Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Visions

Hadith 4455

Opening narrations

In this book

Current reading

Visions

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 4455Volume 3

English

Samurah ibn Jundab narrated: “The Prophet (ﷺ), after praying, would turn to us with his face and say: ‘Who among you saw a vision last night?’ If someone had seen one, they narrated it, and he would say: ‘As Allah wills.’ One day he asked us: ‘Did any of you see a vision?’ We said: ‘No.’ He said: ‘But I saw last night two men came to me, took my hand, and led me to the Holy Land. There was a man sitting and another standing with an iron hook in his hand, inserting it into one side of his mouth, tearing it to the back of his neck, then doing the same to the other side. As one side healed, he repeated it. I said: ‘What is this?’ They said: ‘Move on.’ We moved until we came to a man lying on his back, with another standing over him with a rock or stone, smashing his head. When he struck, the stone rolled away, and he went to retrieve it. By the time he returned, the man’s head had healed, and he struck it again. I said: ‘What is this?’ They said: ‘Move on.’ We moved to a hole like an oven, narrow at the top and wide at the bottom, with fire burning beneath it. When it flared, they rose, almost exiting, and when it subsided, they returned. In it were naked men and women. I said: ‘What is this?’ They said: ‘Move on.’ We moved to a river of blood with a man standing in its middle and another on the bank with stones. When the man in the river tried to leave, the other threw a stone in his mouth, sending him back. Every time he tried to leave, a stone was thrown, returning him. I said: ‘What is this?’ They said: ‘Move on.’ We reached a green garden with a great tree, at its base an old man and children, and a man near the tree kindling a fire. They took me up the tree and entered a house in its middle, more beautiful than any I had seen, with old men, youths, women, and children. They took me out, went up the tree again, and entered another house, even better and greater, with old men and youths. I said: ‘You have shown me around tonight; tell me what I saw.’ They said: ‘Yes. The man whose mouth was torn is a liar who tells a lie that spreads to the horizons, and this is done to him until the Day of Judgment. The one whose head was smashed is a man whom Allah taught the Quran, but he slept away from it at night and did not act on it by day; this is done to him until the Day of Judgment. Those in the hole are fornicators. The one in the river is an eater of usury. The old man at the tree’s base is Ibrahim (peace be upon him), the children around him are the children of people, the one kindling the fire is Malik, the keeper of the Fire, the first house you entered is the house of the common believers, and this house is the house of the martyrs. I am Jibril, and this is Mikail. Raise your head.’ I looked up and saw something like a cloud.’ In another narration: ‘Like a white canopy.’ They said: ‘That is your abode.’ I said: ‘Let me enter my abode.’ They said: ‘You have a lifespan yet to complete; had you completed it, you would have entered your abode.’” .

