English
Abu al-Ala narrated from Samurah ibn Jundub (may Allah be pleased with him): We were with the Prophet (ﷺ), taking turns 1 eating from a bowl from morning until night, with ten standing and ten sitting. We said, “What was it being replenished with?” He said, “What are you amazed at? It was only replenished from here,” and he pointed with his hand to the sky 2.
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٦٥ - وَعَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ(رضي الله عنه) قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ نَتَدَاوَلُ1 مِنْ قَصْعَةٍ مِنْ غَدْوَةٍ حَتَّى اللَّيْلِ يَقُومُ عَشَرَةً وَيَقْعُدُ عَشَرَةٌ، قُلْنَا: فَمِمَا كَانَتْ تُمَدُّ؟ قَالَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ مَا كَانَتْ 2 تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَاهُنَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7337
حضرت ابوالعلاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمرہ بن جندب سے روایت کرتے ہیں
فرمایا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک پیالہ میں صبح سے شام تک کھاتے تھے (52) دس
حضرات اٹھتے تھے اور دس حضرات بیٹھتے تھے تو ہم نے کہا کس چیز سے اس میں برکت آتی تھی، انہوں
نے کہا تم کس چیز سے تعجب کرتے ہو اس میں برکت وہاں سے (53) آتی تھی اور انہوں نے اپنے
ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ (ترمذی، دارمی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3625 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: taking turns: It is said: Hands took turns, meaning they alternated, one after another. The commentator mentioned this. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: it was only replenished from here, etc.: The question from the Successors to the Companion may be understood as them assuming food was brought and placed in the bowl repeatedly, as is custoMaryam (Mary). The Companion answered that this occurred miraculously, the replenishment coming from the Lord of the heavens, not from earthly creatures. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: نتداول: يقال: تداولته الأيدي، أي تناوبته، يعني أخذته هذه مرة وهذه مرة، ذكره شارح. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: ما كانت تمد إلا من ههنا إلخ وأما سؤال التابعين من الصحابي، فقد يوجه بأنه توهم أنه كان يأتي الطعام ويوضع في القصعة مرة بعد مرة بعد فراغ عشرة أو نحوها، كما يقع في العرف على طريق العادة، فأجاب الصحابي بأن هذا لم يقع إلا على سبيل خرق العادة، فالمدد من رب السماء لا من أحد من المخلوقين من سكان الأرض. كذا في «المرقاة».
Note 1
(52) و قولہ: نتداول۔ تداولت الايدى۔ بولا جاتا ہے تو اس کے معنی ہوتے ہیں ہم اس کو باری باری سے لے رہے تھے۔ یہ ایک مرتبہ لے تو یہ ایک مرتبہ لے۔ (مرقات)۔ (53) وقوله: ما كانت تمد الا من ههنا الخ۔ حضرات تابعین کا صحابی سے یہ سوال کرنا اس خیال کی بناء پر تھا کہ ہوسکتا ہو کہ کھانا دیس کے فارغ ہونے کے بعد لاکر پیالے میں ڈالا جاتا تھا ہو۔ جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے۔ تو صحابی نے جواب دیا کہ یہ تو خرق عادت معجزہ کے طور پر ہے اور مدبر اسماع کی طرف سے ہے زمین کی کسی مخلوق کی طرف سے نہیں ہے۔ (مرقات)۔