اردو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کہ کوئی زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو زنا کرتے وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا ہے، اور اسی
طرح چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو چوری کرتے وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا ہے،
اور جب شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو شراب پیتے وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا، اور لوٹ
کھسوٹ کرنے والا جب لوٹ کھسوٹ کرتا ہے ایسی حالت میں کہ لوگ خوف و دہشت کے مارے
مایوسی کے عالم میں اس کی طرف دیکھ رہے ہوں تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا اور تم میں جب کوئی
خیانت کرتا ہے تو خیانت کرتے وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا، پس بچو تم (ان مذکورہ گناہوں سے)
پھر کہتا ہوں کہ بچو تم۔
(بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ قتل کرنے والا جب قتل کرتا ہے تو قتل
کرتے وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا۔ عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے
دریافت کیا کہ اس سے ایمان کس طرح علیحدہ کر لیا جاتا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس
طرح اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں انگلیاں ملا کر باہر نکال لیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے
فرمایا: اگر وہ توبہ کرے تو ایمان اسی طرح واپس آ جاتا ہے اور آپ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں
انگلیاں ملا دیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2475 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 57a (unverified) 96% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 53 (unverified) 75% confidence · Validation similarity: 0.901
Mishkat (candidate) 53
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ابوعبداللہ (یعنی امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ایسا شخص مومن کامل نہیں رہتا، اور اس میں ایمان کا نور نہیں پایا جاتا۔ (یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔)