Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5634

Chapter on the Night Journey

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Night Journey

Zujajat al-Masabih 5634Volume 5

English

Ibn Shihab narrated from Anas (may Allah be pleased with him) that Abu Dharr used to narrate that Allah's Messenger (ﷺ) said: "The roof of my house was opened 1 while I was in Makkah, and Jibril descended, opened my chest, washed it with Zamzam water, then brought a golden basin full of wisdom and faith, poured it into my chest, then closed it. Then he took my hand and ascended with me to the heaven. When we came to the lowest heaven, Jibril said to the heaven's keeper: 'Open.' He said: 'Who is this?' He said: 'This is Jibril.' He said: 'Is anyone with you?' He said: 'Yes, Muhammad is with me.' He said: 'Has he been sent for?' He said: 'Yes.' When he opened, we ascended the lowest heaven, and there was a man sitting with black figures 2 on his right and black figures on his left. When he looked to his right, he laughed; when he looked to his left, he wept. He said: 'Welcome to the righteous prophet and the righteous son.' I said to Jibril: 'Who is this?' He said: 'This is Adam, and these black figures on his right and left are the souls of his children. Those on the right are the people of Paradise, and the black figures on his left are the people of the Fire. When he looks to his right, he laughs; when he looks to his left, he weeps.' Until he ascended with me to the second heaven, and said to its keeper: 'Open,' and its keeper said to him like what the first said." Anas said: He mentioned that he found in the heavens Adam, Idris, Musa, Eesa (Jesus), and Ibrahim, but did not specify their stations except that he mentioned he found 3 Adam in the lowest heaven and Ibrahim in the sixth heaven. Ibn Shihab said: Ibn Hazm informed me that Ibn Abbas and Abu Habbah al-Ansari used to say: The Prophet (ﷺ) said: "Then I was ascended until I reached 4 a level where I heard the creaking of the pens." Ibn Hazm and Anas said: The Prophet (ﷺ) said: "Allah prescribed fifty prayers upon my nation. I returned with that until I passed by Musa, and he said: 'What has Allah prescribed for your nation?' I said: 'He prescribed fifty prayers.' He said: 'Return to your Lord, for your nation cannot bear that.' So I returned and He reduced 5 half of it. I returned to Musa and said: 'He reduced half of it.' He said: 'Return to your Lord, for your nation cannot bear that.' So I returned and consulted, and He reduced half of it. I returned to him, and he said: 'Return to your Lord, for your nation cannot bear that.' So I consulted Him, and He said: 'It is five, and it is fifty; the word is not changed 6 with Me.' I returned to Musa, and he said: 'Return to your Lord.' I said: 'I am ashamed of my Lord.' Then he proceeded with me until he reached Sidrat al-Muntaha with me, and it was covered with colors I do not know what they are. Then I was admitted to Paradise, and in it were domes 7 of pearl, and its soil was musk."

