اردو
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے
ایک پالتو بکری کا دودھ نچوڑا گیا اور اس کے دودھ کو اس کنویں کے پانی سے ملایا گیا جو انس رضی اللہ عنہ کے
گھر میں تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ پیالہ دیا گیا آپ نوش فرمائے اور آپ کے بائیں
جانب ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدھے جانب ایک اعرابی تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ آپ ابوبکر
رضی اللہ عنہ کو دیجئے مگر آپ اس اعرابی کو دیئے جو آپ کے سیدھے جانب تھا پھر آپ نے فرمایا پہلے
سیدھے جانب والے پھر اُن کے سیدھے جانب والے 1؎۔
اور ایک روایت میں ہے پہلے وہ لوگ جو سیدھے جانب ہیں پھر وہ جوان کی
سیدھے جانب ہیں سنو تم سیدھے جانب والوں کو دیا کرو۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2029a (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5612 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “The right, then the right”: Al-Zarqani said: Anas said this is a Sunnah, meaning prioritize the right, even if less virtuous, with no opposition except Ibn Hazm, who said it is not permissible to prioritize the non-right without permission, per “Al-Ta’liq al-Mumajjad.” “Fath al-Bari” states: This is recommended by the majority, but Ibn Hazm said it is obligatory.
Note 1
(١) قوله: الأيمن فالأيمن: قال الزرقاني: قال أنس: هو سنة أي تقدمه الأيمن، وإن كان مفضولًا ولم يخالف في ذلكإلا ابن حزم، فقال: لا يجوز تقدمه غير الأيمن إلا بإذنه. كذا في (التعليق الممجّد). وقال في (فتح الباري): هذا مستحب عند الجمهور. وقال ابن حزم: يجب.