English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: On the day of the expedition to Tabuk 1, the people were afflicted 2 with famine. Umar said 3, “O Messenger of Allah, call them to bring the surplus of their provisions, then pray to Allah for blessing in it.” He said, “Yes.” He called for a mat and spread it, then called for the surplus of their provisions. One man brought a handful of maize, another a handful of dates, another a piece of bread, until a small amount gathered on the mat. The Messenger of Allah (ﷺ) prayed for blessing in it, then said, “Take it into your containers.” They filled their containers until no container in the camp was left empty. They ate until they were satisfied, and some remained. The Messenger of Allah (ﷺ) said, “I bear witness that there is no god but Allah and that I am the Messenger of Allah. No servant meets Allah with these two, without doubting, but is barred from Paradise.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٦٦ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ غَزْوَةِ تَبُوكَ1 أَصَابَ2 النَّاسَ مَجَاعَةُ فَقَالَ3 عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ، ثُمَّ ادْعُ اللَّهَ لَهُمْ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ، فَقَالَ: نَعَمْ». فَدَعَا بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ، قَالَ: وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكَفِّ تَمْرٍ، وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكَسْرَةٍ حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النَّطَعِ شَيْءٌ يَسِيرُ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ ﷺ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: «خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ». فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وَعَاءً إِلَّا مَلَؤُوهُ، قَالَ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَتْ فَضْلَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍ فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَرَوَى الْبُخَارِيُّ نَحْوَهُ عَنْ سَلَمَةَ.
اردو
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جب جنگ تبوک (54) کا
دن آیا لوگوں کو بھوک نے گھیر لیا (55) تو حضرت عمر نے عرض کیا (56) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ
ان لوگوں سے ان کے بچے ہوئے توشے منگوائے پھر اس پر اللہ سے ان کے لئے برکت کی دعا
فرمائے تو آپ نے فرمایا ٹھیک ہے پھر آپ نے دسترخوان منگوایا اور اس کو بچھایا آپ ان کے بچے
ہوئے توشے منگوائے تو کوئی شخص مٹھی بھر مکائی اور ایک دو سر مٹھی بھر کھجور اور ایک صاحب روٹی کا ایک
ٹکڑا لانے لگے یہاں تک کہ دسترخوان پر تھوڑی سی چیز جمع ہوگئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
برکت کی دعاء فرمائی پھر فرمایا تم اپنے برتنوں میں بھر لو تو وہ اپنے برتنوں میں بھر لئے تا آنکہ لشکر میں
ایک برتن کو بھی نہیں چھوڑے بلکہ سب کو بھر لئے راوی نے کہا: وہ کھائے یہاں تک کہ سیر ہوگئے اور
کچھ بچ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور
بے شک میں اللہ کا رسول ہوں۔ ان دو شہادتوں کو لے کر کوئی بندہ جو اس میں شک کرنے والا نہ ہو اللہ
سے ایسی حالت میں نہیں ملے گا کہ وہ جنت سے حجاب میں رہے۔ (مسلم)۔
اور امام بخاری نے اس کی روایت حضرت سلمہ سے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 27b (unverified) 96% confidence · Validation similarity: 0.780
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) His statement: expedition to Tabuk: Tabuk is a place between Sham and Madinah, a month’s journey from Madinah. The expedition was in Rajab, year 9 AH, his last expedition. Tabuk is commonly not declined due to femininity and proper noun status, but declining it refers to the place. Both considerations are permissible for place names, interpreted as a region or location. (As stated in Al-Lama’at)
Note 2
(2) His statement: afflicted the people: The response to “when,” meaning it happened to them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement: Umar said, etc.: The Hadith is abbreviated, as it is narrated that they were afflicted with famine and said, “O Messenger of Allah, permit us to slaughter our camels for food and oil.” He said, “Do so.” Umar came and said, “O Messenger of Allah, if you do, we will lack mounts. Instead, call them to bring the surplus of their provisions.” Surplus is what exceeds need, and provisions are food for travel. The meaning: Order them to bring the remainder of their provisions. His statement: a piece: Meaning a piece of bread. His statement: the Messenger of Allah said: I bear witness, etc.: It hints that witnessing miracles strengthens certainty in beliefs. His statement: is barred: At-Tibi said: “Is barred” is raised, conjoined with the previous sentence, and the negation applies to both. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: غزوة تبوك تبوك اسم أرض بين الشام والمدينة بينه وبين المدينة مسيرة شهر، وغزوته كانت سنة تسع في رجب، وهي آخر غزواته . والمشهور في تبوك عدم الصرف للتأنيث والعلمية، ومن صرفها أراد الموضع، وكلا الاعتبارين جائز في أسماء المواضع والأماكن؛ للتأويل بالبقعة والناحية وبموضع ومكان. كذا في «اللمعات».