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٤٥٥ - وَعَنْ سَمُرَةَ بْن جُنْدَبٍ قَالَ: كَانَ 1 النبيُّ صلي الله عليه واله وسلماذَا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَابِوَجْهِهِ، فَقَالَ: (مَنْ رَأَى مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟) قَالَ: فَإِنْ رَأَى أَحَدٌ قَصَّهَا، فَيَقُولُ:(مَا شَاءَالله)، فَسَأَلَنَا يَوْمًا فَقَالَ: (هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا؟) قُلْنَا: لَا، قَالَ:(لَكِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَرَجُلَيْنِ أَتَيَانِيْ، فَأَخَذَا بِيَدِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى الْأَرْضِ مُقَدَّسَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ وَرَجُلٌ قَائِمُبِيَدِهِ كَلُّوبٌ مِنْ حَدِيدٍ، يُدْخِلُهُ فِي شِدْقِهِ فَيَشُقَهُ حَتَّى يَبْلُغَ قَفَاهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ بِشِدْقِهِ الْآخَرِمِثْلَ ذَلِكَ، وَيَلْتَئِمُ شِدْقُهُ هَذَا فَيَعُودُ، فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ. قُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَلَا: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى قَفَاهُ وَرَجُلٌقَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِفِهْرٍ أَوْ صَخْرَةٍ، فَيَشْدَخُ بِهِ رَأْسَهُ، فَإِذَا ضَرَبَهُ تَدَهْدَهَ الْحَجَرُ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِلِيَأْخُذَهُ، فَلَا يَرْجِعُ إِلَى هَذَا حَتَّى يَلْتَئِمَ رَأْسُهُ وَعَادَ رَأْسُهُ كَمَا هُوَ، فَعَادَ إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ، قُلْتُ:مَنْ هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى تَقْبٍ مِثْلِ التَّنُورِ أَعْلَاهُ ضَيِّقٌ وَأَسْفَلُهُ وَاسِعُ، يَتَوَقَّدُتَحْتَهُ نَارًا، فَإِذَا اقْتَرَبَ ارْتَفَعُوا حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا، فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا، وَفِيهَارِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةً.فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَمٍ، فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌعَلَى وَسَطِ النَّهَرِ، وَعَلَى شَطَّ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ، فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ،فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ رَتَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ، فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ لِيَخْرُجَرَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ فَيَرْجِعُ كَمَا كَانَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَاإِلَى رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ، فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ، وَفِي أَصْلِهَا شَيْخٌ وَصِبْيَانٌ، وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنَالشَّجَرَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارُ يُوقِدُهَا، فَصَعِدَا بِيَ الشَّجَرَةَ، فَأَدْخَلَانِي دَارًا أَوْسَطَ الشَّجَرَةِ لَمْ أَرَقَطَّ أَحْسَنَ مِنْهَا، فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ وَشَبَابٌ، وَنِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ، ثُمَّ أَخْرَجَانِي مِنْهَا، فَصَعِدَابِيَ الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ، فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ، فَقُلْتُ: طَوَّفْتُمَانِيَاللَّيْلَةَ، فَأَخْبِرَانِي عَمَّا رَأَيْتُ، قَالَا : نَعَمْ، أَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَكَذَّابٌ، يُحَدِّثُ بِالْكَذْبَةِ، فَتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَالْأفَاقَ، فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ رَأْسُهُ فَرَجُلُ عَلَّمَهُ اللهُ الْقُرْآنَ، قَنَامَعَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ فِيهِ بِالنَّهَارِ، يُفْعَلُ بِهِ مَا رَأَيْتَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِفَهُمْ الزُنَاةُ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آكِلُوا الرِّبَا، وَالشَّيْخُ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيمُ عليه السلام وَالصَّبْيَانُ حَوْلَهُ فَأَوْلَادُ النَّاس، وَالَّذِي يُوقِدُ النَّارَ مَالِكَ خَازِنُ النَّارِ، وَالدَّارُ الْأُولَى الَّتِيدَخَلْتَ دَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ، وَأَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ، وَأَنَا جِبْرِيلُ وَهَذَا مِيكَائِيلُ،فَارْفَعْ رَأْسَكَ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا فَوْفِيْ مِثْلُ السَّحَابِ. وَفِي رِوَايَةٍ: (مِثْلُ الرّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ، قَالَا: ذَاكَ مَنْزِلُكَ، قُلْتُ: دَعَانِي أَدْخُلْ مَنْزِلِي، قَالًا: إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ، فَلَوْ اسْتَكْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6004Noor 6005
