العربية
Typed, pending editorial approval
٥٧٣٥ - وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيْهِ : أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ دَخَلَ عَلَى أَبِيْهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ . عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ ؟ قَالَ : بَلَى، حَدَّثْنَا عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ ﷺ ، قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَتَاهُ جِبْرَئِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ تَكْرِيمًا لَكَ وَتَشْرِيفًا لَكَ، خَاصَّةً لَكَ، يَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ، يَقُوْلُ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ: أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا، قَالَ: ثُمَّ جَاءَهُ الْيَوْمَ الثَّانِي، فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ كَمَا رَدَّ أَوَّلَ يَوْمٍ، ثُمَّ جَاءَهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ يَوْمٍ وَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا رَدَّ عَلَيْهِ، وَجَاءَ مَعَهُ مَلَكُ يُقَالُ لَهُ: إِسْمَاعِيلُ عَلَى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ، كُلُّ مَلَكٍ عَلَى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ1 عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ جِبْرَئِيلُ : هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ، مَا اسْتَأْذَنَ عَلَى آدَمِيَّ قَبْلَكَ، وَلَا يَسْتَأْذِنُ عَلَى آدَمِيٌّ بَعْدَكَ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ، فَأَذِنَ لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ، فَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْبِضَ رُوْحَكَ قَبَضْتُ، وَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَتْرُكَهُ تَرَكْتُهُ، فَقَالَ: وَتَفْعَلُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ؟ قَالَ: نَعَمْ، بِذَلِكَ أُمِرْتُ، وَأُمِرْتُ أَنْ أُطِيعَكَ، قَالَ: فَنَظَرَ النَّبِيُّ ﷺ إِلَى جِبْرَئِيلَ ، فَقَالَ جِبْرَئِيلُ : يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ اشْتَاقَ إِلَى لِقَائِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِمَلَكِ الْمَوْتِ امْضِ2 لِمَا أُمِرْتَ بِهِ، فَقَبَضَ رُوْحَهُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَجَاءَتْ 3التَّعْزِيَةُ سَمِعُوْا صَوْتًا مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، إِنَّ فِي اللهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلفًا مِنْ كُلِّ هَالِكِ، وَدَرْكًا مِنْ كُلِّ فَائِتٍ، فَبِاللَّهِ فَاتَّقُوْا وَإِيَّاهُ، فَارْجُوا فَإِنَّمَا الْمُصَابُ مَنْ حَرُمَ الثَّوَابَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَتَدْرُوْنَ مَنْ هَذَا؟ هُوَ الْخَضِرُ4 . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ».
Commentary and footnotes (9)
Note 1
(1) His statement “asked about him”: The implied meaning is: The Prophet asked Jibril about Isma‘il, “Who is he?” Jibril said: “This is the Angel of Death seeking permission to approach you,” as if the Angel of Death appeared at that moment and was indicated. (As stated in Al-Lama’at)
Note 2
(2) His statement “Proceed with what you were commanded”: At-Tibi said: Ibn al-Jawzi mentioned this in Kitab al-Wafa and added after it: Jibril said, “Peace be upon you, O Messenger of Allah. This is my last step on earth; you were my need in this world.” Then his soul was taken. Indeed, we belong to Allah, and to Him we return. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement “condolences came”: meaning from all directions of the house. His statement “in Allah”: meaning in Allah’s Book, “consolation” with fathah on the ‘ayn, meaning comfort for every calamity, referring to Allah’s words: “Give good tidings to the patient, who, when afflicted with calamity, say, ‘Indeed, we belong to Allah, and to Him we return’” [Al-Baqarah: 155-156]. Or in His reward, as compensation for every trial and affliction. At-Tibi said: It is permissible to imply an omitted phrase in “in Allah,” meaning in meeting Allah is comfort and patience for every calamity. His statement “compensation”: with two fathahs, meaning recompense for every loss. “Recovery”: with fathah on dal and ra, meaning retrieval for every missed opportunity. His statement “So, rely on Allah”: meaning, since it is so, with His help, strength, and power, “fear” impatience and panic, referring to Allah’s words: “Be patient, and your patience is only through Allah” [An-Nahl: 127]. His statement “hope in Him”: meaning do not hope in other than Him, for there is no god but Allah, or hope for reward from Him. “The truly afflicted”: in reality, is the one deprived of reward, in the passive form, meaning prevented from reward due to lack of patience in the face of calamity. The patience valued by the Lord is that shown at the first impact. (As stated in Al-Mirqat)
Note 4
(4) His statement “It is Al-Khidr”: with fathah on kha and kasrah on dad. It is said: with kasrah and sukoon. In Tadhkirat al-Asma: It is permissible to have sukoon on dad with fathah or kasrah on kha. At-Tibi said: This clearly indicates that Al-Khidr is alive and present. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : فسأله . عنه: تقدير الكلام: سأل النبي له جبرئيل عن إسماعيل من هو ؟ فقال جبرئيل: هذا ملك الموت يستأذن عليك، كأنه حضر ملك الموت في الساعة فأشار إليه. كذا في اللمعات».
