سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ضمانت دے میرے لئے اس چیز کی جو اس کے
دو جبڑوں کے درمیان ہے اور اس چیز کی جو اس کے دو پاؤں کے درمیان ہے تو میں ضمانت دیتا
ہوں اسکو جنت کی۔ (بخاری)۔
سیدنا عبادۃ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم مجھے اپنی طرف سے چھ چیزوں کی ضمانت دو تم کو جنت کی
ضمانت دیتا ہوں۔ جب بات کرو تو سچ بولو، اور جب وعدہ کرو پورا کرو، اور جب تمہارے پاس
امانت رکھی جائے تو اسکو ادا کرو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، اپنی نگاہوں کو نیچی رکھو اور اپنے
ہاتھ روک لو۔ (احمد، بیہقی شعب الایمان)۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو وہ کونسی چیز ہے جو لوگوں کو جنت میں کثرت سے داخل
کرتی ہے، وہ اللہ کا تقویٰ اور حسن اخلاق ہے، کیا تم جانتے ہو وہ کونسی چیز ہے جو کثرت سے لوگوں
کو دوزخ میں داخل کرتی ہے؟ وہ دو کھوکھلی چیزیں ہیں: منہ اور شرمگاہ۔(ترمذی، ابن ماجہ)۔
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور عرض کیا: نجات کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اپنی زبان کو اپنے اوپر قابو میں رکھو اور تیرا گھر تیرے لئے وسیع رہے اور اپنے گناہ پر رو۔(احمد، ترمذی)۔
سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں
نے کہا: یا رسول اللہ! جن چیزوں کا مجھ پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوف فرماتے ہیں ان میں زیادہ
خوفناک کونسی چیز ہے، انہوں نے کہا: آپ اپنی زبان مبارک کو پکڑے اور فرمایا: یہ ہے۔(ترمذی)۔
سیدنا اسلم سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک
دن ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور وہ اپنی زبان کو کھینچ رہے تھے تو حضرت عمر
رضی اللہ عنہ نے کہا: رک جائیے، اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی مغفرت فرما دی ہے، تو ان سے ابوبکر
رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: کہ یہی (زبان) ہے جو مجھکو ہلاکتوں کی جگہوں میں ڈالی ہے۔(مالک)۔
سیدنا ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے اس
حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب ابن آدم صبح کرتا ہے
تو زبان کے سامنے سارے اعضاء عاجزی کرتے ہیں اور کہتے ہیں تو ہمارے حق میں اللہ سے
ڈر۔ بیشک ہم تجھ سے ہیں۔ اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب سیدھے رہیں گے اور تو ٹیڑھی ہوجائے
تو ہم سب ٹیڑھے ہوجائیں گے۔(ترمذی)۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی خاموش رہا وہ نجات پایا۔ (احمد، ترمذی، دارمی، بیہقی شعب الایمان)۔
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خاموش رہنے پر آدمی کا جمے رہنا اللہ کے پاس ساٹھ(60)
سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ (بیہقی شعب الایمان)۔
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: اے ابوذر کیا میں تم کو دو ایسی خصلتیں نہ بتاؤں جو پیٹھ پر ہلکے اور میزان میں بہت وزنی
ہیں؟ تو میں نے کہا: ہاں! کیوں نہیں، آپ نے ارشاد فرمایا: بکثرت خاموشی اور حسن اخلاق اور قسم
ہے اس ذات کی جسکے قبضہ میں میری جان ہے، مخلوق نے ان کے مثل کوئی کام نہیں کیا۔ (بیہقی:
شعب الایمان)۔
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، پھر انہوں نے ایک طویل حدیث بیان
کی یہاں تک کہ کہا: میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کچھ نصیحت کیجئے، آپ
نے فرمایا: میں تم کو اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ وہ زیادہ زینت دینے والا ہے تیرے
تمام معاملات کو، میں نے عرض کیا: آپ مجھے مزید نصیحت فرمائیں، آپ نے ارشاد فرمایا:
تو قرآن مجید کی تلاوت اور اللہ بزرگ و برتر کے ذکر کو لازم کر لے کیونکہ وہ آسمان میں تیرے
لئے ذکر ہے اور زمین میں تیرے لئے نور ہے۔ میں نے عرض کیا: میرے لئے اس پر اضافہ
فرمایئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو طویل خاموشی کو لازم کر لے کیونکہ وہ شیطان
کو بھگانے کا ذریعہ ہے اور دین کے معاملہ میں تیرے لئے مدد ہے، میں نے عرض کیا: اور اضافہ
فرمایئے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم زیادہ ہنسی سے بچو، کیونکہ وہ دل کو مردہ کر دیتی ہے
اور تیرے چہرے کے نور کو دور کر دیتی ہے، میں نے عرض کیا: میرے لئے اس پر اضافہ فرمائیں،
آپ ﷺ نے فرمایا تم حق بات بولا کر اگرچہ وہ کڑوی ہو، میں نے عرض کیا: میرے لئے اس پر اور
اضافہ فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے
مت ڈرو، میں نے عرض کیا: آپ میرے لئے اس میں اور اضافہ فرمائیں، آپ نے فرمایا: تیرے
عیوب جس کو تو جانتا1 ہے لوگوں کے برائیاں سے روک دیں۔ (بیہقی شعب الایمان)۔
Let what you know of your own faults prevent you from [focusing on] the faults of others
(1) His statement: “Let what you know of your own faults prevent you from [focusing on] the faults of others”: meaning, let your awareness of your own shortcomings deter you from focusing on others’ flaws, as narrated by Anas, reported by Ad-Daylami: “Blessed is the one whose own faults preoccupy him from the faults of others.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: ليحجزك إلخ : أي ليمنعك عن الناس، أي ليمنعك عن الناس، أي عيوبهم ما تعلم من نفسك، أي من عيوبها، كما ورد عن أنس أخرجه الديلمي : طوبى لمن شغله عيبه عن عيوب الناس. كذا في «المرقاة».