سیدنا سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا فرماتے تو رخ انور کے ساتھ ہماری جانب1 متوجہ ہوتے پھر فرماتے:تم میں سے آج کی رات کس نے خواب دیکھا ہے؟ راوی نے کہا: اگر کوئی دیکھا ہوتا اس کو بیان کر دیتا، تو آپ ﷺ اللہ کو جو منظور ہوتا فرماتے۔ ایک دن آپ ﷺ نے ہم سے دریافت فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ہم نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: میں نے رات میں دو آدمی دیکھے ہیں وہ میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑے اور مقدس سرزمین کی طرف لے گئے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اور ایک شخص کھڑا ہوا ہے اس کے ہاتھ میں لوہے کی آنکس ہے۔ جس کو یہ اس کے جبڑے میں ڈال کر اس کو پھاڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کی گدی تک پہنچتا ہے پھر دوسرے جبڑے میں یہی عمل کرتا ہے اور اس کا یہ جبڑا پھر مل جاتا ہے تو وہ دوبارہ لوٹتا ہے اور اسی کے جیسا کرتا ہے۔ میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: چلے ہم چلے یہاں تک کہ ایک گدی کے بل لیٹے ہوئے شخص کے پاس آئے، اور اس کے سر کے پاس ایک شخص پتھر یا چٹان لئے کھڑا ہے جس سے اس کا سر کچلتا ہے، جب اس کو مارتا ہے تو پتھر لڑھکتے ہوئے چلے جاتا ہے پھر وہ شخص اس کے پاس لینے جاتا ہے اور اس کے پاس لوٹنا بھی نہیں کہ اس کا سر درست ہو جاتا اور جیسا تھا ویسا ہو جاتا ہے تو وہ شخص اس کے پاس لوٹ کر آتا ہے پھر مارتا ہے۔ میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے عرض کیا: چلے، ہم وہاں سے چلتے رہے یہاں تک کہ تنور کے جیسے ایک سوراخ کے پاس پہنچے اس کا بالائی حصہ تنگ اور نیچے کا کشادہ تھا اس کے نیچے آگ بھڑک رہی تھی جب آگ لپکتی ہے تو وہ لوگ اوپر آتے ہیں حتیٰ کہ اس سے نکلنے کے قریب ہوتے ہیں اور جب آگ بجھتی ہے تو وہ اس میں لوٹ جاتے ہیں، اور اس میں چند مرد اور برہنہ عورتیں ہیں۔ میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: چلے، ہم چلتے رہے یہاں تک کہ خون کی ایک نہر کے پاس پہنچے، اس میں نہر کے وسط میں ایک آدمی کھڑا ہے اور نہر کے کنارے ایک آدمی ہے جس کے سامنے پتھر ہے پس جب آدمی آتا ہے جو نہر میں ہے اور جب نکلنے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ آدمی پتھر اس کے منہ پر پھینک مارتا ہے جو اس کو جہاں تھا وہیں اس کو لوٹا دیتا ہے، پس جب بھی وہ نکلنے کے لئے آتا تو یہ شخص پتھر اس کے منہ پر پھینک مارتا ہے تو وہ جیسا تھا ویسا ہی لوٹ جاتا۔ میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: چلے ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ایک ہرے بھرے باغ میں آئے، اس میں ایک بڑا درخت تھا جس کی جڑ میں ایک بزرگ اور چند بچے تھے اور کیا دیکھتا ہوں کہ درخت کے قریب ایک آدمی ہے جس کے سامنے آگ ہے جس کو وہ دہکا رہا ہے، وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھے پس درخت کے درمیان ایک گھر میں مجھے داخل کئے جس سے زیادہ خوبصورت میں نے کبھی نہیں دیکھا اس میں چند بزرگ و نوجوان عورتیں اور بچے ہیں پھر وہ دونوں مجھے وہاں سے لائے پس مجھ کو لے کر درخت پر چڑھے ایسے گھر میں داخل ہوئے جو پہلے والے سے زیادہ خوبصورت و بہتر تھا، اس میں چند بزرگ اور نوجوان تھے۔ میں نے ان دونوں سے کہا: رات میں آپ نے مجھے سیر کرائی تو میں نے جو کچھ دیکھا ہے اس کے بارے میں مجھے بتاؤ۔ انہوں نے کہا: ہاں! اب رہا وہ شخص جس کو آپ نے دیکھا ہے کہ اس کے جبڑے پھاڑے جا رہے ہیں وہ جھوٹا شخص ہے جو جھوٹی باتیں بیان کرتا ہے اور اس سے وہ نقل کی جاتی ہیں یہاں تک وہ دور دور تک پہنچ جاتی ہے، پس قیامت تک اس سے یہی معاملہ کیا جائے گا، جس کا آپ مشاہدہ فرما رہے تھے۔ اور وہ شخص جس کو آپ نے دیکھا کہ اس کا سر کچلا جا رہا ہے یہ وہ شخص ہے جس کو اللہ نے قرآن کا علم دیا تو وہ رات میں اس سے غافل ہو کر سو گیا اور دن میں اس میں جو کچھ ہے اس پر عمل نہیں کیا تو اس کے ساتھ قیامت تک وہی معاملہ کیا جاتا رہے گا جس کا آپ نے مشاہدہ فرمایا۔ اور جن کو آپ نے سوراخ میں دیکھا وہ زنا کار ہیں۔ اور جس کو آپ نے نہر میں دیکھا وہ سود خوار ہے۔ اور جن بزرگ کو آپ نے درخت کی جڑ میں دیکھا وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ اور ان کے اطراف جو بچے ہیں وہ لوگوں کے بچے ہیں۔ اور جو آگ دہکا رہے تھے وہ مالک ہیں جو دوزخ کے داروغہ ہیں۔ وہ پہلا گھر جس کے اندر آپ تشریف لے گئے تھے عام مومنین کا گھر ہے اب رہا یہ گھر تو یہ شہداء کا گھر ہے اور میں جبرئیل ہوں اور یہ میکائیل ہیں، آپ اپنا سر مبارک اٹھائیں، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے اوپر بادل کے مثل۔ اور ایک روایت میں سفید بادل کے مثل کچھ ہے ان دونوں نے کہا وہ آپ کا مقام ہے میں نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں میری منزل میں چلا جاؤں انہوں نے کہا: آپ کی عمر باقی ہے جس کو آپ پورا نہیں کئے ہیں جب آپ اس کو پورا کرلیں گے تو اپنی منزل میں تشریف لے جائیں گے۔ (بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1386 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

