Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5725

Chapter

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter

Zujajat al-Masabih 5725Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7410
اور ان ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض کے زمانہ میں جس میں آپ وفات پائے ہم مسجد میں تھے اپنے سر اقدس پر کپڑے سے پٹی باندھے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ آپ منبر کی طرف ارادہ فرمائے (7) اور اس پر رونق افروز ہوئے ہم آپ کے پیچھے چلے آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اپنے اس مقام سے حوض کو دیکھ رہا ہوں پھر آپ نے فرمایا ایک بندے پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی تو اس نے آخرت کو اختیار کرلیا۔ راوی نے کہا اس کو ابوبکر کے سوا کسی نے نہیں سمجھا اور ان کی آنکھیں بہنے لگیں اور وہ روئے پھر کہا یا رسول اللہ ہم آپ پر اپنے باپ کو اپنی ماؤں کو اپنی جانوں کو اور اپنے مال و دولت کو قربان کرتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر آئے آج کی اس گھڑی تک پھر اس پر نہیں چڑھے۔ (دارمی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Darimi 79 (unverified) 30% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5971 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 5971

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

descended

(1) His statement “descended”: meaning he intended to descend. His statement “his eyes flowed”: meaning Abu Bakr’s tears fell, and he wept. Then he said: “Rather, we ransom you with our fathers and mothers and our souls and wealth,” meaning our slaves and maidservants and the like, if ransoming with them or all of them were permissible. His statement “until the Hour”: meaning until now. At-Tibi said: “Until” is a particle of accompaniment, meaning the Hereafter, i.e., he did not stand upon it after that in his life. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: أهوى أي قصد. وقوله: فذرفت عيناه أي سالت دموع أبي بكر فبكى، ثم قال: بل نفديك بآبائنا وأمهاتنا وأنفسنا وأموالنا أي عبيدنا وإمائنا وغيرهما لو كان جاز الفداء بشيء منها أو بجميعها. وقوله: «حتى الساعة» أي إلى الآن. قال الطيبي : حتى هي الجارة، والمراد بالساعة القيامة، يعني فما قام عليه بعد ذلك في حياته. التقطته من «المرقاة».

Note 1

(7) قوله: اهوى. اس کے معنی قصد ہے۔ وقوله: ذرفت عيناه. یعنی حضرت ابوبکر کے آنسو بہنے لگے ثم قال بل نفديك بآبائنا وامهاتنا وانفسنا واموالنا. اموال سے مراد ہمارے بچے اور ہمارے غلام باندیاں ہر وہ تمام چیزیں جن کو فدا کیا جا سکتا ہے ہر چیز آپ پر قربان۔ وقوله: حتى الساعة یعنی اس وقت تک۔ علامہ طیبی نے فرمایا حتی جارہ ہے اور الساعة سے مراد قیامت ہے یعنی آپ اپنی اس کے بعد کی حیات میں اس پر کھڑے نہیں ہوئے۔ (مرقات)