سیدنا عمران بن حطان سے مروی ہے انہوں نے کہا: میں حضرت
ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو میں نے ان کو گھٹنے کھڑے کر کے ان پر کالی کملی
لپیٹ کر مسجد میں تنہا بیٹھے ہوئے پایا تو میں نے کہا: اے ابوذر یہ تنہائی کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تنہائی برے ہمنشین سے بہتر ہے، اور
نیک ہمنشین تنہائی سے بہتر ہے، اور خیر کی بات لکھانا خاموشی سے بہتر ہے اور خاموشی برائی کی
بات لکھانے سے بہتر ہے۔ (بیہقی شعب الایمان)۔
سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی خیر کی بات کرتا ہے جس کی انتہا کو وہ نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ
اس کے لئے اس کی وجہ سے اس دن تک اپنی خوشنودی لکھ دیتا ہے جس دن وہ اللہ سے ملاقات کرے گا،
اور آدمی کوئی برائی کی بات کرتا ہے جس کے انجام کو وہ نہیں جانتا، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس پر اپنی
ناراضگی اس دن تک کے لئے لکھ دیتا ہے جس دن وہ اس سے ملاقات کرے گا۔ (شرح السنہ)۔
امام مالک، امام ترمذی، امام ابن ماجہ نے اس کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ اللہ کی خوشنودی کی کوئی بات کرتا ہے جس کی طرف وہ توجہ نہیں کرتا
تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے کئی درجے بلند کرتا ہے اور بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی بات کرتا ہے
جس کی طرف وہ توجہ نہیں کرتا اس کی وجہ سے وہ جہنم میں گرتا ہے۔ (بخاری)۔
ان دونوں (بخاری، مسلم) کی ایک روایت میں ہے اس کی وجہ سے
دوزخ میں اس سے زیادہ دور فاصلہ پر گر جاتا ہے جو مشرق اور مغرب کے درمیان ہے۔
انہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: کہ بندہ کوئی بات کہتا ہے اور وہ صرف لوگوں کو ہنسانے کی خاطر کہتا ہے۔ تو اس کی وجہ سے وہ اس
سے بھی زیادہ دور مسافت میں گر جاتا ہے جو آسمان اور زمین کے درمیان میں ہے۔ اور وہ پھسل
جاتا ہے اپنی زبان سے اس سے زیادہ جو اپنے قدم سے پھسل جاتا ہے۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے
کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خرابی ہے اس شخص کے لئے جو بیان کرتا ہے تو جھوٹ بولتا
ہے تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو ہنسائے خرابی ہے اس کیلئے اس کیلئے خرابی ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، دارمی)۔
سیدنا سفیان بن اسد حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے
کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بڑی خیانت کی بات ہے تم اپنے
بھائی سے کوئی ایسی بات بیان کرو کہ وہ تم کو سچا سمجھ رہا ہے اور تم اس کے ساتھ جھوٹ بول رہے ہو۔ (ابوداؤد)۔
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن تمام خصلتوں پر پیدا ہو سکتا ہے مگر جھوٹ اور
خیانت پر نہیں۔ (احمد، بیہقی فی شعب الایمان، عن سعد بن ابی وقاص)۔
سیدنا صفوان بن سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں! عرض کیا
گیا: کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں، پھر آپ سے عرض کیا گیا: کیا مومن
جھوٹا ہوتا ہے؟ فرمایا نہیں۔ (مالک، بیہقی شعب الایمان مرسلا)۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک
میل دور ہو جاتا ہے۔ (ترمذی)۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا:
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم سچائی کو لازم کرلو کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور
بیشک نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ اور آدمی ہمیشہ سچ بولتا ہے اور سچائی کو تلاش کرتا ہے یہاں تک
کہ وہ اللہ کے پاس صدیقین میں لکھا جاتا ہے، اور تم جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ برائی کی طرف لے
جاتی ہے اور برائی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کو تلاش کرتا
ہے یہاں تک کہ اللہ کے پاس جھوٹا لکھا جاتا ہے۔ (متفق علیہ)۔
مسلم کی ایک روایت میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا: کہ سچائی نیکی ہے اور
بیشک نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور جھوٹ برائی ہے، اور برائی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی جھوٹ 1 کو چھوڑ دے جبکہ وہ باطل 2 ہے تو اس کے لئے جنت کے
