اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7645
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت اسامہ کے
لئے تین ہزار پانچ سو (ساڑھے تین ہزار) مقرر کئے اور حضرت عبداللہ بن عمر کے لئے تین ہزار مقرر
کئے(37) تو عبداللہ بن عمر نے اپنے والد سے عرض کیا: آپ نے اسامہ کو مجھ پر کیوں فضیلت دی؟ خدا
کی قسم وہ کسی مقام میں مجھ پر سبقت نہیں لے گئے تو آپ نے فرمایا کیونکہ زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کو تمہارے والد سے زیادہ محبوب تھے اور اسامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ محبوب تھے
تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کو میرے اپنے محبوب پر ترجیح دیا ہوں۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3813 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “allocated”: Meaning, Umar allocated for Abdullah ibn Umar, his son, indeed his most beloved son. The statement “because Zayd”: Meaning, Usamah’s father was more beloved to the Messenger of Allah (ﷺ) than your father. This indicates, as previously mentioned, that greater love does not necessarily imply greater superiority. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: وفرض: أي عمر لعبد الله بن عمر، أي ولده، بل أعز أولاده. وقوله: «لأن زيدا» أي أبا أسامة كان أحب إلى رسول الله ﷺ من أبيك فيه دلالة على ما قدمناه من أنه لا يلزم من كون أحد أحب أن يكون أفضل. كذا في «المرقاة».
Note 1
(37) قوله: وفرض یعنی عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مقرر کیا لعبد الله بن عمر (عبداللہ بن عمر کے لئے) یعنی اپنے بیٹے بلکہ عزیزترین بیٹے کے لئے۔ وقوله: لان زيدا (کیونکہ زید) یعنی حضرت اسامہ کے والد كان احب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من ابيك۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے والد سے زیادہ محبوب تھے) اس میں اس بات پر دلالت ہے جس کو ہم نے سابق میں ذکر کیا ہے کہ کسی کا زیادہ محبوب ہونا اس کے افضل ہونے کو لازم نہیں آتا۔ (مرقات)