Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5602

Chapter on His Morals and His Characteristics (Shumail) (ﷺ)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on His Morals and His Characteristics (Shumail) (ﷺ)

Zujajat al-Masabih 5602Volume 5

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) used to mend his sandals, stitch his clothes, and work in his house as any of you would in your house. She said: “He was a human among humans, cleaning 1 his clothes, milking his sheep, and serving himself.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٦٠٢ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَخْصِفُ نَعْلَهُ وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ، وَقَالَتْ: كَانَ بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ يَفْلِي1 ثَوْبَهُ وَيَحْلُبُ شَاتَهُ وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7269
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتے شریف درست فرما لیتے اور اپنا لباس مبارک سی لیتے اور گھر کا کام انجام دیتے جیسے تم میں سے کوئی گھر میں کام کرتا ہے اور فرماتی ہیں آپ پیکر بشریت میں سادگی پسند ہیں اور اپنے لباس مبارک میں دیکھتے(32)، کہ کسی کی کوئی جوں تو نہیں گر گئی ہے، اور اپنی بکری کا دودھ دوہتے اور اپنا کام خود ہی انجام دیتے۔(ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5822 (unverified) 55% confidence

Mishkat (candidate) 5822

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

cleaning his clothes

(1) Her statement: “cleaning his clothes”: with a kasra on the lam, meaning inspecting the clothes for lice. This does not contradict the narration that lice did not harm him. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : يفلي ثوبه : بكسر اللام، أي ينظر في الثوب هل فيه شيء من القمل، وهو لا ينافي ما روي من أن القمل لم يكن يؤذيه. كذا في «المرقاة».

Note 1

(32) قوله: فيفلي ثوبه (لباس میں دیکھتے کہ کسی کی جوں تو نہیں گری) یعنی کپڑے میں دیکھتے کہ اس میں کسی کی جوں تو نہیں گر گئی اور یہ اس روایت کے منافی نہیں ہے جو مروی ہے کہ جوئیں آپ کو تکلیف نہیں دیتی۔(مرقات)۔ قوله حجزته: حاء کے ضمہ اور زے کے سکون کے ساتھ یعنی تہبند باندھنے کی جگہ لتساوى الكعبة یعنی اس کی لمبائی کعبہ کے برابر ہے، اس شان و عظمت کے ساتھ اس کا ظاہر ہونا شاید اس معاملہ کی تعظیم اور ہیبت بتانے کے لئے ہے۔ قوله: ان شئت نبيا عبدا یعنی اگر آپ بندہ کی طرح نبی رہنا چاہتے ہیں یعنی وصف نبوت و عبودیت کے جامع تو اسی کو اختیار کیجئے اور وہی ہو جائے یا آپ کے لئے وہی ہے قوله: شئت نبيا ملكا اگر آپ چاہیں بادشاہ کی طرح نبی رہیں تو اسی طرح ہے، حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار بخشا جو آپ چاہیں اختیار فرمائیں۔ اس میں اشارہ ہے ملوکیت اور کمال عبدیت جمع نہیں ہوتے۔(ماخوذ از مرقات)۔