العربية
Typed, pending editorial approval
٤٣٦٥ - وَعَنْ أَبِيْ الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صلي الله عليه واله وسلم (إِنَّ اللهَ أَنْزَلَ الدَّاءَوَالدَّوَاءَ، وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً، فَتَدَاوَوْا وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ). رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
قَالَ فِي (الدُّرِّ الْمُخْتَارِ): اخْتُلِفَ فِي التَّدَاوِيْ بِالْمُحَرَّمِ، وَظَاهِرُ الْمَذْهَبِ الْمَنْعُ، كَمَا فِيرَضَاعِ
(الْبَحْرِ) لَكِنَّ نَقَلَ الْمُصَنَّفُ ثَمَّةٌ وَهُنَا عَنْ (الْحاوِيْ) وَقِيْلَ: يُرَخَّصُ إِذَا عَلِمَ فِيْهِالشَّفَاءَ وَلَمْ يَعْلَمْ دَوَاءً آخرَ كَمَا رُخِّصَ الْخَمْرُ لِلْعَطَشَانِ، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى، انْتَهَى.
وَحَدِيْثُ الْبَابِ (وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ) مَحْمُوْلُ عَلَى عَدْمِ الْحِاجَةِ بِأَنْ يَكُوْنَ هُنَاكَ دَوَاءٌغَيْرُهُ يُغْنِيْ عَنْهُ، وَيَقُوْمُ مَقَامَهُ مِنَ الطَّاهِرَاتِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3874 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 4538 (unverified) 80% confidence
Mishkat (candidate) 4538
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
صاحب درمختار نے کہا ہے کہ حرام شئی سے علاج کرنے میں اختلاف ہے۔ ظاہر مذہب میں ہے کہ یہ منع ہے جیسا کہ ”بحر رائق“ میں رضاعت کے بیان میں ہے لیکن مصنف نے وہاں اور یہاں حاوی سے نقل کیا ہے: کہا گیا ہے جب اس میں شفاء کا علم ہو اور اس کے سوا کوئی دوسری دوا علم میں نہ ہو تو اس کی اجازت دی جاتی ہے جیسا کہ پیاسے کے لئے ایسی صورت میں شراب کی اجازت دی گئی ہے۔ اور اسی پر فتویٰ ہے اھ۔ اور اس باب کی حدیث شریف کہ تم حرام سے علاج مت کرو، اس حدیث کو ضرورت نہ ہونے کی صورت پر محمول کیا جائے گا کہ وہاں پاکیزہ چیزوں میں سے ایسی کوئی دوسری دوا موجود ہو جو اس سے بے نیاز کرتی ہو اور اس کے قائم مقام ہو۔ (درمختار)