Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5836

Chapter on the Virtues of Uthman (may Allah be pleased with him)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of Uthman (may Allah be pleased with him)

Zujajat al-Masabih 5836Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7539
حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوں آپ فتنوں کا ذکر فرما رہے تھے (29) اور ان کے قریب میں واقع ہونے کو بتلایا تو ایک صاحب چادر اوڑھے ہوئے گزرے تو آپ نے فرمایا یہ صاحب اس دن ہدایت پر ہوں گے میں اٹھ کر ان کی طرف گیا تو وہ عثمان بن عفان تھے تو میں نے آپ کی طرف ان کے چہرہ کو کیا اور عرض کیا کہ یہیں، تو آپ نے فرمایا: ہاں!۔ (ترمذی، ابن ماجہ)۔ اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3704 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

mention the trials

(1) His statement “mention the trials”: a circumstantial clause. His statement “veiled”: with a fathah on the nun and tashdid, meaning covered in a cloth like a veil. His statement “he said”: meaning the Messenger of Allah (ﷺ), with the object of “heard” omitted, indicated by “This one will be on guidance that day.” His statement “I said”: meaning the narrator, “I turned to him with his face,” meaning I directed Uthman’s face to him to clarify the matter. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : وذكر الفتن جملة حالية. وقوله: «مقنع بفتح النون المشددة، أي مستتر في ثوب جعله كالقناع. وقوله: «فقال» أي رسول الله ﷺ و مفعول سمعت محذوف، دل عليه قوله: هذا يومئذ على الهدى». وقوله: «قال» أي الراوي، فأقبلت عليه أي على النبي له بوجهه أي بوجه عثمان، والمعنى أدرت وجهه إليه ليتبين الأمر عليه. كذا في «المرقاة».

Note 1

(29) قوله: ذكر الفتن۔ یہ جملہ حالیہ ہے۔ وقوله: مقنع. نون کو فتحہ (زبر) اور تشدید ہے ایک کپڑے میں نقاب کی طرح ڈال کر اپنا چہرہ چھپائے ہوئے تھے۔ وقوله: فقال. یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور سمعت کا مفعول محذوف ہے۔ اور آپ کے ارشاد هذا يومئذ على الهدى سے اس کا پتہ چلتا ہے۔ وقوله: قال. یعنی راوی نے کہا میں نے ان کا چہرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دیا تا کہ آپ پر یہ معاملہ اچھی طرح ظاہر ہو جائے۔ (مرقات)