Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 6037

Chapter on the Mention of Yemen and Sham, and the Mention of Uwais al-Qarni (may Allah be pleased with him)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Mention of Yemen and Sham, and the Mention of Uwais al-Qarni (may Allah be pleased with him)

Zujajat al-Masabih 6037Volume 5

English

Abdullah ibn Amr ibn al-As (may Allah be pleased with them both) narrated that he heard the Prophet (ﷺ) say: “There 1 will be a migration after a migration. The best of people will go to the place of Ibrahim’s migration.” In another narration: “The best of the people of the earth will go to the place of Ibrahim’s migration, while the worst of its people will remain on earth. The earth will expel them, and Allah’s soul will despise them. The fire will gather them with apes and pigs, staying with them at night and resting with them during the day.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٦٠٣٧ - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رضي الله عنهما) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: «إِنَّهَا 1 سَتَكُوْنُ هِجْرَةً بَعْدَ هِجْرَةٍ، فَخِيَارُ النَّاسِ إِلَى مُهَاجَرٍ إِبْرَاهِيمَ». وَفِي رِوَايَةٍ: «فَخِيَارُ أَهْلِ الأَرْضِ إِلَى مُهَاجَرِ إِبْرَاهِيمَ وَ يَبْقَى فِي الْأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا، تَلْفِظُهُمُ الْأَرْضُ، وَتَقْذَرُهُمْ نَفْسُ اللَّهِ، تَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، تَبِيْتُ مَعَهُمْ إِذَا بَاتُوْا، وَ تَقِيلُ مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7761Noor 7762
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ (14) عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی، پس لوگوں میں بہتر لوگ وہ ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف ہجرت کریں گے۔ اور ایک روایت میں ہے اہل زمین میں بہتر لوگ وہ ہوں گے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کو لازم کرلیں اور زمین میں بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے اور جن کو ان کی زمین اگل دے گی اور ذات خداوندی ان کو ناپسند کرے گی۔ آگ ان کو بندروں اور خنزیروں کے ساتھ یکجا کر دے گی اور ان کے ساتھ رات گزارے گی جب وہ رات گزاریں گے اور وہ ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی جب وہ قیلولہ کریں گے۔ (ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2482 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

There

(1) His statement: “There” refers to the matter. His statement: “migration after migration” means a migration to Sham after the migration to Madinah. Torbushti said: This will happen when trials increase, and those upholding Allah’s command dwindle in other lands, and disbelievers conquer Muslim lands. Sham will remain under Islamic armies, victorious over their enemies, upholding the truth until they fight the Dajjal. Those migrating to it will preserve their religion, seeking it for their hereafter, increasing the number of Allah’s righteous servants. This may refer to our era. His statement: “The best of people” clarifies the general statement, as if saying: People will leave their homelands, and the best will migrate to Ibrahim’s migration place, which is Sham, as Ibrahim went there from Iraq. His statement: “The worst of its people remain” means the disbelievers and evildoers. “The earth will expel them” means their lands will cast them out from one place to another. His statement: “Allah’s soul will despise them” means Allah’s essence detests them. His statement: “The fire will gather them with apes and pigs” means the fire will accompany them day and night, gathering them with disbelievers likened to apes and pigs due to their actions. His statement: “staying with them” refers to the fire or trial resulting from their evil deeds, accompanying them wherever they go, as they think trials are confined to their lands, so they abandon them, but the trial follows them. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: إنها: أي القصة. وقوله: ستكون هجرة بعد هجرة والمعنى ستكون هجرة إلى الشام بعد هجرة كانت إلى المدينة. قال التوربشتي: وذلك حين تكثر الفتن ويقل القائمون بأمر الله في البلاد، ويستولى الكفرة على بلاد الإسلام ويبقى الشام تسومها العساكر الإسلامية منصورة على من نا وأهم ظاهرين على الحق حتى يقاتلوا الدجال، فالمهاجر إليها حينئذ فاز بدينه ملتجيء إليها لإصلاح آخرته يكثر سواد عباد الله الصالحين القائمين بأمر الله تعالى. ولعل الحديث إشارة إلى العصر الذي نحن فيه. وقوله: فخيار الناس» تفصيل للمجمل كأنه. قيل: سيحدث للناس مفارقة من الأوطان، وكل أحد يقارق وطنه إلى آخر، ويهجره هجرة بعد هجرة فخيارهم من يهاجر أو يرغب إلى مهاجر إبراهيم ، وهو الشام، فإن إبراهيم لما خرج من العراق مضى إلى الشام. وقوله: يبقى في الأرض شرار أهلها أي أهل الأرض من الكفار والفجار تلفظهم - بكسر الظاء - أي ترميهم أرضوهم بفتح الراء، والمعنى ترمي شرار الناس أراضيهم من ناحية إلى ناحية أخرى. وقوله: «تقذرهم» أي كرهتهم نفس الله بسكون الفاء، أي ذاته. وقوله: تحشرهم النار مع القردة والخنازير أي تلازمهم النار ليلا ونهارا وتجمعهم مع الكفرة الذين هم باعتبار صغيرهم وكبيرهم كالقردة والخنازير. وقوله: «تبيت» أي النار. قال المظهر: النار ههنا الفتنة يعني تحشرهم نار الفتنة التي هي نتيجة أفعالهم القبيحة وأقوالهم مع القردة والخنازير؛ لكونهم متخلقين بأخلاقهم، فيظنون أن الفتنة لا تكون إلا في بلدانهم، فيختارون جلاء أوطانهم ويتركونها، والفتنة تكون لازمة لهم، ولا تنفك عنهم حيث يكونون وينزلون ويرحلون. كذا في «المرقاة».

