Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Visions

Hadith 4456

Opening narrations

In this book

Current reading

Visions

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 4456Volume 3

English

Samurah ibn Jundab (may Allah be pleased with him) narrated: “The Messenger of Allah (ﷺ) often said to his companions: ‘Did any of you see a vision?’ Whoever Allah willed would narrate it. One morning he said to us: ‘Last night, two beings came to me, took me, and said: “Come.” I went with them.’ He mentioned a hadith similar to the previous one at length. In Samurah’s hadith, there is an addition not in the previous narration, which is his saying (ﷺ): ‘We came to a lush garden with all the blooms of spring. In its midst was a tall man whose head I could hardly see, so lofty it was in the sky, and around him were more children than I had ever seen. I said to them: ‘What is this? Who are these?’ They said: ‘Move on.’ We moved until we reached a great tree, the greatest and most beautiful I had ever seen. They said: ‘Climb it.’ We climbed and reached a city built with bricks of gold and silver. We came to its gate, requested entry, and it was opened. We entered and met men, half of their form as beautiful as you could see, and half as ugly as you could see. They said to them: ‘Go and plunge into that river.’ It was a river flowing across, its water pure white. They went and plunged, then returned to us, the ugliness gone, in the most beautiful form.’ In the interpretation of this addition: ‘The tall man in the garden is Ibrahim (peace be upon him), and the children around him are every child who died in a state of natural faith (fitrah).’ Some Muslims asked: ‘O Messenger of Allah, even the children of polytheists?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Even the children of polytheists. 1 As for the people, half beautiful and half ugly, they are those who mixed righteous deeds with evil ones, and Allah pardoned them.’” .

