English
Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) narrated that a man came to the Prophet (ﷺ) and said, “Peace be upon you.” He responded and then sat down. The Prophet (ﷺ) said, “Ten.” Then another came and said, “Peace be upon you and the mercy of Allah.” He responded and sat down, and the Prophet said, “Twenty.” Then another came and said, “Peace be upon you and the mercy of Allah and His blessings.” He responded and sat down, and the Prophet said, “Thirty.” [Narrated by At-Tirmidhi and Abu Dawud]
Malik narrated from Muhammad ibn Amr ibn Ata, who said: “I was sitting with Abdullah ibn Abbas when a Yemeni man entered and said, ‘Peace be upon you and the mercy of Allah and His blessings,’ and then added something more. Ibn Abbas, whose sight had gone by then, said, ‘Who is this?’ They said, ‘This is the Yemeni who visits you,’ and described him until he recognized him. Ibn Abbas said, ‘The greeting ends at blessings.’”
Muhammad said in Al-Muwatta: “This is what we follow. If someone says, ‘Peace be upon you and the mercy of Allah and His blessings,’ he should stop there, as following the Sunnah is best.” For this reason, it is said in Ad-Durr al-Mukhtar: “The responder should not add beyond ‘and His blessings.’”
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٤٦٤ - وَعَنْ عِمْرَانَ بْن حُصَيْنٍ (رضي الله عنه) أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ النَّبِيُّ : عَشْرُ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ، فَقَالَ: «عِشْرُوْنَ) ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ، فَقَالَ: «عِشْرُوْنَ» ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ ، فَقَالَ: «ثَلَاثُوْنَ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
وَرَوَى مَالِكُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ يَمَانِيُّ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ثُمَّ زَادَ شَيْئًا مَعَ ذَلِكَ أَيْضًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَنْ هَذَا؟ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، قَالُوا: هَذَا الْيَمَانِيُّ الَّذِي يَغْشَاكَ فَعَرَّفُوهُ إِيَّاهُ حَتَّى عَرَفَهُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ السَّلَامَ انْتَهَى إِلَى الْبَرَكَةِ.
قَالَ مُحَمَّدُ فِي الْمُوَطَّأَ وَبِهَذَا نَأْخُذُ ، إِذَا قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ فَلْيَكْفُفْ؛ فَإِنَّ اتَّبَاعَ السُّنَّةِ أَفْضَلُ، وَلِذَلِكَ قَالَ فِي الدُّرِّ الْمُخْتَارِ»: وَلَا يَزِيدُ الرَّادُ عَلَى وَبَرَكَاتُهُ».
اردو
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں حاضر ہوا، اور ”السلام عليكم“ عرض کیا، تو آپﷺ نے اس کو جواب دیا پھر وہ بیٹھ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: ”دس نیکیاں“ پھر ایک دوسرا شخص آیا اور ”السلام عليكم و رحمة الله“ عرض کیا، تو آپﷺ نے اس کو جواب
دیا وہ بیٹھ گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ”بیس“ پھر ایک دوسرا شخص آیا اور ”السلام عليكم ورحمة الله و بركاته“ عرض کیا،
تو آپﷺ نے اس کو جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا تو حضورﷺ نے فرمایا: ”تیس“۔ (ترمذی، ابوداؤد)۔
محمد بن عطاء سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک یمنی شخص آپ کے پاس آیا اور ”السلام عليكم ورحمة الله و بركاته“
عرض کیا پھر اس کے ساتھ کچھ اضافہ بھی کیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ کون شخص ہے؟۱؎ ان دنوں آپ کی
بینائی جا چکی تھی۔ لوگوں نے کہا: یہ وہی یمنی شخص ہے جو آپ کے پاس آیا کرتا ہے اور ان لوگوں نے آپ سے اس
کا تعارف کروایا اور آپ نے اس کو پہچان لیا۔ ابن عباس نے فرمایا: سلام برکت پر پورا ہو گیا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 5195 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2689 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 4644 (unverified) 96% confidence
Mishkat (candidate) 4644
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
امام محمد نے مؤطا میں فرمایا: ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں، جب السلام عليكم ورحمة الله و بركاته کہے تو رک جائے، کیونکہ سنت کی اتباع افضل ہے۔ اسی لئے صاحب درمختار نے کہا: جواب دینے والا بھی ”وبركاته“ پر اضافہ نہ کرے۔