Note 1

(14) قوله: انها۔ اس میں ضمیر قصہ ہے۔ یعنی قصہ یہ ہے کہ۔ وقوله: ستكون هجرة بعد هجرة۔ اس سے مراد یہ ہے کہ عنقریب شام کی طرف ہجرت ہوگی اس ہجرت کے بعد جو مدینہ منورہ کی جانب ہوئی تھی، علامہ تورپشتی نے فرمایا: اور یہ اس وقت ہوگا جب ملکوں میں فتنے بڑھ جائیں گے اور اللہ کے حکم کو بجالانے والے کم ہوجائیں گے اور اسلامی ملکوں پر کفار قابض ہوں گے، جبکہ ملک شام باقی رہ جائے گا اور اسلامی لشکر حق پر قائم رہتے ہوئے اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں اس کی حفاظت کرتے ہوئے اس کو لازم کرلیں گے یہاں تک کہ وہ دجال سے جنگ کریں گے، پس اس وقت شام کی طرف ہجرت کرنے والا اور اپنی آخرت کی اصلاح کی خاطر اس میں پناہ لینے والا اپنے دین میں کامیاب ہوگا۔ اور اللہ کے حکم کو بجالانے والے نیک بندوں کی جماعت میں اضافہ ہوگا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث ہمارے اسی زمانے کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ وقوله: فخيار الناس۔ یہ مجمل کی تفصیل ہے گویا کہ کہا گیا عنقریب لوگوں کیلئے وطنوں سے جدائی پیش آئے گی اور ہر ایک شخص اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسرے مقام کو چلا جائے گا اور اس کو بھی ہجرت پہ ہجرت کرکے چھوڑتا جائے گا اور ان میں سے بہتر شخص وہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف ہجرت کرے گا یا اس کی طرف مائل ہوگا۔ جو کہ ملک شام ہے کیونکہ ابراہیم علیہ السلام جب عراق سے نکلے تو ملک شام کی جانب چلے۔ وقوله: ويبقى في الارض شرار اهلها۔ یعنی زمین میں زمین والوں کے بدترین لوگ یعنی کفار و فجار باقی رہ جائیں گے۔ (تلفظهم) فا کو زیر (کسرہ) ہے یعنی زمین ان کو پھینک دے گی۔ ارضوهم۔ را کو زبر (فتحہ) ہے۔ اور معنی یہ ہے کہ بدترین لوگوں کو ان کی زمینیں ایک جانب سے دوسری جانب پھینک دیں گی۔ وقوله: تقذرهم۔ یعنی ان کو ناپسند کرے گی، نفس الله، فا کو جزم ہے یعنی ذات خداوندی۔ وقوله: تحشرهم النار مع القردة والخنازير۔ یعنی آگ رات دن ان کے ساتھ لگی رہے گی اور ان کو ایسے کفار کے ساتھ جو اپنے چھوٹے اور بڑوں کے اعتبار سے بندروں اور خنزیروں کی طرح ہوں گے۔ وقوله: تبيت۔ یعنی آگ رات گزارے گی، علامہ مظہر نے فرمایا: آگ سے مراد یہاں فتنہ ہے، یعنی فتنے کی آگ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) جو کہ ان لوگوں کے برے افعال اور اقوال کا نتیجہ ہے، ان کو بندروں اور خنزیروں کی عادتیں اپنانے کی وجہ سے ان ہی کے ساتھ جمع کر دے گی۔ اور وہ گمان کریں گے کہ فتنہ ان ہی کے شہروں میں ہے تو وہ جلاوطنی کو اختیار کریں گے اور اپنے وطنوں کو چھوڑ دیں گے جبکہ فتنہ تو ان کے ساتھ لگا رہے گا اور ان سے جدا نہیں ہوگا جہاں کہیں وہ ہوں گے اور اتریں گے اور کوچ کریں گے۔ (مرقات)