English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “My likeness 1 and the likeness of the prophets is like a palace, beautifully built, except for the place of one brick. The onlookers marveled at the beauty of its construction except for the place of that brick. I am the one who filled the place of that brick, completing the construction, and the messengers were sealed with me.” In another narration: “I am that brick, and I am the seal of the prophets.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٥١٧ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَثَلِي1 وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أَحْسَنَ بُنْيَانَهُ، تَرَكَ مِنْهُ مَوْضِعَ لَبِنَةٍ، فَطَافَ بِهِ النَّظَارُ يَتَعَجَّبُوْنَ مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهِ إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ، فَكُنْتُ أَنَا سَدَدْتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ، خُتِمَ بِيَ الْبُنْيَانُ، وَخُتِمَ بِيَ الرُّسُلُ». وَفِي رِوَايَةٍ: «فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: میری مثال اور پیغمبروں کی مثال(5)، ایسے محل کی مثال ہے جس کی تعمیر بہت خوبصورت
ہے، اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی دیکھنے والے اس کے اطراف گھومتے ہیں اور اس کی حسن
تعمیر پر تعجب کرتے ہیں، سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے، اور میں اس اینٹ کی جگہ کو پُر کیا، اور مجھ سے
اس کی تعمیر ختم ہوئی اور رسولوں کا سلسلہ بھی مجھ پر ختم ہو گیا۔
اور ایک روایت میں ہے: وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3535 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2286a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “My likeness and the likeness of the prophets is like a palace, etc.”: At-Tibi said: This is a representational analogy, comparing the prophets and the guidance, knowledge, and moral virtues they were sent with to a palace, beautifully constructed but missing a brick to complete and perfect it. Our Prophet (ﷺ) was sent to fill that gap, sharing with them in establishing the foundations and raising the structure. This assumes the exception is disconnected. It is also possible that it is connected in meaning, as the meaning is that they marveled at the places except for the place of that brick, and the one who perfects it is none other than what he was distinguished with in terms of love and the true essence that the people of gnosis recognize. The essence is that it hints at what was narrated from him: “I was sent to perfect noble morals.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : مثلي ومثل الأنبياء كمثل قصر إلخ : قال الطيبي : هذا من التشبيه التمثيلي، شبه الأنبياء وما بعثوا به من الهدى والعلم وإرشادهم الناس إلى مكارم الأخلاق بقصر شيد بنياه وأحسن بناؤه، لكن ترك منه ما يصلحه وما يسد خلله من اللبنة، فبعث نبينا لسد ذلك الخلل مع مشاركته إياهم في تأسيس القواعد ورفع البنيان، هذا على أن يكون الاستثناء منقطعا، ويجوز أن يكون متصلا من حيث المعنى؛ إذ حاصل المعنى تعجبهم المواضع إلا موضع تلك اللبنة، وليس ذلك المصلح إلا ما اختص به من معنى المحبة، وحق الحقيقة الذي يعتنيه أهل العرفان حاصله: أنه فيه إيماء إلى ما ورد عنه الله بعثت لأتمم مكارم الأخلاق. كذا في «المرقاة».
Note 1
(5) قوله: مثلي ومثل الأنبياء كمثل قصر الخ۔ علامہ طیبی نے فرمایا یہ تمثیل تشبیہ ہے۔ اس میں انبیاء علیہم السلام اور ان کی لائی ہوئی ہدایت ان کا علم اور ان کا بندگان خدا کی مکارم اخلاق کی طرف رہنمائی کرنے کو ایک ایسے محل سے تشبیہ دی گئی ہے جس کی تعمیر مضبوط اور خوبصورت ہے لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ جو اس میں خوبصورتی اور خوبی لاتی ہے اور اس کے خلل و ضرر کو دور کرتی ہے چھوڑی ہوئی ہے، اور اب اس خلل کو بند کرنے کے لئے اور اس کی اصلاح کے لئے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا گیا۔ آپ اس عمارت کی بنیادوں کو قائم کرنے میں بھی اور اس کی تعمیر میں بھی ان پیغمبروں کے ساتھ شریک و شامل رہے ہیں۔ اور یہ مفہوم اس صورت میں ہے جب کہ اس میں استثناء منقطع ہو، اور اس میں معنی کا لحاظ کرتے ہوئے، یہ استثناء متصل بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ ساری عمارت پر تعجب کا اظہار کر رہے ہیں سوائے اس ایک اینٹ کی جگہ کے اس جگہ کو پُر کرنے اور اس عمارت کو درست کرنے والی شئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ محبوبیت اور آپ کی وہ شان حقیقیہ اختتامی ہے جو اہل عرفان کا مقصود ہے، اور اس میں اس حدیث شریف کی طرف بھی اشارہ ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعثت لأتمم مكارم الاخلاق“ میں مکارم اخلاق کو مکمل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ (مرقات)۔