English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that Abu Jahl said: “Does Muhammad rub his face in the dust among you?” They said: “Yes.” He said: “By Al-Lat and Al-Uzza, if I see him doing that, I will step on his neck.” He approached the Messenger of Allah (ﷺ) while he was praying, intending to step on his neck. But they were shocked to see him retreating on his heels, shielding himself with his hands. They asked him: “What’s wrong with you?” He said: “There is a trench of fire, terror, and wings between me and him.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If he had come closer, the angels would have snatched him limb by limb.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٢٦ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: هَلْ يُعَفِّرُ1 مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، فَقِيلَ: نَعَمْ، فَقَالَ: وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لَأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ ﷺ وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لِيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ، قَالَ: فَمَا فَجِتَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ: إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلًا وَأَجْنِحَةً، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ : لَوْ دَنَا مِنِّي لَاخْتَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7297
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ابوجہل نے کہا کیا
تمہارے درمیان محمد اپنا چہرہ مٹی پر رکھتے (نماز پڑھتے، سجدہ کرتے) ہیں(8)، تو کہا گیا ہاں! تو اس نے
کہا لات و عزی کی قسم اگر میں آپ کو یہ کرتا دیکھوں گا تو آپ کی گردن کو روندوں گا، پس وہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نماز پڑھ رہے تھے آپ کی گردن روندنے کا ارادہ کیا تو اس کو
اچانک یہ بات گھبراہٹ میں ڈال دی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اپنی دونوں ایڑیوں
کے بل پیچھے ہٹنے لگا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے بچاؤ کر رہا تھا، تو اس سے کہا گیا تجھے کیا ہوگیا تھا،
تو اس نے کہا میرے اور انکے درمیان آگ کی خندق تھی اور ایک ہولناک چیز اور پر تھے اور رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو اچک لیتے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2797 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “Does Muhammad rub his face,” with a stressed fa’ and a kasra, refers to rolling in the dust, meaning does he pray and prostrate on the ground. At-Tibi said: He meant prostration on the ground, but used “rubbing” to belittle and demean. His statement: “among you,” means in your presence, with “among” emphasizing its occurrence openly. His statement: “He approached,” means Abu Jahl came to him. His statement: “while he was praying,” refers to the state of the object or subject. His statement: “intending,” with an open ‘ayn, means Abu Jahl aimed to do so. His statement: “they were shocked,” means Abu Jahl came to his people suddenly. His statement: “from him,” means from the Prophet. His statement: “wings,” is the plural of wing, referring to the angels guarding him. His statement: “the angels would have snatched him limb by limb,” means each angel would take a limb, (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: هل يعفر محمد وجهه بتشديد الفاء المكسورة من التعفير، وهو التمريغ في التراب، أي هل يصلي ويسجد على التراب. وقال الطيبي : يريد به سجوده على التراب، وإنما أوثر التعفير على السجود تعنتا وإذلالا وتحقيرًا. وقوله: بين أظهركم» أي فيما بينكم على أن الأظهر مقحمة للإشارة إلى وقوعه على وجه الظهور. وقوله: «فأتى رسول الله أي فجاءه أبو جهل. وقوله: «وهو يصلي أي حال من المفعول، والحال من الفاعل. قوله: «زعم» بفتح العين، أي قصد أبو جهل. وقوله: فما فجئهم أي فما أتى أبو جهل قومه فجاءة. وقوله: «منه» أي من النبي . وقوله: «أجنحة» جمع جناح الطائر الملائكة الذين يحفظونه. وقوله: «الاختطفته الملائكة عضوا عضوا» والمعنى لأخذ كل ملك عضوا من أعضائه. كذا في «المرقاة».
Note 1
(8) قوله : هل يعفر محمد وجهه. يعفر ’ف‘ کو تشدید اور زیر ہے، باب ’تفعیل‘ سے ہے، مٹی میں لوٹ پوٹ کرنے کو کہتے ہیں یعنی کیا آپ نماز پڑھتے اور مٹی پر سجدہ کرتے ہیں اور علامہ طیبی نے فرمایا اس کی مراد اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ کرنا ہے لفظ سجدہ کے بجائے اس نے تعفیر کا لفظ اپنی سرکشی و دشمنی کی وجہ سے آپ صلی (حاشیہ پچھلا صفحہ سے) اللہ علیہ وسلم کی تنقیص شان اور تحقیر کی غرض سے۔ وقوله: بين اظهركم (تمہارے درمیان) لفظ اظہر زائد ہے یہ اس کام کے کھلے طور پر ہونے کا اشارہ ہے۔ وقوله: فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم (یعنی ابو جہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا)۔ وقوله: وهو يصلي. (اور آپ نماز پڑھ رہے تھے) یہ جملہ مفعول سے حال ہے۔ اور زعم فاعل سے حال ہے زعم کے معنی قصد ہے یعنی ابو جہل ارادہ کیا۔ قوله فما فجئهم یعنی ابو جہل اپنی قوم کو اچانک گھبراہٹ میں ڈال دیا۔ وقوله: منه. یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ضمیر کا مرجع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں)۔ قوله: اجنحة. (پر) جناح کی جمع اور اڑنے والے کے ہیں یعنی فرشتے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے۔ قوله: لاختطفته الملائكة عضوا عضوا. اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فرشتہ اس کے اعضاء میں سے ایک ایک عضو کو اچک لیتا۔ (مرقات)۔