Salman (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: “Do not hate me, lest you abandon 1 your religion.” I said: “O Messenger of Allah, how could I hate you when Allah guided us through you?” He said: “You hate 2 the Arabs, and thus you hate me.”
اور حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے کہا کہ مجھ
سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے بغض مت رکھو ورنہ تم اپنے دین کو چھوڑ دو گے (36)۔
تو میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ سے کیسے بغض رکھوں گا آپ سے تو اللہ نے ہم
کو ہدایت دی ہے تو آپ نے فرمایا تم عرب سے دشمنی رکھو گے تو مجھ سے دشمنی رکھو گے(37)۔(ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3927 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
lest you abandon your religion
(1) His statement “lest you abandon your religion”: with nasb as the response to the prohibition. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
You hate the Arabs, and thus you hate me
(2) His statement “You hate the Arabs, and thus you hate me”: The point is that hating the Arabs may lead to hating the Master of Creation, so beware, beware, lest you fall into danger. In Al-Qamus: “Arab” with dammah or fathah is the opposite of non-Arab, feminine, meaning city dwellers or generally, with “A‘rab” being their Bedouins, with no singular form. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: فتفارق دينك بالنصب على جواب النهي كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: تبغض العرب فتبغضني والحاصل : أن بغض العرب قد يصير سببا لبغض سيد الخلق، فالحذر الحذر؛ كيلا يقع في الخطر. وفي القاموس العرب بالضرب وبالتحريك خلاف العجم، مؤنث وهم سكان الأمصار أو عام، والأعراب منهم سكان البادية، لا واحد له. كذا في «المرقاة».
Note 1
(36) قولہ: فتفارق دینک۔ کو نصب ہے نہی کا جواب ہونے کی وجہ سے۔
(37) قوله: تبغض العرب. یعنی عرب سے تم بغض رکھو گے تو مجھ سے بغض رکھو گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ عرب سے بغض
رکھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض کا سبب بن سکتا ہے۔ لہذا اس سے بچنا تا کہ خطرہ سے دوچار نہ ہونے پائے
اور قاموس میں عرب عین کو پیش اور راء کو حرکت کے ساتھ غیر عجم کو کہتے ہیں اور یہ لفظ مؤنث ہے اور شہروں کے
رہنے والے ہوتے ہیں یا عام ہے شہری اور غیر شہری دونوں کو شامل ہے اور اعراب وہ عرب ہیں جو دیہات میں رہتے
ہیں اس لفظ کا واحد نہیں ہے۔(مرقات)
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement “lest you abandon your religion”: with nasb as the response to the prohibition. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement “You hate the Arabs, and thus you hate me”: The point is that hating the Arabs may lead to hating the Master of Creation, so beware, beware, lest you fall into danger. In Al-Qamus: “Arab” with dammah or fathah is the opposite of non-Arab, feminine, meaning city dwellers or generally, with “A‘rab” being their Bedouins, with no singular form. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فتفارق دينك بالنصب على جواب النهي كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: تبغض العرب فتبغضني والحاصل : أن بغض العرب قد يصير سببا لبغض سيد الخلق، فالحذر الحذر؛ كيلا يقع في الخطر. وفي القاموس العرب بالضرب وبالتحريك خلاف العجم، مؤنث وهم سكان الأمصار أو عام، والأعراب منهم سكان البادية، لا واحد له. كذا في «المرقاة».
Note 1
(36) قولہ: فتفارق دینک۔ کو نصب ہے نہی کا جواب ہونے کی وجہ سے۔ (37) قوله: تبغض العرب. یعنی عرب سے تم بغض رکھو گے تو مجھ سے بغض رکھو گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ عرب سے بغض رکھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض کا سبب بن سکتا ہے۔ لہذا اس سے بچنا تا کہ خطرہ سے دوچار نہ ہونے پائے اور قاموس میں عرب عین کو پیش اور راء کو حرکت کے ساتھ غیر عجم کو کہتے ہیں اور یہ لفظ مؤنث ہے اور شہروں کے رہنے والے ہوتے ہیں یا عام ہے شہری اور غیر شہری دونوں کو شامل ہے اور اعراب وہ عرب ہیں جو دیہات میں رہتے ہیں اس لفظ کا واحد نہیں ہے۔(مرقات)