کنارے میں ایک محل بنایا جائے گا اور جو آدمی جھگڑے کو چھوڑ دے حالانکہ وہ حق پر ہو تو اس کے لئے جنت کے
بیچ میں محل بنایا جائے گا اور جو آدمی اپنے اخلاق کو اچھے کرے تو اس کے لئے محل اس کے اعلیٰ حصہ میں بنایا جائے گا۔
ترمذی نے اسکی روایت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، اور اسی طرح شرح السنہ
میں ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1993 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
Whoever abandons lying
(1) His statement: “Whoever abandons lying” means at the time of its temptation. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
when it is false
(2) His statement: “when it is false” is an explanatory clause between the condition and the consequence to deter from lying, as lying is inherently false. Or it is a circumstantial clause referring to the object, meaning it is false with no beneficial justification, such as in war, reconciling people, or permissible indirect expressions. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: من ترك الكذب أي وقت مراثه. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله : وهو باطل : جملة معترضة بين الشرط والجزاء للتنفير عن الكذب، فإن الأصل فيه أنه باطل، أو جملة حالية من المفعول، أي والحال أنه باطل لا مصلحة فيه من مرخصات الكذب، كما في الحرب، أو إصلاح ذات البين والمعاريض. كذا في «المرقاة».
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
شیطان آدمی کی شکل اختیار 3 کر کے قوم کے پاس آتا اور ان سے کوئی جھوٹی بات بیان کرتا ہے،
پھر وہ لوگ الگ الگ چلے جاتے ہیں، پھر ان میں کا کوئی شخص کہتا ہے میں ایک آدمی کو سنا ہوں
اس کے چہرہ کو پہچانتا ہوں اسکا نام کیا ہے نہیں جانتا، وہ بیان کر رہا تھا۔ (مسلم)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
Indeed, Satan may take the form of a man…
(1) His statement: “Indeed, Satan may take the form of a man…”: Al-Tayyibi said: This highlights the need to verify what is heard and to ascertain whether the speaker is truthful, permissible to narrate from, or a liar whose speech must be avoided, as it is stated: “It is sufficient for a man to be a liar that he narrates everything he hears.” [As stated in Al-Mirqat]
سیدتنا ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھوٹا وہ نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے، اور بھلائی
کی بات کہتا ہے، اور کوئی اچھی بات منسوب کرتا ہے۔ (متفق علیہ)۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قیامت کے دن دو رخی آدمی کو بدترین آدمی پاؤ گے جو ان
کے پاس ایک چہرہ سے آتا ہے اور اُن کے پاس ایک 1چہرہ سے۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6058 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2526a (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
who comes to these with one face and to those with another
(1) His statement: “who comes to these with one face and to those with another”: meaning, with a different face, like the hypocrites and talebearers, as stated in Al-Mirqat. In Umdat al-Qari, it is said: This is the forbidden flattery (mudahanah), and he is called two-faced because he shows satisfaction to the people of evil, greeting them with a welcoming and cheerful face, and does the same with the people of truth, mixing with both groups, earning the name of flatterer and deserving severe warning. In another part of Al-Mirqat, it is said: It refers to one who presents himself to a person as a supporter and well-wisher but speaks ill of him in his absence. Alternatively, it means one who acts as a friend to both enemies, praising each while disparaging the other to the other.