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٦٣٤ - وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ أَبُوْ ذَرِّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «فَرِجَ 1 عَنْ سَقْفِ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِي حِكْمَةً وَإِيمَانًا، فَأَفْرَغَهُ فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمَّا جِئْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ: افْتَحْ، قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ، قَالَ: هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، مَعِي مُحَمَّدُ ، فَقَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَلَمَّا فَتَحَ عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، إِذَا رَجُلٌ قَاعِدُ عَلَى يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ 2 وَعَلَى يَسَارِهِ أَسْوِدَةُ، إِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالابْنِ الصَّالِحِ، قُلْتُ لِجِبْرِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا آدَمُ، وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرَ عَنْ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى حَتَّى عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ ، فَقَالَ لَهُ خَازِنِهَا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُ». قَالَ أَنَسٌ فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَمُوسَى وَعِيسَى وَإِبْرَاهِيمَ، وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ3 آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ». قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَا يَقُولَانِ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ4 لِمُسْتَوَى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ». وَقَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسٌ : قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: فَرَضَ اللهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةَ، فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ: مَا فَرَضَ اللهُ لَكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: فَرَضَ خَمْسِينَ صَلَاةٌ، قَالَ: فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعَنِي فَوَضَعَ5 شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقُلْتُ: وَضَعَ شَطْرَهَا، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ، فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ؛ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعْتُهُ فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ، لَا يُبَدَّلُ6 الْقَوْلُ لَدَيَّ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ، فَقُلْتُ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي. ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى انْتَهَى بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَغَشِيَهَا أَلْوَانُ لَا أَدْرِي مَا هِيَ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ7 اللُّؤْلُؤِ، وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7306