Note 2
(۲) قوله : أصاب الناس: جواب «لما» أي حصل لهم. قاله في «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله : فقال عمر إلخ في الحديث اختصار؛ إذ روي أنهم أصابهم مجاعة، فقالوا: يا رسول الله ! لو أذنت لنا فنحرنا نواضحنا، فأكلنا وآدمنا». فقال: افعلوا». فجاء عمر، فقال: يا رسول الله إن فعلت قلت الظهور، ولكن ادعهم بفضل أزوادهم، والفضل ما زاد عن شيء، والأزواد جمع زاد، وهو طعام يتخذ للسفر. فالمعنى: مُرْهُم بأن يأتوا ببقية أزوادهم. وقوله: بكسرة» أي بقطعة من الخبز. وقوله : فقال رسول الله الله : أشهد إلخ» فيه إيماء إلى أن رؤية المعجزات سبب زيادة اليقين في المعتقدات وقوله: فيجب قال الطيبي: فيحجب مرفوع عطفا على الجملة السابقة، والنفي منصب عليهما معا. التقطته من المرقاة».
Note 1
(54) وقوله: غزوة تبوك۔ تبوک ایک سرزمین کا نام ہے جو مدینہ منورہ اور ملک شام کے درمیان ہے اور ان دونوں کے درمیان ایک مہینہ کی مسافت ہے اور یہ غزوہ ماہ رجب 9ھ ہجری میں ہوا اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری غزوات میں سے ہے، اور مشہور قول یہ ہے کہ تبوک غیر منصرف ہے تانیث اور علمیت کے سبب، اور جو اس کو منصرف قرار دیتے ہیں وہ اس کو موضع کی تاویل میں کئے ہیں اور دونوں اعتبارات مقامات اور جگہوں کے ناموں میں، بقعہ اور ناحیہ، اور موضع و مکان کی تاویل کی بناء پر جائز ہیں۔ (لمعات)۔ (55) وقوله: اصاب الناس۔ یہ ”لَمَّا“ کا جواب ہے یعنی انہیں بھوک گھیر لی۔ (مرقات)۔ (56) وقوله: فقال عمر الخ۔ اس حدیث شریف میں اختصار ہے، کیونکہ روایت میں آیا ہے ان کو بھوک نے گھیر لیا تو وہ عرض کئے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنی اونٹنیوں کو ذبح کریں اور کھائیں اور سالن بنائیں تو آپ نے فرمایا ایسا ہی کرو تو حضرت عمر آئے اور عرض کئے یا رسول اللہ اگر ایسا کیا جائے تو سواریاں کم ہو جائیں گے۔ البتہ آپ نے ان سے ان کے بچے ہوئے توشے منگوائے اور فضل کہتے ہیں کسی چیز میں سے بچے ہوئے کو، زاد واحد ہے اس کی جمع ازواد ہے، سفر کے بھی توشہ کو ’زاد‘ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ان کو ان کے بچے ہوئے توشے لانے کا حکم فرمائیں۔ وقوله بكسرة۔ یعنی روٹی کا ٹکڑا۔ وقوله: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اشهد او الخ۔ اس میں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ معجزات کا دیکھنا عقائد میں مضبوطی اور یقین میں زیادتی کا سبب ہوتا ہے۔ قوله: فيحجب۔ علامہ طیبی نے فرمایا فيحجب حالت رفعی میں ہے، اور اس کا سابقہ جملہ پر عطف ہے اور نفی ان دونوں کو ایک ساتھ شامل ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