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٤٥٦ - وَعَنْهُ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَقُوْلَ لِأَصْحَابِهِ: (هَلْرَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيا) فَيَقُصُ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُصَّ، وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ:(إِنَّهُ أَتَّانِيَ اللَّيْلَةَ آتِيَانِ، وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي وَإِنَّهُمَا قَالَا لِي: انْطَلِقْ وَإِنِّي انْطَلَقْتُمَعَهُمَا)، وَذَكَرَ مِثْلَ الْحَدِيْثِ الَّذِيْ تَقَدَّمَ بِطُوْلِهِ، وَفِي حَدِيْثِ سَمُرَةَ هَذَا زِيَادَةٌ لَيْسَتْ فِيالْحَدِيْثِ الْمَذْكُوْرِ قَبْلَهُ، وَهِي قَوْلُهُ صلي الله عليه واله وسلم : فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ معتمه فِيهَا مِنْ كُلِّ نَوْرِ الرَّبِيعِ،وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْ الرَّوْضَةِ رَجُلُ قَائِمُ طَوِيلٌ لَا أَكَادُ أَنْ أَرَى رَأْسَهُ طُولًا فِي السَّمَاءِ، فَإِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ، قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَذَا؟ وَمَا هَؤُلَاءِ؟) قَالَ:(قَالَا لِيْ:انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى دَوْحَةٍ عَظِيمَةٍ لَمْ أَرَ دَوْحَةً قَطَّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلَا أَحْسَنَ). قَالَ:(قَالَا لِيْ: ارْقَ فِيهَا فَارْتَقَيْنَا فِيهَا فَانْتَهَيْتُ إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنٍ ذَهَبٍ وَلَبِنٍفِضَّةٍ، فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ فَاسْتَفْتَحْنَا فَفُتِحَ لَنَا فَدَخَلْنَا فَلَقِينَا فِيهَا رِجَالًا شَطْرٌ مِنْخَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، وَشَطْرٌ كَأَقْبَجِ مَا أَنْتَ رَاء)، قَالَ: (قَالَا لَهُمْ: اذْهَبُوا فَقَعُوافِي ذَلِكَ النَّهَر) قَالَ:(فَإِذَا نَهَرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِيْ كَأْنَّ مَاءَهُ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ، فَذَهَبُوافَوَقَعُوا فِيهِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا وَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ وَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ).وَذَكَرَ فِي تَفْسِيْرِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ: (وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي رَأَيْتَ فِي الرَّوْصَةِ فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ عليه السلام ، وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ فَكُلُّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ)، قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ:يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَأَوْلَادٌ 1 الْمُشْرِكِيْنَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم: (وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ، وَأَمَّا الْقَوْمُالَّذِينَ كَانُوْا شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنٌ وَشَطْرٌ مِنْهُمْ قَبِيْحٌ، فَإِنَّهُمْ قَوْمٌ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَسَيّئًا فَتَجَاوَزَ اللهُ عَنْهُمْ). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6006
انہی سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے بکثرت باتیں فرمایا کرتے تھے منجملہ ان کے یہ ہے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے تو جس شخص کا بیان کرنا اللہ کو منظور ہوتا وہ آپ سے بیان کرتا۔ ایک صبح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: رات میرے پاس دو آنے والے آئے ان دونوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا چلیے میں ان کے ساتھ چلا اور اس حدیث کے جیسا ہی بیان کیا جو تفصیل کے ساتھ گزری، اور سمرہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے جو اس سے پہلے ذکر کردہ حدیث میں نہیں ہے۔ اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے پس ہم ایک سرسبز باغ کے پاس آئے جس میں موسم بہار کی ساری کلیاں ہیں، کیا دیکھتا ہوں کہ باغ کے درمیان ایک طویل القامت شخصیت ہے کہ میں ان کے سر کو ان کی اونچائی میں طویل ہونے کی وجہ سے دیکھ نہیں سکتا تھا اور اس شخصیت کے اطراف اس کثرت سے بچے ہیں کہ میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا، تو میں نے ان دونوں سے کہا: یہ کیا ہے؟ اور یہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ان دونوں نے مجھ سے کہا: چلیے، ہم چلے اور ایک بڑے باغ تک پہنچے میں نے کبھی اس سے بڑا باغ نہ دیکھا اور نہ اس سے زیادہ خوبصورت۔ فرمایا: ان دونوں نے مجھ سے کہا: اس میں آپ چڑھیے تو آپ نے فرمایا: ہم اس میں چڑھے اور ایک ایسے شہر میں پہنچے جو سونے اور چاندی کی اینٹ سے بنا ہوا تھا، شہر کے دروازہ پر پہنچ کر ہم اس کو کھلوائے تو ہمارے لئے کھول دیا گیا پس ہم اس میں داخل ہوئے اور ہم سے ایسے لوگ ملاقات کئے جن کے جسم کا آدھا حصہ اس سے بھی زیادہ حسین کی طرح ہے جو تم دیکھتے ہو اور ان کا آدھا حصہ اس سے بھی زیادہ خراب ہے جو تم دیکھتے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں نے ان سے کہا: تم جاؤ اور اس نہر میں اترو اور آپ سے فرمایا: کیا دیکھتا ہوں کہ عرض میں ایک نہر ہے جو بہہ رہی ہے گویا اس کا پانی خالص سفید ہے وہ سب جا کر اس میں اتر گئے پھر وہ ہمارے پاس واپس آئے اس حال میں کہ ان سے وہ خرابی دور ہو چکی تھی پس وہ سب سے اچھی صورت میں تبدیل ہوگئے۔ اور اس اضافہ کی تفسیر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب رہے وہ طویل قامت شخص جو باغ میں تھے وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہیں اور رہے وہ لڑکے جو آپ کے اطراف ہیں تو وہ ہر وہ بچہ ہے جو فطرت پر انتقال کیا ہے، راوی نے کہا: بعض مسلمانوں نے کہا اور مشرکین کی اولاد1 یا رسول اللہ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کی اولاد بھی۔ اب رہا وہ لوگ جن کا آدھا حصہ حسین اور آدھا حصہ خراب ہے تو ایسی قوم ہے جو ملے جلے کام کئے کچھ اچھے اور کچھ برے، اللہ تعالیٰ نے ان کو درگزر فرما دیا۔ (بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7047 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Even the children of polytheists…