ابن شہاب حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا حضرت ابوذر بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر کا چھت مجھ پر سے کھول دیا(41) گیا اور میں مکہ میں تھا جبریل اتر کر آئے اور میرے سینہ کو چاک کیا پھر اس کو زمزم سے دھویا گیا پھر ایمان و حکمت سے بھرا ہوا ایک سونے کا طشت لایا گیا اور اس کو میرے سینہ میں انڈیل دیا پھر اس کو جوڑ دیا پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف اوپر لیکر گئے اور جب میں آسمان دنیا کے پاس پہنچا تو جبریل نے اس آسمان کے خازن سے کہا دروازہ کھولو تو اس نے کہا یہ کون ہے تو کہا جبریل ہوں اس نے کہا کیا تمہارے ساتھ کوئی ہیں تو کہا ہاں میرے ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اس نے کہا کیا ان کی طرف بھیجا گیا تھا تو کہا ہاں پس جب دروازہ کھولا گیا تو ہم آسمان دنیا پر اوپر چلے گئے اچانک ایک صاحب کو دیکھا بیٹھے ہوئے ہیں ان کے سیدھے جانب بھی اشخاص ہیں(42) اور بائیں جانب بھی اشخاص ہیں جب وہ اپنے سیدھے جانب دیکھتے تو خوش ہوتے اور جب وہ اپنے بائیں جانب دیکھتے تو روتے تھے تو انہوں نے کہا خوش آمدید نبی صالح اور ابن صالح کے لئے میں جبرئیل سے کہا یہ کون صاحب ہیں تو انہوں نے کہا یہ آدم ہیں اور ان کے سیدھے جانب اور بائیں جانب کے یہ لوگ ان کے بیٹوں کی اولاد ہیں اور ان میں سے سیدھے جانب والے اہل جنت ہیں اور ان کے بائیں جانب کے لوگ اہل دوزخ ہیں۔ اور آپ جب اپنی سیدھے جانب دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے اور جب اپنی بائیں جانب دیکھتے ہیں تو روتے۔ یہاں تک کہ مجھے دوسرے آسمان پر چڑھایا گیا اور اس نے اس کے خازن سے کہا دروازہ کھولو تو اس کے خازن نے ان سے ویسا ہی کہا جیسا پہلے والے نے کہا تھا انسؓ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے آسمان میں حضرات آدم و ادریس و موسیٰ و عیسیٰ اور ابراہیم کو پایا اور ان کے مقامات کیسے تھے ان کو یاد نہیں رہے۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے ذکر کیا کہ آپ نے آدم علیہ السلام کو آسمان دنیا میں (43) اور حضرت ابراہیم کو چھٹے آسمان میں پایا اور ابن شہاب نے کہا: مجھے ابن حزم نے خبر دی کہ ابن عباسؓ اور ابوحبہ انصاری کہا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پھر چڑھایا گیا یہاں تک کہ میں مستوی پر پہنچا (44) جس میں قلموں کے لکھنے کی آواز سنتا تھا، اور ابن حزم اور حضرت انس نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پس اللہ نے میری امت پر پچاس (50) نمازیں فرض کیا تو میں اس کو لیکر واپس ہوا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا اللہ نے آپ کے ذریعہ آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے تو میں نے کہا پچاس نمازیں فرض کیا ہے تو انہوں نے کہا آپ اپنے رب کے پاس لوٹ کر جائیے آپ کی امت طاقت نہیں رکھے گی انہوں نے مجھے واپس بھیجا تو رب نے اس کا ایک حصہ معاف کر دیا تو میں موسیٰ کے پاس لوٹ کر آیا اور کہا رب نے اس کا ایک حصہ معاف کر دیا تو انہوں نے کہا اپنے رب کی طرف لوٹ کر پھر جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی تو میں پھر لوٹ کر گیا اور لوٹ کر جاتا رہا تو رب نے اس کا ایک حصہ معاف کر دیا(45) اور میں ان کے پاس واپس آیا تو انہوں نے کہا آپ اپنے رب کے پاس اور لوٹ کر جائیں کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی تو میں لوٹ کر گیا تو رب نے فرمایا یہ پانچ ہیں اور یہ پانچ پچاس 50 ہیں اور میرے پاس بات میں تبدیلی نہیں ہوتی(46) تو میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا تو انہوں نے کہا آپ اپنے رب کے پاس پھر لوٹ کر جائیے تو میں نے کہا اس میں میرے رب سے شرم آگئی پھر مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ مجھے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچائے اس پر متعدد رنگ چھا گئے میں نہیں بتا سکتا کہ وہ کیا کیا ہیں پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو اس میں موتی کے گنبدیں تھیں(47) اور اس کی مٹی مشک تھی۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 349 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 163 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1636 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (15)

