اردو
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے صحابہ میں سے چند حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مشروم زمین کی
چیچک ہوتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کماۃ (مشروم) ”من“ کی قسم میں سے ہے
اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کا ہے اور وہ زہر کے لئے شفاء ہے۔ ابو ہریرہ
رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تو میں تین یا پانچ یا سات مشروم لیا اور ان کو نچوڑا اور ان کا پانی ایک شیشی
میں رکھ لیا اور کمزور بینائی والی میری ایک باندی کی آنکھوں میں لگایا تو وہ اچھی ہوگئی۔ (ترمذی)
اور امام ترمذی نے حضرت سعید بن زید سے روایت کی ہے۔
اور اسی طرح امام احمد، امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے ابو سعید رضی اللہ
تعالیٰ عنہ و جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے۔
اور ابو نعیم نے کتاب الطب میں ابن عباس اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے
روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2069 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ اس سے ان کی مراد مکمل حدیث شریف ہے ورنہ ”الكمأة من المن وماء ها شفاء للعين“ (کماۃ (مشروم) ”من“ کی قسم سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے) یہ صحیح حدیث ہے۔ جس کو امام احمد اور شیخین (بخاری، مسلم)۔