اردو
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
کدو کے خول اور سبز روغنی برتن اور ڈامر ی روغن کے برتن اور لکڑی میں کھودے ہوئے برتن سے منع
فرمایا 1؎ اور حکم فرمایا کہ چمڑے کی مشکیزوں میں نبیذ بنائی جائے۔ (مسلم)۔
امام بخاری کی ایک روایت میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہری ٹھلیا کی نبیذ سے منع فرمایا ہے تو میں نے کہا
کیا ہم سفید میں پیئیں تو انہوں نے کہا نہیں۔ (بخاری)۔
بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
میں تم کو برتنوں سے منع کیا تھا تو برتن کسی چیز کو حلال کرتے ہیں نہ اس کو حرام کرتے ہیں اور ہر نشہ آور
چیز حرام ہے۔ (مسلم)۔
امام مسلم کی ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں
نے تم کو مشروبات سے منع کیا تھا سوائے اس کے کہ چمڑے کے برتنوں میں ہو۔ پس تم ہر برتن میں پیو 2؎
مگر نشہ آور کو مت پیو۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5596 (unverified) 45% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement: "The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the use of dubba, etc.": This was in the early days of Islam out of fear that it might become intoxicating without being noticed. When time passed, and the prohibition of intoxicants became known and widespread, preparing nabidh in all vessels was permitted, as stated in Al-Marqat.
Note 2
(2) The statement: "Drink from any vessel, etc.": For this reason, it is stated in Ad-Durr al-Mukhtar: Preparing nabidh in dubba (gourds), hantam (green jars), muzaffat (pitch-coated vessels), and naqir (hollowed wood) is permissible, and what was narrated about prohibition has been abrogated.
Note 1
(١) قوله: إن رسول اللّٰه صلي الله عليه واله وسلم نهى عن الدباء إلخ: وكان ذلك في أول الإسلام خوفا من أن يصير مسكرا، ولا يعلم به،فلما طال الزمان، وعلم حرمة السكرواشتهرت، أبيح الانتباذ في كل وعاء. كذا في (المرقاة).
Note 2
(٢) قوله: فاشربوا في كل وعاء إلخ: لذلك قال في (الدر المختار): وحل الانتباذ اتخاذ النبيذ في الدباء، جمع الدباءة وهوالقرع، والحنتم: جرة خضراء، والمزفت: المطلي بالزفت، أي القير، والنقير: الخشبة المنقورة، وما ورد من النهينسخ.
Note 1
ملا علی قاریؒ نے کہا ہے کہ یہ حدیث عجیب احادیث میں سے ہے اس بناء پر کہ اس میں ناسخ و منسوخ دونوں جمع ہیں۔