Note 1

The roof of my house was opened

(1) His statement: The roof of my house was opened: Narrations differ on the location of the Isra'. Some say: While I was in the Hatim. Some: In the Hijr. Some: While I was at the House. Some: The roof of my house was opened while I was in Makkah. Some: He was taken from the valley of Abu Talib. Some: In the house of Hani', which is the most famous. Reconciling these, as in Fath al-Bari: He spent the night in Umm Hani's house in the valley of Abu Talib, the roof of his house was opened—he attributed the house to himself as he stayed there—the angel descended, took him out of the house to the mosque while lying down with traces of sleep, then out of the Hatim to the mosque's door, mounted him on the Buraq. His statement: while I was in Makkah: A circumstantial phrase indicating it was Makkan, not Madinan. (Summarized from Al-Lama’at and Al-Mirqat)

Note 2

this

(2) His statement: black figures: Plural of sawad like azminah plural of zaman, meaning persons, as they appear black from afar, meaning his children's persons. His statement: I said to Jibril: Who is this? It appears the Prophet asked him after he said welcome, while Malik ibn Sa'sa'ah's narration is the opposite and relied upon, so this is interpreted accordingly, as it lacks a simile particle. I say: More apparent is that "this" in the question refers to the black figures, and Adam is repeated in the answer to conjoin the intended address, so the narrator's speech is correct. His statement: and the black figures on his left are the people of the Fire: Qadi said: It is narrated that disbelievers' souls are confined in Sijjin, and the righteous' souls are blessed in Illiyyin, so how are they gathered in the heaven? Answered: Perhaps they are presented to Adam at times, coinciding with the Prophet's passage. Or Paradise was on Adam's right, the Fire on his left, revealed to him. Or the visible souls are those not yet in bodies, created before bodies, stationed on his right and left, informed of their fate. His statement: souls of his children: General but specific. Allah knows best. (Summarized from Al-Mirqat)

Note 3

found Adam in the lowest heaven

(3) His statement: found Adam in the lowest heaven: No dispute on this. His statement: and Ibrahim in the sixth heaven: This matches Sharik's narration from Anas, but other narrations place him in the seventh. If multiple Mi'rajs, no issue; otherwise, the majority's narration is preferred, as it says he saw him leaning against the Bayt al-Ma'mur in the seventh undisputedly, and he said here: he did not specify their stations, so the specifying narration is stronger. (As stated in Al-Mirqat)

