو انہوں نے کہا نہیں (تاتارخانیہ میں اسی طرح ہے) جنبی خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کیلئے دونوں ہاتھ اور منہ دھونے سے قبل کھانا پینا مکروہ ہے۔ حائضہ عورت کیلئے مکروہ نہیں ہے۔ تمام مقامات میں منہ کو صاف کرنا مستحب ہے۔ (فتاوی قاضی خان)۔ 1 قوله وهو في المسجد فاكل واكلنا معه (جبکہ آپ مسجد میں تھے تو آپ تناول فرمائے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھائے) ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ اعتکاف میں تھے یا آپ کے پاس مہمان موجود تھے یا آپ ﷺ نے بیان جواز کیلئے ایسا کیا کیونکہ مسجد میں کھانا مباح ہے بشرطیکہ مسجد ملوث نہ ہو۔ (مرقات)۔ 2 قوله ولم نزد على ان مسحنا ايدينا بالحصباء (اور ہم نے اپنے ہاتھوں کو کنکریوں سے پونچھنے سے زیادہ نہیں کیا) صاحب مرقات نے کہا شارحین حدیث میں سے ہمارے بعض علماء نے کہا ہے کہ کھانے کے وقت اور کھانے سے فارغ ہونے کے وقت وضو کرنا ایسے کھانے میں مستحب ہے جس سے ہاتھ ملوث ہوتا ہے۔ اور اس سے چکناہٹ پیدا ہوتی ہے۔ 1 قوله: سَمِّ اللّٰهَ (اللہ کا نام لو) الخ جمہور علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ اس حدیث شریف میں تینوں احکام استحبابی ہیں اور بعض علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ دائیں ہاتھ سے کھانے کا حکم وجوب کے لئے ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ کھانے کے شروع میں تسمیہ کا مستحب ہونا متفق علیہ ہے اسی طرح کھانے کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنا مستحب ہے۔ علماء نے کہا: تسمیہ بالجہر مستحب ہے تاکہ دوسرے کو تنبیہ ہو اور اگر اس نے عمداً یا بھول کر یا ناواقفیت سے یا زبردستی یا کسی عارض کی وجہ سے عاجز ہو کر تسمیہ ترک کردے پھر کھانے کے دوران قدرت پالے تو اس کے لئے بسم اللہ کہنا مستحب ہے۔ (کھانے والے کیلئے) بسم اللہ کہنے سے تسمیہ حاصل ہوجائے گا۔ اور اگر اس کے بعد الرحمن الرحیم کہے تو اچھا ہے۔ کھانے والوں میں سے ہر ایک تسمیہ پڑھے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اگر ان میں سے کسی ایک نے بھی بسم اللہ پڑھ لیا تو تسمیہ حاصل ہوجائے گا۔ پانی، دودھ، شہد، شوربہ، دواء اور تمام مشروبات کے پیتے وقت اسی طرح بسم اللہ کہنا ہے جس طرح کھانے پر کہنا ہے۔ (ماخوذ از مرقات عمدۃ القاری)۔ صاحب درمختار اور ردالمحتار نے کہا کہ کھانے کی سنت ابتداء میں بسم اللہ اور آخر میں الحمدللہ کہنا ہے۔ اگر (ابتداء میں) بسم اللہ کہنا بھول جائے تو ”بسم الله على اوله واخره“ کہے۔ (الاختیار)۔ جب تم بسم اللہ کہو تو اپنی آواز کو بلند کرو تاکہ تمام اپنے ساتھ والوں کو تلقین کرسکو اور حمد میں آواز کو بلند نہ کیا جائے مگر یہ کہ وہ کھانے سے فارغ ہوجائیں۔ (تاتارخانیہ)۔ کھانے پر بسم اللہ اس وقت کہا جائے گا جبکہ کھانا حلال اور آخر میں حمد بیان کرے چاہے کھانا کیسا بھی ہو۔ (قنیہ)۔ 