اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6241
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک شخص
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دوسرے شخص کی تعریف کیا، تو آپ نے فرمایا: تجھ پر1
افسوس، تو اپنے بھائی کی گردن کاٹ ڈالا، اسکو تین مرتبہ فرمائے۔ جو شخص تم میں سے تعریف کرنا ہی
چاہتا ہے تو وہ یوں کہے میں فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں اور اللہ اس کا حساب لینے والا ہے اگر وہ اسکو وہ
ایسا ہی نیک سمجھتا ہے اور کسی کو بھی اللہ کے پاس پاکیزہ قرار نہ دے۔ (متفق علیہ)۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “Woe to you, you have cut your brother’s neck…”: In Al-Mirqat, it is said: This was disliked to prevent the praised person from becoming conceited or arrogant, which is a harm to him, as if his neck was cut, leading to his ruin.
Note 1
(۱) قوله : ويلك قطعت عنق أخيك إلخ : قال في «المرقاة»: وإنما كره ذلك لئلا يغتر المقول له فيستشعر الكبر والعجب وذلك جناية عليه، فيصير كأنه قطع عنقه فأهلكه.