Note 4

to

(4) His statement: I reached: Meaning ascended. His statement: a level: With fatha on waw and nunation, meaning the concealed or place of elevation. The lam is for reason, meaning ascended for elevating a level. It could mean "to" or "upon." His statement: creaking of the pens: Meaning their sound when writing, referring to what angels write of Allah's decrees, revelations, and what they copy from the Preserved Tablet, or whatever Allah wills to be written. Qadi Iyad said: This is proof for Ahl al-Sunnah's belief in the truth of writing revelations and decrees in Allah's books from the Preserved Tablet with pens whose nature He knows, as verses indicate. But their manner and form are known only to Allah. Whoever interprets this away from its apparent meaning has weak insight and faith, as Shariah brought it, and rational evidences do not negate it. His statement: Ibn Hazm and Anas said: Conjoined to "Ibn Shihab informed me," so it is from Ibn Shihab al-Zuhri's speech. (Summarized from Al-Mirqat)

Note 5

He reduced half of it

(5) His statement: He reduced half of it: Meaning some of the fifty, which is five being ten, or ten being five, per previous difference. His statement: He said: Meaning at the end of consultations: It is five, meaning five prayers in performance, and it is fifty: Meaning in reward and recompense. (As stated in Al-Mirqat)

Note 6

the word is not changed with Me

(6) His statement: the word is not changed with Me: At-Tibi said: His statement: I am ashamed of my Lord does not suit this meaning. I say: It does not contradict but suits if interpreted as before knowing the non-change. His statement: Then he proceeded with me until he reached with me: In passive form, meaning: Then he went with me until he arrived with me. (As stated in Al-Mirqat)

Note 7

gunbad.

(7) His statement: domes of pearl: Domes plural of dome, with damma on jim, sukun on nun, and ba' majmu'ah and dotted, meaning what rises and rounds like a dome. The common say with fatha on ba'. Persian "gunbad." (As stated in Al-Lama’at and Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فرج عني سقف بيتي: اختلفت الروايات في تعيين مكان الإسراء، ففي بعضها وأنا في الحطيم. وفي بعضها: في الحجر. وفي بعضها بينا أنا عند البيت. وفي بعضها فرج سقف بيتي وأنا بمكة، وبعضها: أسري به من شعب أبي طالب. وفي بعضها في بيت هانئ، وهو أشهر، والجمع بين هذه الأقول على ما ذكر في فتح الباري»: أنه بات في بيت أم هانئ وبيتها في شعب أبي طالب، ففرج سقف بيته، وأضاف البيت إلى نفسه الشريفة؛ لتبويته فيه، فنزل فيه الملك، فأخرجه من البيت إلى المسجد، وكان مضطجعا وبه أثر النعاس، ثم أخرجه من الحطيم إلى باب المسجد، فأركبه البراق، ثم قوله: «وأنا بمكة جملة حالية للإشعار بأن القضية مكية لا مدنية التقطته من «اللمعات» و «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله : أسودة: جمع سواد كأزمنة جمع زمان بمعنى الشخص ؛ لأنه يرى أنه أسود من بعيد، أي أشخاص من أولاده. وقوله: «قلت الجبرئيل: من هذا؟ ظاهره أنه سأل النبي له بعد أن قال له: مرحبا، ورواية مالك بن صعصعة بعكس ذلك، وهي المعتمدة، فتحمل هذه عليها؛ إذ ليس في هذه أداة تمثيل. أقول: الأظهر أن المشار إليه بهذا في السؤال إنما هو الأسودة، وأعيد ذكر آدم في الجواب ليعطف عليه مقصود الخطاب، فصح كلام الراوي. وقوله: والأسودة التي عن شماله أهل النار». قال القاضي قد جاء أن أرواح الكفار محبوسة في سجين، وأرواح الأبرار منعمة في عليين، فكيف تكون مجتمعة في السماء ؟ وأجيب بأنه يحتمل أنها تعرض على آدم أوقاتا، فصادف وقت عرضها مرور النبي ، وبأن الجنة كانت في جهة يمين آدم، والنار في جهة شماله، وكان يكشف له عنهما ويحتمل أن النسم المرئية هي التي لم تدخل الأجساد بعد، وهي مخلوقة قبل الأجساد، ومسقرها عن يمين آدم وشماله، وقد أعلم بما سيصيرون إليه، فقوله: نسم بنيه عام مخصوص، والله أعلم. التقطته من «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله : وجد آدم في السماء الدنيا : هذا لا خلاف فيه. وقوله: وإبراهيم في السماء السادسة هذا موافق لرواية شريك عن أنس، والثابت في جميع الروايات غيرها، وهو أنه في السابعة، فإن قلنا بتعدد المعراج فلا إشكال، وإلا فالأرجحرواية الجماعة؛ لقوله فيها: «إنه رآه مسندا ظهره إلى البيت المعمور وهو في السابعة بلا خلاف، ولأنه قال هنا: «إنه لم يثبت كيف منازلهم، فرواية من أثبت أرجح. كذا في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله: ظهرت أي علوت. وقوله: «المستوى بفتح الواو ومنونا، وهو المستور وموضع الاستعلاء، واللام فيه للعلة، أي علوت لاستعلاء مستوى. ويحتمل أن يكون بمعنى «إلى». وقيل: بمعنى «على». وقوله: «صريف الأقلام أي صوتها عند الكتابة، والمراد به صوت ما يكتبه الملائكة من أقضية الله تعالى، ووحيه وما ينسخونه من اللوحالمحفوظ، أو ماشاء الله تعالى من ذلك أن يكتب. قال القاضي عياض: هذا حجة لمذهب أهل السنة في الإيمان بصحة كتابة الوحي والمقادير في كتب الله تعالى من اللوح المحفوظ بالأقلام التي هو تعالى يعلم كيفيتها على ما جاءت به الآيات، لكن كيفية ذلك وصورته هنا لا يعلم إلا الله تعالى، وما يتأول هذا ويحيله عن ظاهره إلا ضعيف النظر والإيمان؛ إذ جاءت به الشريعة، ودلائل العقول لا تحيله. وقوله: وقال ابن حزم وأنس عطف على فأخبرني»، فهو من مقول ابن شهاب الزهري. ملتقط من المرقاة».