Note 1
قوله
(۱) قوله : الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه أي بوجه آخر كالمنافقين والنمامين قاله في «المرقاة». وقال في عمدة القاري وهذه هي المداهنة المحرمة، وسمي ذو الوجهين مداهنا؛ لأنه يظهر لأهل المنكر أنه عنهم راضي، فيلقاهم بوجه سمح بالترحيب والبشر، وكذلك يظهر لأهل الحق ما أظهر لأهل المنكر، فيخلطه لكلتا الطائفتين، وإظهاره الرضى بفعلهم استحق اسم المداهنة، واستحق الوعيد الشديد أيضًا. وقال في المرقاة» في موضع آخر: قيل: المراد به من يرى نفسه عند شخص أنه من جملة محبيه وناصحيه، وهو يحدث في غيبته بمساويه. وقيل: المعنى من كان مع كل واحد من عدوين كأنه صديقه، ويظن أنه ناصر له، ويذم هذا عند ذلك، وذلك عند هذا.
سیدنا عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی دنیا میں دو رخی ہوگا تو اس کے لئے قیامت کے دن آگ کی
دو زبانیں ہوں گی۔ (دارمی)۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کہ چغلخور جنت میں داخل نہیں 2ہوگا۔
(متفق علیہ) اور مسلم کی ایک روایت میں ”نمام“ کا لفظ ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6056 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 105a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
The talebearer will not enter Paradise
(1) His statement: “The talebearer will not enter Paradise”: meaning, he will not enter with the successful ones. The talebearer (qattat) is a slanderer (nammam), and talebearing is conveying speech with the intent of causing corruption. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله : لا يدخل الجنة: أي مع الفائزين قتات أي نمام، والنميمة نقل الكلام على وجه الفساد. كذا في «المرقاة».
سیدنا عبدالرحمن بن غنم اور اسماء بنت یزید دونوں سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نیک بندے وہ ہیں کہ جب ان کو دیکھا جائے تو اللہ یاد
آجائے، اور اللہ کے بندوں میں بدترین وہ ہیں جو چغلی کرتے ہوئے پھرتے ہیں اور محبت کرنے
والے دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں، پاک آدمیوں میں بے حیائی کے کام تلاش کرتے
ہیں۔ (احمد، بیہقی شعب الایمان)۔
سیدنا علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے
کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے اسلام کی خوبی یہ1 ہے کہ وہ ایسی چیز کو چھوڑ
دے جو اس کو فائدہ نہیں دیتی۔ (مالک، احمد)۔
اور ابن ماجہ نے اس کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، اور امام ترمذی نے اور شعب الایمان
میں امام بیہقی نے ان دونوں سے (علی بن حسین اور ابوہریرہ) روایت کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Part of the excellence of a person’s Islam…
(1) His statement: “Part of the excellence of a person’s Islam…”: An-Nawawi said: This is one of the Hadiths upon which Islam revolves. Abu Dawud said: There are four: The first is Nu’man ibn Bashir’s Hadith: “The lawful is clear, the unlawful is clear, and between them are doubtful matters unknown to most.” The second: “Part of the excellence of a person’s Islam is abandoning what does not concern him.” The third: “A believer is not truly a believer until he loves for his brother what he loves for himself.” The fourth: “Actions are judged by intentions.” Alternatively, instead of the third: “Be indifferent to the world, and Allah will love you; be indifferent to what people possess, and they will love you.” [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: من حسن إسلام إلخ : قال النووي: هذا أحد الأحاديث التي عليها مدار الإسلام، قال أبو داود: وهي أربعة، الأول: حديث نعمان بن بشير: الحلال بين والحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن». الثاني: من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه». الثالث: لا يكون المؤمن مؤمنا حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه. الرابع: الأعمال بالنيات». وقيل: بدل الثالث: ازهد في الدنيا يحبك الله، وازهد فيها في أيدي الناس يحبك الناس». كذا في «المرقاة».
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: صحابہ میں
سے ایک کا انتقال ہوا تو ایک صاحب نے کہا: تم کو جنت کی خوشخبری ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: تجھے نہیں معلوم ہو سکتا ہے، وہ کسی ایسی چیز کے بارے میں بات کیا ہو جو اس کے لئے مفید
نہیں تھی یا وہ بخل کیا ہو کسی ایسی چیز میں جس میں اس کے لئے وہ کمی نہیں کرتی تھی۔ (ترمذی)۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “Let what you know of your own faults prevent you from [focusing on] the faults of others”: meaning, let your awareness of your own shortcomings deter you from focusing on others’ flaws, as narrated by Anas, reported by Ad-Daylami: “Blessed is the one whose own faults preoccupy him from the faults of others.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: ليحجزك إلخ : أي ليمنعك عن الناس، أي ليمنعك عن الناس، أي عيوبهم ما تعلم من نفسك، أي من عيوبها، كما ورد عن أنس أخرجه الديلمي : طوبى لمن شغله عيبه عن عيوب الناس. كذا في «المرقاة».