English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: When Sa’d ibn Mu’adh’s funeral was carried, the hypocrites said: “How light his funeral is,” because of his judgment 1 regarding Banu Qurayzah. This reached the Prophet (ﷺ), and he said: “The angels were carrying him.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٩٨٩ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: لَمَّا حُمِلَتْ جَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَادٍ قَالَ الْمُنَافِقُونَ: مَا أَخَفَّ جَنَازَتَهُ، وَذَلِكَ لِحُكْمِهِ1 فِي بَنِي قُرَيْظَةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَحْمِلُهُ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7709
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا: جب حضرت سعد بن
معاذ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقوں نے کہا: ان کا جنازہ کتنا ہلکا ہے، اور یہ بنی قریظہ میں ان کے فیصلہ کی
وجہ سے ہے(35)۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: فرشتے اس کو اٹھا رہے
تھے۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3849 (unverified) 65% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “his judgment regarding Banu Qurayzah”: Meaning to kill their fighters and take their dependents captive, which the hypocrites attributed to injustice. The Messenger of Allah (ﷺ) testified to the correctness of his judgment. The statement “the angels were carrying him”: Hence, his funeral was light for the people. A heavy body indicates attachment to the world, while lightness reflects a strong longing for the Lord and the swift ascent of the soul to the highest goal. Allah said: And honor belongs to Allah, His Messenger, and the believers, but the hypocrites do not know [Qur’an 63:8]. At-Tibi said: They meant to belittle and disdain him, but the response highlighted the honor and grandeur of his status. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: الحكمه في بني قريظة: أي بأن تقتل المقاتلة وتسبى الذرية، فنسبه المنافقون إلى الجور والعدوان. وقد شهد رسول الله ﷺ له بالإصابة في حكمه. وقوله: إن الملائكة كانت تحمله أي ولذا كانت جنازته خفيفة على الناس، وأيضًا ثقل الميت مشعر بتعلقه إلى الدنيا وخفته إلى قوة شوقه للمولى وسرعة طيران روحه إلى المقصد الأعلى. قال تعالى: ﴿وَاللَّهُ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ المَنَافِقِينَ لا يَعلمون (المنافقون (۸) . قال الطيبي: كانوا يريدون بذلك حقارته وازدراءه، فأجاب بما يلزم من تلك الخفة بتعظيم شأنه وتفخيم أمره. كذا في «المرقاة».
Note 1
(35) قوله: لحكمه في بني قريظة. یعنی ان کے اس فیصلہ کی وجہ سے کہ لڑنے والی جماعت کو قتل کردیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنایا جائے منافقوں نے اس فیصلہ کو ظلم و زیادتی پر محمول کیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فیصلہ کے درست ہونے کی گواہی دی۔ وقوله: ان الملائكة كانت تحمله. فرشتے ان کو اٹھا رہے تھے، اس لئے ان کا جنازہ لوگوں کے اوپر ہلکا تھا۔ نیز میت کا بوجھل اور وزنی ہونا اس کے دنیا سے تعلق کو بتاتا ہے، اور اس کا ہلکا ہونا اللہ سے ملاقات کے شوق کی قوت اور اس کے روح کی اپنے مقصد عالی کی طرف تیز پرواز کو بتاتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ“۔ (63، المنافقون، آیت نمبر:8) اللہ ہی کیلئے ہے عزت اور اس کے رسول کیلئے اور مومنین کیلئے، لیکن منافقین جانتے نہیں ہیں۔ علامہ طیبی نے فرمایا: منافقین کی مراد اس سے ان کو حقیر قرار دینا اور ان کو عیب لگانا تھا۔ پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب اس طرح مرحمت فرمایا کہ ان کے جنازے کا ہلکا ہونا ان کی عظمت شان اور ان کے معاملہ کی بلندی کی وجہ سے ہے۔ (مرقات)