(1) The statement: “Even the children of polytheists…”: Ibn al-Humam said in his writings: There is disagreement about the question of polytheists’ children and whether they enter Paradise or the Fire. Abu Hanifah and others hesitated. Conflicting narrations exist, so their matter is left to Allah, the Exalted. Muhammad ibn al-Hasan said: Know that Allah does not punish anyone without sin. His student, Ibn Abi Sharif, said in his commentary: Some, like Al-Qasim ibn Muhammad and Urwah ibn al-Zubayr, leading Tabi‘in, refrained from speaking on their fate in the Hereafter. Abu al-Barakat al-Nasafi weakened the narration of hesitation from Abu Hanifah, saying the authentic narration is that their fate is in Allah’s will, based on the clear hadith: “Allah knows best what they would have done.” Imam Nawawi mentioned three views: the majority say they are in the Fire; the second is hesitation; the third, which he deemed correct, is that they are in Paradise, based on the hadith: “Every child is born on the fitrah.” This aligns with Muhammad ibn al-Hasan’s view, with other weaker opinions. Thus, in Radd al-Muhtar.

Note 1

قوله

(١) قوله: وأولاد المشركين إلخ: قال ابن الهمام في مسائرته: وقد اختلف في سؤال أطفال المشركين، وفي دخولهمالجنة أو النار، فتردد فيهم أبو حنيفة وغيره. وقد وردت فيهم أخبار متعارضة، فالسبيل تفويض أمرهم إلى اللّٰه تعالى.قال محمد بن الحسن: اعلم أن اللّٰه لا يعذب أحدا بلا ذنب. وقال تلميذه ابن أبي شريف في شرحه: وقد نقل الأمربالإمساك عن الكلام في حكمهم في الآخرة مطلقًا عن القاسم بن محمد وعروة بن الزبير من رؤوس التابعين وغيرهما.وقد ضعف أبو البركات النسفي رواية التوقف عن أبي حنيفة، وقال: الرواية الصحيحة عنه أنهم في المشيئة؛ لظاهرالحديث الصحيح: والله أعلم بما كانوا عاملين. وقد حكى فيهم الإمام النووي ثلاثة مذاهب: الأكثر أنهم في النار.الثاني: التوقف. الثالث: الذي صححه أنهم في الجنة؛ لحديث: (كل مولود يولد على الفطر)، ويميل إليه ما مر عنمحمد بن الحسن، وفيهم أقوال آخر ضعيفة. كذا في (رد المحتار).

