اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6998
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا: حضرت نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گوشت لایا گیا اور شانہ (دست کا گوشت) خدمت میں پیش کیا گیا،
آنحضور اسکو پسند فرماتے تھے اس میں سے کچھ تناول فرمائے، پھر ارشاد فرمائے میں بروز حشر تمام
لوگوں کا سردار ہوں جس 1 دن لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے، سورج قریب ہوگا تو
لوگوں کو اس قدر غم اور مصیبت لاحق ہوگی جس کی وہ طاقت نہیں رکھیں گے، لوگ کہیں گے کیا تم اس
ذات کو نہیں دیکھتے جو تمہارے رب کے پاس تمہاری شفاعت کریں تو وہ حضرت آدم علیہ السلام
کے پاس آئیں گے اور شفاعت کی حدیث شریف ذکر کی اور فرمایا: میں آؤں گا عرش کے 1 نیچے آکر
میرے رب کیلئے سجدہ میں جاؤں گا، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنے محامد اور بہترین تعریف سے کچھ القا
فرمائے گا، مجھ سے پہلے کسی پر القا نہیں کیا، پھر فرمایا جائیگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھائیے اور
جو مانگئے عطا کئے جاؤ گے اور سفارش کیجئے قبول کی جائے گی میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا میری
امت، یا الٰہی! میری امت یا الٰہی میری امت یا الٰہی، کہا جائیگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی امت
میں سے جن پر کوئی حساب نہیں انہیں جنت کے دروازوں میں سے داہنے دروازے سے جنت
میں داخل کیجئے جبکہ وہ سب اسکے سوا دیگر دروازوں میں لوگوں کے ساتھ حق دار ہیں، پھر فرمایا: اس
ذات کی قسم جسکے قدرت میں میری جان ہے! بے شک جنت کے پٹوں میں دو پٹوں کے درمیان
والا فاصلہ مکہ اور ہجر کے درمیان والا فاصلہ ہے۔(بخاری و مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3340 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4712 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 194a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “I will come beneath the Throne”: Reconciling this with Anas’s hadith, “from my Lord in His abode,” is that His abode is Paradise, and Paradise is beneath the Throne. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : يوم يقوم الناس لرب العالمين: بدل من قوله : يوم القيامة. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: فآتي تحت العرش وجه الجمع بينه وبين حديث أنس : على ربي في داره أن يقال: داره الجنة، والجنة تحت العرش. كذا في «المرقاة».