قوله

(١) قوله: وأولاد المشركين إلخ: قال ابن الهمام في مسائرته: وقد اختلف في سؤال أطفال المشركين، وفي دخولهمالجنة أو النار، فتردد فيهم أبو حنيفة وغيره. وقد وردت فيهم أخبار متعارضة، فالسبيل تفويض أمرهم إلى اللّٰه تعالى.قال محمد بن الحسن: اعلم أن اللّٰه لا يعذب أحدا بلا ذنب. وقال تلميذه ابن أبي شريف في شرحه: وقد نقل الأمربالإمساك عن الكلام في حكمهم في الآخرة مطلقًا عن القاسم بن محمد وعروة بن الزبير من رؤوس التابعين وغيرهما.وقد ضعف أبو البركات النسفي رواية التوقف عن أبي حنيفة، وقال: الرواية الصحيحة عنه أنهم في المشيئة؛ لظاهرالحديث الصحيح: والله أعلم بما كانوا عاملين. وقد حكى فيهم الإمام النووي ثلاثة مذاهب: الأكثر أنهم في النار.الثاني: التوقف. الثالث: الذي صححه أنهم في الجنة؛ لحديث: (كل مولود يولد على الفطر)، ويميل إليه ما مر عنمحمد بن الحسن، وفيهم أقوال آخر ضعيفة. كذا في (رد المحتار).

Note 1

(حاشیہ صفحہ گزشتہ) جب نماز ادا فرما لیتے تو رخ انور کے ساتھ ہماری جانب متوجہ ہوتے) امام نووی نے فرمایا: اس میں امام کا سلام کے بعد مصلیوں کی طرف رخ کرنا مستحب ہونے پر اور خواب کے بارے میں پوچھنے کے استحباب پر اور تعبیر بتانے والے کا دن کے ابتداء میں اس کی تعبیر بتانے کی طرف جلدی کرنے پر تنبیہ ہے قبل اس کے کہ اس کا ذہن دنیا کے معاش میں مصروف ہونے کی وجہ سے ہٹ جائے اور (مبادرت) اس لئے کہ (خواب) دیکھنے والے کا زمانہ قریب ہے اور کوئی ایسی چیز اس کو لاحق نہ ہو جو اس (خواب) کو مخلوط کر دے اور اس لئے کہ کبھی خواب سے وہ چیز ہوتی ہے جس میں جلدی کا کرنا مستحب ہوتا ہے جیسے خیر پر ابھارنا اور معصیت سے ڈرانا: اور اس میں بعد نماز صبح علم اور خواب کی تعبیر میں گفتگو کرنے کی اباحت ہے اور یہ کہ اس (امام) کا علم وغیرہ کے لئے بجانب قبلہ پیٹھ کر کے بیٹھنا جائز ہے۔ میں کہتا ہوں اگر رخ کرنے کے ساتھ استقبال (قبلہ) کا تصور اگر نہ ہو تو وہ علم کے لئے افضل ہے اور خطبہ میں ہر حال متعین ہے۔ اب رہا ان دونوں کے سوا میں استقبال قبلہ تو وہ مستحب ہے بسبب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت آنے کے جیسا کہ طبرانی نے روایت کیا بزرگ ترین مجلس وہ ہے جس میں استقبال قبلہ ہو (مرقات)