Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Trials

Hadith 5240

بَابُ اَشْرَاطِ السَّاعَةِ ختم ہوا

In this book

Current reading

Trials

بَابُ اَشْرَاطِ السَّاعَةِ ختم ہوا

Zujajat al-Masabih 5240Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6861
سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو جہاد کے لئے پا پیادہ روانہ فرمایا: ہم واپس ہوئے اور کچھ مال غنیمت حاصل نہیں کئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے چہروں میں مشقت کو محسوس کیا تو آپ ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے اللہ!1 تو ان کو میرے حوالے مت کر کہ میں ان کے بارے میں کمزور ہو جاؤں گا اور ان کے نفسوں کے حوالے مت کر کہ وہ ان سے عاجز ہو جائیں گے اور ان کو لوگوں کے بھی حوالے مت کر کہ وہ ان پر دوسروں کو ترجیح دیں گے، پھر آپ نے اپنے دست کرم کو میرے سر پر رکھا پھر ارشاد فرمایا: اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارض مقدس میں اتری ہے تو زلزلے اور رنج و غم اور بڑے بڑے امور قریب آ جائیں گے اور قیامت اس دن تمہارے سر پر میرے اس دست کرم سے بھی جو تمہارے سر پر ہے زیادہ قریب ہو جائے گی۔ (ابوداؤد نے اسکو روایت کیا ہے اور اسکی سند حسن ہے، اور امام حاکم نے اسکو اپنی صحیح میں روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2535 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

O Allah, do not entrust them

(1) His statement: “O Allah, do not entrust them” etc.: This means do not delegate their affairs to me, for I would be too weak to provide for their needs and fulfill their wants; nor to themselves, for they would be overcome by their desires and evils; nor to others, for they would favor themselves over them and neglect them. Rather, they are Your servants, so treat them as masters treat their servants. His statement: “when you see the caliphate has descended to the Holy Land” means from Medina to the land of Sham, as occurred during the rule of Banu Umayyah. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: اللهم لا تكلهم إلخ : المعنى لا تفوض أمورهم إلي فأضعف عن كفاية مؤنتهم وسد خلتهم، ولا تفوضهم إلى أنفسهم، فيعجزوا عن أنفسهم لكثرة شهواتها وشرورها، ولا تفوضهم إلى الناس، فيختاروا أنفسهم على هؤلاء، فيضيعوا، بل هم عبادك فافعل بهم ما يفعل السادة بالعبيد. وقوله: «إذا رأيت الخلافة قد نزلت الأرض المقدسة أي من المدينة إلى أرض الشام، كما وقعت في إمارة بني أمية. التقطته من «المرقاة».