1 قولہ كل بيمينك (اپنے سیدھے ہاتھ سے کھاؤ): صاحب عمدۃ القاری نے کہا: ہمارے شیخ زین الدین نے کہا سامنے سے کھانے اور سیدھے کھانے کے حکم کو ہمارے اکثر اصحاب نے استحباب پر محمول کیا ہے۔ امام غزالی اور امام نووی نے اسی کی صراحت کی ہے۔ اور امام شافعی نے کتاب الام میں اس کے واجب ہونے کو بیان کیا۔ علامہ قرطبی کا خیال ہے کہ سیدھے ہاتھ سے کھانا استحباب پر محمول ہے۔ اس لئے کہ یہ حکم سیدھے ہاتھ کی بزرگی کو ظاہر کرنے کے باب سے ہے۔ اور اس لئے کہ سیدھا ہاتھ کاموں میں زیادہ قوت اور سبقت والا اور زیادہ قدرت رکھنے والا ہوتا ہے۔ اور اس لئے بھی کہ وہ یمن اور برکت سے مشتق ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں اپنے سیدھے ہاتھ کو اپنے کھانے اور پینے کے لئے رکھے اور اپنے بائیں ہاتھ کو اس کے ماسوا چیزوں کیلئے۔ اور اگر بائیں ہاتھ سے مدد لینے کی ضرورت لاحق ہو تو یہ ایک ضمنی حکم کے طور پر ہے۔ 2 قولہ: كل مما يليك (اپنے سامنے سے کھاؤ): صاحب عمدۃ القاری نے کہا اور قرطبی نے ذکر کیا کہ کھانے والے کا اپنے سامنے سے کھانا متفق علیہ سنت ہے اور اس کے خلاف کرنا مکروہ اور نہایت برا سمجھا گیا ہے جبکہ کھانا ایک قسم کا ہو۔ اور صاحب ردالمحتار نے کہا کہ برتن کے درمیان سے نہ کھانا سنت ہے کیونکہ برکت برتن کے درمیان نازل ہوتی ہے اور ایک ہی جگہ سے کھائے کیونکہ وہ ایک ہی قسم کا کھانا ہے۔ برخلاف ایسی طبق کے جس میں مختلف قسم کے پھل ہو تو جہاں سے چاہے کھا سکتا ہے کیونکہ وہ مختلف اقسام ہیں۔ 1 قوله: ان الشيطان يستحل الطعام ......... الخ (شیطان کھانے کو حلال کر لیتا ہے) امام نووی نے کہا: درست بات وہی ہے جس پر محدثین فقہاء اور متکلمین میں سے جمہور علماء معتقد ہیں و متاخرین متفق ہیں کہ یہ حدیث اور اس جیسی احادیث جو شیطان کے کھانے سے متعلق وارد ہوئی ہیں اپنے ظاہر پر محمول ہیں اور یہ کہ شیطان حقیقت میں کھاتا ہے جبکہ عقل اسکو محال قرار نہیں دیتی ہے اور شریعت بھی اس کا انکار نہیں کرتی بلکہ اسکو ثابت کرتی ہے۔ پس اس کو قبول کرنا اور اس کا اعتقاد رکھنا واجب ہے۔ 1 قوله: فنسى ان يذكر الله على طعامه .....الخ (اپنے کھانے پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا بھول جائے) اس میں اس بات کی خبر دینا کہ کھانے کے شروع میں مطلق اللہ تعالیٰ کا ذکر کافی ہے لیکن بسم اللہ (بسم اللہ پڑھنا) افضل ہے۔ محیط میں ہے اگر کوئی وضو کے شروع میں لا اله الا الله ”یا“ الحمدلله ”یا“ اشهد ان لا اله الا الله کہے تو سنت کو تمام کرنے والا ہوگا اسی طرح کا حکم کھانے کے شروع میں کہنے کا ہے کیونکہ تسمیہ وضو کے شروع میں زیادہ موکد ہے۔ اور ابن ہمام نے کہا کہ کوئی تسمیہ بھول جائے اور وضو کے دوران یاد آئے تو بسم اللہ پڑھے تو سنت حاصل نہیں ہوگی برخلاف کھانے کے (العنایہ)۔ انہوں نے اس کی علت یہ بیان کی کہ وضو ایک ہی عمل ہے برخلاف کھانے کے۔ اور وہ (بسم اللہ پڑھنا) ما باقی کھانے میں بھی حصول سنت کا موجب ہے۔ فوت شدہ چیز کا تدارک نہیں (مرقات)۔ 2 قوله: فلما ذكر اسم الله .......الخ (جب اس نے اللہ تعالیٰ کا نام لیا) کھانے پر تسمیہ سے متعلق علماء نے اختلاف کیا ہے، امام احمد کے اصحاب وجوب کے قائل ہیں اور جمہور علماء اس کے مسنون ہونے پر متفق ہیں (بذل المجهود)۔ 1 قوله: يا كل بثلاثة اصابع ويلعق يده الخ (تین انگلیوں سے کھایا کرتے اور اپنے ہاتھ کو چاٹا کرتے تھے) اس باب میں متعدد نوعیت سے کلام ہے) پہلی یہ کہ ہاتھ کی پاکی کو برقرار رکھنے کے لئے اور تکبر کو دور کرنے کے لئے چاٹنا مستحب ہے اور جمہور علماء کے پاس اس میں امر استحباب اور ارشاد پر محمول ہے اور اصحاب ظواہر نے اس کو وجوب پر محمول کیا ہے۔ خطابی نے کہا: ایک قوم انگلیوں کے چاٹنے کو معیوب سمجھتی ہے کیونکہ عیش پسندی نے ان کی عقلوں کو بگاڑ دیا ہے اور شکم سیری اور بدہضمی نے ان کی طبیعتوں کو بدل دیا ہے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ انگلیوں کو چاٹنا برا ہے یا مکروہ ہے کیا انہوں نے نہیں جانا کہ جو چیز اس کے انگلیوں پر ہے وہ اسی کا ایک حصہ ہے جو اس نے کھایا ہے۔ پس اس سے وہی آدمی دور رہتا ہے جو (متکبر اور نازک الست عشرت پسند ہوتا ہے)۔ دوسری یہ کہ انگلیوں کو چاٹنے میں مجمل حکمت وہ بات ہے جو امام ترمذی کی تخریج کردہ حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث میں مذکور ہے انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو اپنے انگلیوں کو چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کس کھانے میں برکت ہے۔ امام مسلم وغیرہ نے بھی اس کی تخریج کی ہے یعنی یہ حدیث اس چیز کے متعلق ہے جو اس نے کھایا ہے اور جو اس کے انگلیوں پر باقی رہ گیا ہے اور جو اس کے برتن میں باقی رہ گیا ہے، اس کو چاہیے کہ حصول برکت کی امید میں اپنے ہاتھ کو چاٹ لے اور برتن کو (سلسلہ صفحہ گزشتہ) پونچھے اور برکت سے مراد واللہ اعلم وہ چیز ہے جس سے غذا حاصل ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ تکلیف سے محفوظ رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت وغیرہ پر تقویت دینے والی ہوتی ہے۔ امام نووی نے کہا کہ اصل برکت زیادتی اور خیر کا ثبوت ہے۔ تیسری یہ کہ انگلیوں کو چاٹنے میں مناسب ہے کہ وہ بیچ کی انگلی سے ابتداء کرے پھر شہادت کی انگلی پھر انگوٹھا جیسا کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں آیا جس کو طبرانی نے الاوسط میں روایت کیا ہے۔ چوتھی یہ کہ تین انگلیوں سے کھانا سنت ہے اور اگر وہ پانچ انگلیوں سے کھائے تو کوئی مانع نہیں لیکن وہ سنت کا ترک کرنے والا ہوگا سوائے ضرورت کے برتن کو چاٹنے کا مستحب ہونا بھی وارد ہوا ہے عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی بناء پر جس کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص برتن کو اور اپنی انگلیوں کو چاٹتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت میں شکم سیر کرتا ہے۔ امام ترمذی نے پیالہ کا استغفار کرنا بھی روایت کیا ہے۔ پانچویں یہ کہ برتن کو چاٹنے کا مستحب ہونا بھی وارد ہوا ہے عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی بناء پر جس کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص برتن کو اور اپنی انگلیوں کو چاٹتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت میں شکم سیر کر دیتا ہے۔ امام ترمذی نے پیالہ کا استغفار کرنا بھی روایت کیا ہے۔ چھٹی یہ کہ پیالے کے استغفار کرنے سے کیا مراد ہے؟ احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں تمیز یا گویائی پیدا کرے جس سے وہ مغفرت طلب کرے گا۔ اور بعض احادیث میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ وہ یہ کہتا ہے ”اللہ تعالیٰ تجھے آگ سے بچائے جس طرح تو نے مجھے شیطان سے بچایا“ اور اس کے حقیقی معنی میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ وہ مجازاً ہوا اور اس سے کنایہ کیا گیا ہو۔ (ماخوذ از عمدۃ القاری)۔ 1 قوله: كل من حيث شئت (جہاں سے چاہے تو کھاؤ): ابن ملک نے کہا: اس میں تنبیہ ہے اس بات پر کہ میوہ اگر ایک قسم کا ہو تو کھانے کی طرح اپنے ہاتھ کو اس میں گھمانا جائز نہیں ہے اور اس بات کا آگاہ کرنا ہے کہ اگر کھانا مختلف قسم کا ہو تو ہاتھ گھمانا جائز ہے اور وہ جس قسم (کے کھانے) چاہے کھائے۔ (مرقات)۔ 1 قوله: هذا الوضوء ...... الخ (یہ وضو ہے): وضو سے وضوء عرفی مراد ہے یعنی دونوں ہاتھوں کو دھونا اس چیز کی وجہ سے جس کو آگ نے متغیر کردیا ہے۔ یعنی اس کھانے کی وجہ سے جس کو آگ سے پکایا گیا ہو اب رہا وضوء شرعی تو وہ ابتداء اسلام میں تھا پھر اس جیسی احادیث سے منسوخ ہو گیا۔ (مرقات الکوکب الدری)۔ 2 قوله: فاذا سقطت من احدكم اللقمة ........ الخ (پس تم میں سے کسی سے کوئی لقمہ گر جائے) صاحب ردالمختار نے کہا کہ ہاتھ سے گرا ہوا لقمہ نہ چھوڑنا مسنون ہے کیونکہ چھوڑنا اسراف ہے بلکہ مناسب ہے کہ اسی کو لے۔ 1 قوله: لا آكل متكئًا ......... الخ (میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ہوں) صاحب عمدۃ القاری نے کہا: ہمارے شیخ زین الدین رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: امام ترمذی نے ٹیک لگا کر کھانے کی احادیث کو کراہت پر محمول کیا ہے جیسا کہ انہوں نے اس باب پر قائم کیا ہے اور یہی جمہور کا قول ہے۔ ایک سے زائد صحابہ و تابعین نے ٹیک لگا کر کھایا ہے۔ - (مصنف ابن ابی شیبہ)۔ پھر انہوں نے کہا کھانے کی حالت میں ٹیک لگانے کی مراد سے متعلق اختلاف کیا گیا ہے پس کہا گیا ہے کہ اس سے مراد چار زانو بیٹھنے والا ہے۔ کھانے کیلئے تیار ہونے والے کی طرح ہے ان کا کلام ختم ہوا۔ اور تلویح میں ہے یہاں پر ٹیک لگانے والے سے مراد وہ شخص ہے جو گدی پر جو اس کے نیچے ہے جم کر بیٹھنے والا ہے اور ہر وہ شخص جو گدی پر برابر بیٹھ جائے وہی ٹیک لگانے والا ہے گویا کہ اس نے اپنی مقعد کو باندھ دیا ہے اور اس کے نیچے گدی پر بیٹھ کر اس کو بند کر لیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ٹیک لگانے سے مراد اپنے دونوں پہلوؤں میں سے کسی ایک پر ٹیک لگانے والا ہے اور وہ متکبرین کا عمل ہے۔ خطابی نے کہا عوام الناس کے مطابق ٹیک لگانے والا وہ شخص ہے جو اپنے دونوں پہلوؤں میں سے کسی ایک کی طرف مائل ہو۔ اور یہ اس طرح نہیں ہے بلکہ ٹیک لگانے والا یہاں وہ شخص ہے جو اپنے نیچے کی گدی پر جم کر بیٹھنے والا ہوا اور ہر وہ شخص جو اپنی گدی پر سیدھے بیٹھ جائے پس وہی ٹیک لگانے والا ہے۔ یعنی جب میں کھاتا ہوں تو گدی پر زیادہ کھانے والے کی طرح جم کر نہیں بیٹھتا ہوں بلکہ میں تھوڑا کھانا کھاتا ہوں، پس میرا بیٹھنا اس کے لئے جم کر نہیں ہوتا ہے۔ ترمذی کے الفاظ یہ ہیں اب رہا میں تو (ٹیک) لگا کر نہیں کھاتا ہوں۔ اس سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ ٹیک لگا کر کھانے کو ترک کرنا آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے ہیں۔ تحقیق کے ابوالعباس بن العاص نے اسکو آپ ﷺ کے خصائص میں شمار کیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ آپ ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ طبرانی نے اوسط میں ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ٹیک لگا کر مت کھاؤ اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں۔ بیہقی نے کہا یقیناً اس کو اس لئے بھی ناپسند کیا گیا ہے کہ یہ متکبرین کا عمل ہے اور یہ عجم کے بادشاہوں سے لیا گیا ہے۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس خالد بن ولید عبیدہ سلمانی محمد بن سیرین عطاء بن یسار رحمہم اللہ سے اس کے مطلقاً جائز ہونے کی تخریج کی ہے۔ جب اس کا مکروہ ہونا یا خلاف اولیٰ ہونا ثابت ہو جائے تو کھانے والے کے لئے بیٹھنے کے طریقے کے بارے میں مستحب یہ ہے کہ اپنے دونوں گھٹنوں اور دونوں قدموں کے پشت کے بل بیٹھے یا اپنے سیدھے پاؤں کو کھڑا کرے اور بائیں پیر پر بیٹھے (عمدۃ القاری کا کلام ختم ہوا) اس لئے میں کہتا ہوں کہ عالمگیری میں ہے ٹیک لگا کر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر رکھ کر یا سہارا لگا کر کھانا اور پینا مکروہ ہے (فتاویٰ عتابیہ) صاحب رد المحتار نے کہا ٹیک لے کر یا کھلے سر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور عالمگیری میں یہ بھی ہے کہ ٹیک لگا کر کھانے میں کوئی حرج نہیں جبکہ وہ تکبر کی وجہ سے نہ ہو اور ظہیریہ میں ہے یہی قول مختار ہے۔ - (جواہر الاخلاطی)۔ 1 قوله: ما اكل النبي صلى الله عليه وسلم على خوان (نبی کریم ﷺ نے چوکی پر نہیں کھایا) عمدۃ القاری میں ہے قوم نے جو کچھ ذکر کیا ہے وہ خوان کی ہیئت کی مکمل صراحت نہیں ہے اور وہ تانبہ کا ایک بڑا طبق ہے جس کے نیچے تانبے کی اس کے ساتھ لگی ہوئی کرسی ہوتی ہے جس کی لمبائی ایک ذراع کے مقدار ہوتی ہے جس میں خوشبو ڈالی جاتی تھی اور عیش پسند لوگوں میں سے کسی بڑے کے سامنے رکھا جاتا ہے اور جس کو دو یا دو سے زائد افراد ہی اٹھاتے ہیں۔ تورپشتی نے کہا لفظ خوان معرب ہے جس پر کھایا جاتا ہے اور اس پر کھانا ہمیشہ خوشحال زندگی والوں کی عادت اور متکبرین کا عمل رہا ہے تاکہ ان کو کھاتے وقت جھکنے کی ضرورت نہ ہو۔ (انتہی)۔ صاحب مرقات نے کہا نہایہ میں ہے: سفرہ وہ کھانا ہے جس کو مسافر تیار کرتا ہے اور اکثر اس کو گول چمڑے میں اٹھایا جاتا ہے پس کھانے کا نام اس چمڑے کو دیا گیا اور اس سے موسوم کر دیا گیا جیسا کہ پکھال کو راویہ نام دیا گیا اور اس کے سوا بہت سے اسماء منقولہ ہیں پھر وہ ایسی چیز کے لئے مشہور ہو گیا جس پر کھانا رکھا جاتا ہے چمڑا ہو یا اس کے علاوہ سوائے مائدہ، اس چیز کی وجہ سے جو گزر گیا ہے کہ وہ عام طور پر متکبرین کی علامت ہے (سلسلہ صفحہ گزشتہ) پس سفرہ پر کھانا سنت ہے اور خوان (چوکی) پر کھانا بدعت ہے لیکن وہ جائز ہے۔ الکوکب الدری میں ہے چوکی پر کھانا یا تو عمداً ہوگا یا اتفاقاً۔ اگر پہلا ہو تو اس کی کراہت لازم ہے اگر دوسرا ہو تو چوکی پر کھانے میں کوئی حرج نہیں مگر یہ کہ وہ متکبرین کی عادت سے ہونے کی بناء پر مسنون ہوگا جبکہ وہ ان کی عادت ہو۔ حاصل کلام یہ ہے کہ چوکی پر کھانا حقیقت میں ترک اولی سے زائد نہیں ہوگا۔ اب رہا جب اس سے یہود ونصاری سے تشبہ لازم ہوتا ہو جیسا کہ ہمارے ملک میں ہے تو وہ مکروہ تحریمی ہے۔ اب رہا جب وہ ان کی عادت نہ ہو تو بھی چند فوائد کے چھوٹ جانے سے خالی نہیں ہے کیونکہ جب کھانا بلند مقام پر ہوگا تو وہ اس کے کھانے میں تھکنے پر مجبور ہوگا تو اس سے پیٹ کی گنجائش کم ہوگی اور وہ تھوڑے سے کھانے پر اکتفا کرے گا۔ اور یہ کہ اس ہیئت پر بیٹھنے سے عاجزی انکساری آتی ہے برخلاف اس کے۔ اسی طرح چھوٹی پیالی کا حکم ہے۔ اور وہ سکوری سے معرب ہے اور وہ اس سے معرب نہ ہو تو بھی اسی کے معنی میں ہے اور وہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک (قسم کے) کھانے پر اکتفا کرنے کی بناء پر ہے کیونکہ وہ کم کھانے کا سبب ہے۔ اور متخم (کا کھانا) کثرت طعام کا موجب ہوتا ہے اور میدہ کی روٹی کا حکم اسی قیاس پر ہے۔ کیونکہ وہ مترفہ الحال آسودہ زندگی والوں کی عادت ہونے کے ساتھ کھانے والے کے لئے زیادہ کھانے کا سبب بنتا ہے علاوہ ازیں گیہوں کی کمی کے باوجود ان کے پاس چھلنیاں نہیں تھے جس سے آٹا چھانا جاتا اور اس وقت عموماً ان کا کھانا جو ہی تھا۔ 1 قولہ: ما اعلم النبي ﷺ رأى رغيفًا مرققا (میں نہیں جانتا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی دونوں آنکھوں سے میدہ کی چپاتی دیکھی ہو) ابن بطال نے کہا میدہ کی چپاتی کھانا جائز ہے مباح ہے اور ہمارے آقا رسول اکرم ﷺ نے اس کو صرف دنیا سے بے رغبتی اور عیش و عشرت کے ترک کرنے اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے اس کو ترجیح دینے وغیرہ کے لئے چھوڑا ہے۔ (عمدۃ القاری)۔ اور عالمگیری میں ہے فالودہ اور اقسام کے لذیذ کھانے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اسی طرح ظہیریہ میں ہے اور اقسام کے میوہ جات سے لذت پانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ اس کو ترک کرنا افضل ہے۔ (خزانۃ المفتین)۔