Note 1

1 قوله: اولاد المشركين الخ (اور مشرکین کی اولاد) ابن ہمام رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”مسائرۃ“ میں کہا ہے: مشرکین کے بچوں سے سوال اور ان کے جنت یا دوزخ میں داخلہ سے متعلق اختلاف ہے پس ان کے بارے میں امام اعظم ابوحنیفہ وغیرہ نے توقف کیا ہے اور ان سے متعلق متعارض احادیث وارد ہوتی ہیں اس کا راستہ تو ان کے معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے تفویض کرنا ہے اور امام محمد بن حسن (رحمہ اللہ) نے فرمایا جان لو کہ اللہ تعالیٰ کسی گناہ کے بغیر عذاب نہیں دیتا ان کے شاگرد ابن ابی شریف نے اس کی شرح میں فرمایا ہے کہ قاسم بن محمد، عروہ بن زبیر وغیرہ جیسے کبار تابعین سے ان کے آخرت کے حکم سے متعلق گفتگو کرنے سے رک جانے کا مطلق حکم منقول ہے۔ اور ابوالبرکات نسفی نے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے مروی توقف کی روایت کو ضعیف قرار دیا اور کہا کہ امام صاحب سے صحیح روایت یہ ہے کہ حدیث صحیح کے ظاہر کی بناء پر وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہیں، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا کرنے والے تھے اور امام نووی نے ان کے بارے میں تین مذاہب کو بیان کیا ہے۔ اکثر کے پاس وہ دوزخ میں ہیں، دوسرا مذہب توقف کا ہے اور تیسرا مذہب جس کو انہوں نے صحیح قرار دیا ہے حدیث ”كل مولود يولد على الفطرة“ کی بناء پر وہ جنت میں ہیں۔ اور محمد بن حسن رحمہ اللہ سے مروی قول بھی اسی مفہوم میں ہے ان کے بارے میں اور بھی ضعیف اقوال ہیں۔ (رد المحتار) 1 قولہ: من رآنى فى المنام فقد رآنى (جس نے خواب میں میرا دیدار کیا یقیناً اس نے مجھے دیکھا) گویا وہ عالم شہود و نظام میں مجھے دیکھا ہے لیکن اس پر احکام کی بناء نہیں رکھی جاتی کہ وہ اس کی وجہ سے صحابہ میں سے ہو جائے اور اس حالت میں جو کچھ سنا ہے اس پر عمل کرے اور کہا گیا کہ یہ حدیث شریف جملہ خبریہ ہے یعنی جو نیند میں میرا دیدار کرے اس کو خبر دو کہ اس کا دیکھنا حقیقت ہے اور حق ہے، اضغاث احلام سے نہیں ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کتب میں مرقومہ صفت اور اس معروف ہیئت کے مطابق ہو جو بیان کی گئی ہے تو تاویل کی کوئی حاجت نہیں بلکہ کہا جائے گا کہ وہ مطلقاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی دیدار کیا ہے۔ اب رہا آپ کی صفت کے سوا دیکھے مثلاً آپ کو مسجد کے کسی حصہ میں وصال کئے ہوئے دیکھے جس طرح کہ بعض مشائخ کے بارے میں بتایا گیا کہ انہوں نے اس حالت میں دیکھا تو تاویل اور تعبیر کی ضرورت ہوگی کہ کہا جائے گا مسجد کی زمین کا وہ حصہ مغصوبہ ہے یا مملوکہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شرع کے قواعد کے مطابق صحیح نہیں ہے گویا اس جگہ میں آپ کا وصال کر دیا گیا اور جس نے قواعد شریعت کو زندہ کیا گویا اس نے سارے انسانوں کی حیات کا سامان کیا۔ اسی طرح ہمارے امام اعظم اپنے منام مبارک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متفرق استخوان مبارک کو جمع کرنے کا جو خواب دیکھے تو اس کی ابن سیرین رحمہ اللہ نے تعبیر دی کہ آپ مسلمانوں کے امام اور صحابہ کے درمیان مختلف احادیث اور تابعین کے درمیان پھیلی ہوئی احادیث کے مفاہیم کو جمع کرنے والے بن جائیں گے اور کبھی تعبیر میں اختلاف خواب دیکھنے والے کی ایمانی کیفیت اور اس کی نیتیں اور اس کے امور باطنیہ کے مطابق احوال کے اختلاف کی بناء پر ہوتا ہے۔ (ماخوذ از مرقات) 1 قولہ: فقد رأى الحق (یقیناً اس نے حق دیکھا) یہاں حق سے مراد وہ سچ ہے جس کی ضد جھوٹ ہے یعنی اس کا خواب سچا ہے کہ اس نے بالیقین مجھ ہی کو دیکھا دوسرے کو نہیں اور اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان دلالت کرتا ہے جو دوسری روایت میں ہے فقد رآني الحق (اس نے حقیقت میں مجھے دیکھا) یعنی حقیقت کا دیکھنا یا اس کا معنی ہے کہ اس نے سچا خواب دیکھا ہے۔ (ماخوذ از مرقات) 2 قولہ: فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ (عنقریب وہ بیداری میں میرا دیدار کرے گا) یعنی دنیا میں یا آخرت میں۔ امام نووی نے کہا اس میں چند اقوال ہیں ایک یہ کہ اس سے آپ ﷺ کے اہل زمانہ مراد لئے جائیں اور معنی یہ ہے کہ جو نیند میں مجھے دیکھے اور ہجرت نہ کیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ہجرت کرنے کی اور بیداری میں کھلے طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی توفیق عطا کرے گا دوسرا یہ کہ وہ دار آخرت میں بیداری میں خواب کی تصدیق دیکھ لے گا اس لئے کہ آپ ﷺ کی ساری امت آخرت میں آپ ﷺ کا دیدار کرے گی تیسرا یہ کہ وہ بروز محشر آپ سے تقرب اور آپ سے شفاعت وغیرہ میں معیت خاص سے مشرف ہو کر آپ کا خصوصی دیدار کرے گا۔ (مرقات)