اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7411
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرمائیں میں رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنتی ہوں نہیں ہے کوئی نبی جو بیمار ہوں مگر ان کو دنیا اور آخرت میں اختیار
دیا جاتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس مرض میں (8) جس میں آپ وفات پائے کھانسی کا
ٹھسکا آیا پھر میں آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنی مع الذين انعمت۔۔ ان حضرات کے ساتھ جن پر تو نے
انعام فرمایا نبیوں اور صدیقین شہداء اور صالحین کے ساتھ تو میں سمجھ گئی کہ آپ کو اختیار دے دیا گیا
ہے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4586 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “during the illness”: meaning during his sickness. His statement “hoarseness”: with a dammah on the ba and tashdid on the ha. Ibn Hajar said: It is something that sinks into the throat, altering the voice and making it coarse. It is also said to mean a cough here. His statement “with those upon whom Allah has bestowed His favor”: meaning with the Sublime Companion. The plural form, as mentioned, is preferable. May Allah gather us with them in the Hereafter. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: وكان في شكواه أي في مرضه. وقوله: «بحة بضم موحدة وتشديد مهملة. قال ابن حجر : هي شيء يغوص في الحق، فيغير له الصوت فيغلظ. وقيل: المراد هنا سعلة. وقوله: «مع الذين أنعمت عليهم يعني مع الرفيق الأعلى، فالجمع بما ذكرناه هو الأولى، حشرنا الله معهم في العقبى. كذا في «المرقاة».
Note 1
(8) قوله: وكان فى شكواه یعنی اپنی بیماری کے زمانہ میں وقولہ بحہ با کو پیش اور حاء کو تشدید۔ علامہ ابن حجر نے فرمایا یہ وہ سانس ہے جو حلق میں پھنس جاتی ہے اور اس کی وجہ سے آواز بدل جاتی ہے اور بھاری ہو جاتی ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ایک کھانسی ہے وقوله مع الذين انعمت عليهم اس کا مطلب میں رفیق اعلی کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو آخرت میں ان حضرات کے ساتھ رکھے۔ (مرقات)