Note 5

قوله

(٥) قوله: فوضع شطرها أي بعض الخمسين، وهو الخمس الذي هو العشر، أو العشر الذي هو الخمس على خلاف تقدم. وقوله: «فقال» أي في آخر المراجعات هي خمس أي خمس صلوات في الأداء، وهي خمسون» أي صلاة في الثواب والجزاء. كذا في المرقاة».

Note 6

قوله

(٦) قوله: لا يبدل القول لدي: قال الطيبي: وقوله: استحييت من ربي لا يناسب هذا المعنى قلت: لا ينافيه، بل يناسبه إذا حمل على ما قبل وجود العلم بعدم التبديل. وقوله: ثم انطلق بي حتى انتهي بي بصيغة المجهول فيهما، والمعنى: ثم ذهب بي حتى وصل بي. كذا في «المرقاة».

Note 7

قوله

(٧) قوله: جنابذ اللؤلؤ: الجنابذ جمع جنبذة بضم الجيم وسكون النون وبالموحدة المجمومة وبالمنقوطة ما ارتفع من الشيء واستدار كالقبلة، والعامة تقول بفتح الموحدة معرب گنبد». كذا في «اللمعات» و«المرقاة».

Note 1

(41) قوله: فرج عني سقف بيتي (میرے گھر کے چھت کو میرے اوپر سے کھولا گیا) اسراء (معراج) کے مکان کے تعین میں مختلف روایات ہیں بعض میں ہے میں حطیم میں تھا اور بعض میں ہے میں حجر میں تھا بعض روایات میں ہے میں مکہ میں تھا اور بعض روایات میں ہے مجھے شعب ابی طالب سے معراج کرائی گئی اور بعض روایات میں ہے میں ام ہانی کے گھر میں تھا اور یہ روایت بہت مشہور ہے۔ اب ان تمام روایات میں صاحب فتح الباری کے بیان کے مطابق اس طرح جمع کیا جاسکتا ہے آپ رات میں ام ہانی کے مکان میں تھے اور ان کا گھر شعب ابی طالب میں تھا اور آپ نے جو فرمایا کہ میرے گھر کے چھت کو کھولا گیا اس میں آپ نے گھر کی نسبت جو اپنی ذات مقدسہ کی طرف کی تو وہ اس لئے کہ آپ اس رات میں آرام فرما رہے تھے اور اس گھر میں آپ کے پاس فرشتہ آیا اور آپ کو گھر سے مسجد حرام میں لائے آپ اس وقت آرام فرما رہے تھے ابھی نیند کا اثر موجود تھا پھر آپ کو حطیم سے کعبۃ اللہ کے دروازے کے پاس لایا گیا اور براق پر آپ کو سوار کرایا گیا۔ (ماخوذ از لمعات و مرقات)۔ ثم قوله وانا بمكة (اور میں مکہ میں تھا) یہ جملہ حالیہ ہے اور اس میں بتانا ہے کہ یہ واقعہ مکی ہے مدنی نہیں ہے۔ (ماخوذ از لمعات و مرقات)۔ (42) قوله : أسودة (اشخاص) یہ سواد کی جمع ہے جیسے زمان کی جمع ازمنۃ ہے اور اس کے معنی شخص ہے کیونکہ وہ دور سے کالا نظر آتا ہے یعنی وہ اشخاص آدم علیہ السلام کی اولاد تھے۔ وقوله : قلت لجبرئيل من هذا (میں نے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) جبرئیل سے کہا یہ کون ہیں) اس سے ظاہر ہے کہ آپ نے یہ استقبال ہونے کے بعد سوال فرمایا لیکن مالک بن صعصعہ کی روایت اس کے برخلاف ہے اور قابل اعتماد ہے پس اس روایت کو اس پر محمول کیا جائے گا کیونکہ اس میں وہ اطمینان نہیں ہے لیکن میں کہتا ہوں ظاہر یہ ہے کہ سوال میں ہذا کا مشار الیہ اسودۃ ہے اور جواب میں آدم علیہ السلام کا ذکر خطاب کے اصل مقصود کو اس پر عطف کرنے کے لئے لایا گیا ہے اور راوی کا کلام درست ہو گیا۔ قوله: ولا سودة التى عن شمائله اهل النار. امام قاضی نے فرمایا حدیث میں آیا ہے کہ کفار کی روحیں سجین میں قید ہیں اور نیک لوگوں کی روحیں علیین میں نعمت سے سرفراز ہیں تو وہ آسمان میں کس طرح سے جمع ہو گئیں تو اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس بات کا احتمال ہے کہ ان کو چند اوقات میں آدم علیہ السلام کے پاس پیش کیا جاتا ہو گا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا اس مقام سے گزران ان ارواح کے پیش ہونے کے وقت میں ہوا ہو گا اور جنت آدم علیہ السلام کے سیدھے جانب میں اور دوزخ بائیں جانب میں تھی تو آپ کیلئے ان دونوں سے حجاب اٹھا لیا گیا اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ جو جانیں دکھائی دے رہی تھیں وہ وہ تھیں جو اب تک جسم میں داخل نہیں ہوئی تھیں اور وہ جسموں سے پہلے پیدا کر دی گئی ہیں اور ان کا ٹھکانا آدم علیہ السلام کے سیدھے اور بائیں جانب ہے اور اس میں اس کا کیا انجام ہونے والا ہے بتا رہے تھے۔ وقوله نسم بنيه: یہ عام مخصوص عنہ ہے۔ واللہ اعلم۔ (ماخوذ از مرقات) (43) وقوله: وجد آدم فى السماء الدنيا: اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، وقوله: ابراهيم فى السماء السادسة (ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان میں پایا، یہ شریک عن انس کی روایت کے موافق ہے اور باقی تمام روایتوں میں جو ثابت ہے کہ ابراہیم علیہ السلام ساتویں آسمان میں ہیں اس کے خلاف ہے اس کے جواب میں اگر ہم یہ کہیں کہ معراج ایک سے زائد مرتبہ ہوئی ہے تو اب اس میں کوئی اشکال نہیں ورنہ جو روایت کثرت سے آئی ہے وہ قابل ترجیح ہے کیونکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ آپ نے ان کو بیت المعمور سے اپنی پشت ٹیک لگائے ہوئے دیکھا ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ بیت المعمور ساتویں آسمان میں ہے اور یہ اس لئے بھی ہے کہ یہاں انہوں نے فرمایا کہ ان کے مقامات کے بارے میں کہ وہ کیسے ہیں ان کو یاد اور جنہوں نے ان کے مقامات کو روایت کیا وہ روایت قابل ترجیح ہوگی۔ (مرقات)۔ (44) قوله: ظهرت. (اس کے معنی علوت ہیں یعنی میں اوپر چڑھ گیا۔ وقوله: لمستوىً. مستویٰ میں واو کو تنوین ہے اس کے معنی ہیں ٹھکانا بلند مقام اور لمستوی میں لام تعلیلیہ ہے یعنی میں مستوی پر چڑھنے کے لئے اوپر چڑھ گیا اور ہوسکتا ہے لام اس میں الی کے معنی میں ہو اور ایک قول ہے یہ لام اس میں علی کے معنی میں ہے۔ وقوله: صريف الاقلام قلموں کے لکھنے کی آواز یعنی اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور اس کی وحی اور لوح محفوظ سے ان کو نقل کرنے اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ چاہا ان سب امور کو فرشتے جو لکھتے ہیں ان کے اس لکھنے کی آواز مراد ہے۔ علامہ قاضی عیاض نے فرمایا: اس میں اہل سنت کے مذہب کی دلیل ہے کہ اس بات پر ایمان رکھنا ہے کہ وحی الہی اور تقدیریں جو لوح محفوظ سے اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں جو قلموں سے اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں لکھی جاتی ہیں جیسا کہ احادیث میں آیا ہے وہ سب صحیح ہیں، لیکن اس کی کیفیت اور کیا صورت ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور ان قلموں کی کیفیت بھی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اور جن لوگوں کی نظر تحقیق کمزور ہے وہ لوگ اس میں تاویل کرتے اور اس کے ظاہری معنی سے اس کو ہٹاتے اور پھیر دیتے ہیں جبکہ نقلی دلائل کی روشنی میں یہ حال نہیں ہے۔ وقوله: وقال ابن حزم وانس، کا ’فاخبرنی ابن حزم‘ پر عطف ہے اور یہ ابن شہاب زہری کا مقولہ ہے۔ (مرقات)۔ (45) قوله: فوضع شطرها۔ یعنی پچاس نمازوں میں چند نمازوں یعنی پانچ نمازوں کو کم کیا جن کا ذکر دس کے ذریعہ کیا گیا یا جیسا کہ گزرا دس کا ذکر کیا گیا جو دراصل پانچ ہیں۔ قوله: فقال (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) یعنی آپ کی آخری مراجعت کے وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ادا کرنا تو پانچ نمازوں کو ہے مگر پچاس ہیں یعنی اس کا اجر و ثواب پچاس کا ہے۔ (مرقات)۔ (46) قوله: لا يبدل القول لدىّ۔ علامہ طیبی نے فرمایا: استحييت من ربي۔ میرے رب سے مجھے شرم آگئی یہ مناسب بات نہیں ہے تو میں کہتا ہوں کہ یہ مناسب مقام ہے اسکو عدم تبدیل کا علم ہونے سے پہلے پر محمول کیا جائے۔ قوله: ثم انطلق بي حتى انتهى بي۔ اس میں دونوں صیغے بھی فعل مجہول ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ مجھے لے جایا گیا، اور سدرہ تک پہنچا دیا گیا۔ (مرقات)۔ (47) قوله: جنابذ اللؤلؤ۔ جنابذ جمع ہے اس کا واحد جنبذة ہے اور جیم کو پیش اور نون کو جزم اور ب کو پیش۔ جنبذة ایسی چیز کو کہتے ہیں جو زمین کے اوپر بلند اور گول ہوتی ہے اور عامۃ الناس کوزبر (قُبّہ) کے ساتھ بولتے ہیں اور یہ گنبد کا معرب ہے۔ (لمعات و مرقات)۔