Note 2
(۲) قوله: امض لما أمرت به قال الطيبي : وإلى ههنا ذكره ابن الجوزي في كتاب الوفاء وذكر بعده، فقال جبرئيل : السلام عليك يا رسول الله، هذا آخر موطي الأرض، إنما كنت حاجتي في الدنيا، فقبض روحه، إنا لله وإنا إليه راجعون. كذا في «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله: جاءت التعزية أي من كل ناحية البيت. وقوله: إن في الله أي الله، أي في كتابه: «عزاء» يفتح العين، أي تسلية من كل مصيبة» إشارة إلى قوله تعالى: ﴿ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَبَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ﴾ (البقرة : ١٥٥-١٥٦) أو في ثوابه عوضا من كل محنة وبلية. قال الطيبي: فعلى هذا يجوز أن يقدر مضاف في قوله: «في الله» أي إن في لقاء الله تعالى تسليا وتصبرا من كل مصيبة. وقوله: «وخلفا» بفتحتين، أي عوضا من كل هالك» و«دركا» بفتح الدال والراء، أي تداركا من كل فائت. وقوله: «فبالله أي فإذا كان الأمر كذلك فبعونه وحوله وقوته «فاتقوا» أي الجزع والفزع إشارة إلى قوله تعالى: ﴿ وَأَصْبِرُ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّه (النحل: ۱۲۷). وقوله: «إياه فأرجوا أي لا ترجوا سواه؛ فإنه لا إله إلا الله أو من عنده، فأرجوا الثواب. فإنما المصاب» أي في الحقيقة من حرم الثواب بصيغة المفعول، أي من منع المثوبة بسبب قلة الصبر في قضية المصيبة، والصبر المعتبر عند المولى هو الذي يكون عند الصدمة الأولى، هذا التقطته من المرقاة».
Note 4
(٤) قوله: هو الخضر عليه بفتح الخاء وكسر الضاد. وقيل: بكسر وسكون. وفي تهذيب الأسماء»: يجوز إسكان الضاد مع فتح الخاء وكسرها. قال الطيبي: وفيه دلالة بينة على الخضر له حي موجود. كذا في «المرقاة».
Note 1
(33) قولہ: فساله عنه (تو حضور نے جبرئیل سے اُس کے بارے میں دریافت کیا) تقدیری عبارت یہ ہے: حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام سے سوال کیا تو جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: یہ ملک الموت ہے، جو آپ کی بارگاہ میں اجازت طلب کر رہا ہے گویا ملک الموت اُسی وقت حاضر ہو چکے، اسی لئے انہوں نے اُن کی طرف اشارہ کیا۔ (لمعات) (34) قولہ: امض لما امرت به (جو تمہیں حکم دیا گیا اُسے کر گزرو) علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں تک یہی ذکر کیا اور اس کے بعد یہ ذکر کیا: تو جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: ”السلام عليك يا رسول الله“ آپ پر سلامتی ہو یا رسول اللہ! یہ زمین پر میری آخری آمد ہے، اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا میں آپ ہی میرا مقصود تھے پھر ملک الموت نے آپ کی روح مبارک قبض کی، بیشک ہم اللہ کے لئے ہیں اور اللہ کی طرف ہی لوٹنے والے ہیں۔ (مرقات) (35) قوله: جاءت التعزية (تعزیت کا وقت آیا) یعنی دولت کدہ کے ہر گوشہ سے آواز آئی ”ان فى الله“، یقیناً اللہ میں یعنی اللہ کی کتاب میں تعزیت ہے، ”عَزَاء“ کے عین کو زبر ہے یعنی ہر مصیبت سے تسلی ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی جانب اشارہ ہے: ”وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ. الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ، قَالُوا إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ (2۔ البقرۃ، آیت نمبر:155/156) اور اُن صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیجئے کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے لئے ہیں اور اللہ کی طرف ہی لوٹنے والے ہے، یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے ثواب میں ہر مشقت اور آزمائش کا بدلہ ہے، علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اس تشریح کے مطابق ”فى الله“ میں مضاف کو مقدر ماننا جائز ہے یعنی اللہ تعالیٰ سے وصال میں تسلی اور ہر مصیبت پر صبر کا سامان ہے، قوله خَلَفًا دونوں کو زبر ہے یعنی ہر ہلاک ہونے والی چیز کا بدلہ ہے۔ دَرَكًا دال اور را کو زبر ہے یعنی ہر چھوٹنے والی چیز کی پا بجائی ہے ”فبالله“ اللہ سے ہی یعنی تو جب معاملہ ایسا ہے تو اللہ کی مدد اور اس کی طاقت و قوت کی وجہ سے ہی جزع و فزع سے بچو، یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرف اشارہ ہے: ”وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللّٰهِ“ (16۔ النحل، آیت نمبر:127)، اور آپ صبر کیجئے اور آپ کا صبر نہیں مگر اللہ کی وجہ سے ”اياه فارجوا“ اسی سے امید رکھو یعنی اس کے سوا کسی کے امیدوار نہ بنو کیونکہ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، یا یہ معنی ہے کہ اس کی بارگاہ سے ہی ثواب کی امید رکھو کیونکہ مصیبت زدہ یعنی حقیقت میں مصیبت زدہ ”من حرم الثواب“ وہی شخص ہے جو ثواب سے محروم کیا گیا ، مجہول کے صیغہ کے ساتھ یعنی مصیبت کے معاملہ میں صبر کی کمی کے سبب ثواب سے روک دیا گیا اور مولائے حقیقی کے پاس قابل اعتبار صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہوتا ہے۔ (ماخوذ از مرقات) (36) قوله هو الخضر عليه السلام (وہ خضر علیہ السلام ہیں) خا کو زیر اور ضاد کو زبر ہے اور کہا گیا زیر پھر جزم ہے، تہذیب الاسماء میں مذکور ہے کہ ضاد کو جزم دینا خا کے زبر اور زیر کے ساتھ درست ہے۔ علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اس میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام زندہ اور موجود ہیں۔ (مرقات)