English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: Some of the Prophet’s companions said to the Messenger of Allah (ﷺ): What about truffles, the smallpox of the earth? The Prophet (ﷺ) said: Truffles are from manna, and their water is a cure for the eye. Ajwah dates are from Paradise and a cure for poison. Abu Hurairah said: I took three, five, or seven truffles, squeezed them, put their water in a bottle, and used it as kohl for my servant girl who had weak eyes, and she was cured [Narrated by Tirmidhi, who said: This is a good hadith].
The entire hadith is intended, but the statement “Truffles are from manna, and their water is a cure for the eye” is authentic .
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٣٧٠ - وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلي الله عليه واله وسلم قَالُوا لِرَسُوْلِ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم لْكَمْأَةُ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ، فَقَالَ النَبِيُّ صلي الله عليه واله وسلم (الْكَمْأَهُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءً لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَهُمِنَ الجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءً مِنَ السُّمِّ. قَالَ أبُوْ هُرَيْرَةَ: أُخَذْتُ ثَلَاثَةَ أُكْمُوٍ أوْ خَمْسًا أوْ سَبْعًافَعَصَرْتُهُنَّ، وَجَعَلْتُ مَاءَهُنَّ فِي قَارُورَةٍ، وَكَحَلْتُ بِهِ جَارِيَةً لِي عَمْشَاءَ فَبَرَأَتْ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثُ حَسَنٌ.
أَرَادَ الْحَدِيْثَ بِكَمَالِهِ وَإِلَّا فَجُمْلَةُ (الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءً لِلْعَيْنِ) صَحِيْحُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالشَّيْخَانِ وَالتَّرْمِذِيُّ عَنْ سَعِيْدِ بْنِ زَيْدٍ، وَكَذَا أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيّ وَابْنُمَاجَه عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ وَجَابِرٍ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ فِي الطَّبِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاس هما وَعَنْ عَائِشَةَ.
اردو
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے صحابہ میں سے چند حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مشروم زمین کی
چیچک ہوتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کماۃ (مشروم) ”من“ کی قسم میں سے ہے
اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کا ہے اور وہ زہر کے لئے شفاء ہے۔ ابو ہریرہ
رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تو میں تین یا پانچ یا سات مشروم لیا اور ان کو نچوڑا اور ان کا پانی ایک شیشی
میں رکھ لیا اور کمزور بینائی والی میری ایک باندی کی آنکھوں میں لگایا تو وہ اچھی ہوگئی۔ (ترمذی)
اور امام ترمذی نے حضرت سعید بن زید سے روایت کی ہے۔
اور اسی طرح امام احمد، امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے ابو سعید رضی اللہ
تعالیٰ عنہ و جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے۔
اور ابو نعیم نے کتاب الطب میں ابن عباس اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے
روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2069 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ اس سے ان کی مراد مکمل حدیث شریف ہے ورنہ ”الكمأة من المن وماء ها شفاء للعين“ (کماۃ (مشروم) ”من“ کی قسم سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے) یہ صحیح حدیث ہے۔ جس کو امام احمد اور شیخین (بخاری، مسلم)۔