Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Etiquette

Hadith 4464

Chapter on Greeting

In this book

Current reading

Etiquette

Chapter on Greeting

Zujajat al-Masabih 4464Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6015Noor 6016
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ”السلام عليكم“ عرض کیا، تو آپﷺ نے اس کو جواب دیا پھر وہ بیٹھ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس نیکیاں“ پھر ایک دوسرا شخص آیا اور ”السلام عليكم و رحمة الله“ عرض کیا، تو آپﷺ نے اس کو جواب دیا وہ بیٹھ گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ”بیس“ پھر ایک دوسرا شخص آیا اور ”السلام عليكم ورحمة الله و بركاته“ عرض کیا، تو آپﷺ نے اس کو جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا تو حضورﷺ نے فرمایا: ”تیس“۔ (ترمذی، ابوداؤد)۔ محمد بن عطاء سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک یمنی شخص آپ کے پاس آیا اور ”السلام عليكم ورحمة الله و بركاته“ عرض کیا پھر اس کے ساتھ کچھ اضافہ بھی کیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ کون شخص ہے؟۱؎ ان دنوں آپ کی بینائی جا چکی تھی۔ لوگوں نے کہا: یہ وہی یمنی شخص ہے جو آپ کے پاس آیا کرتا ہے اور ان لوگوں نے آپ سے اس کا تعارف کروایا اور آپ نے اس کو پہچان لیا۔ ابن عباس نے فرمایا: سلام برکت پر پورا ہو گیا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5195 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2689 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 4644 (unverified) 96% confidence

Mishkat (candidate) 4644

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

امام محمد نے مؤطا میں فرمایا: ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں، جب السلام عليكم ورحمة الله و بركاته کہے تو رک جائے، کیونکہ سنت کی اتباع افضل ہے۔ اسی لئے صاحب درمختار نے کہا: جواب دینے والا بھی ”وبركاته“ پر اضافہ نہ کرے۔