English
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (ﷺ) said: “A fire will emerge from Hadramaut 1 or near Hadramaut, gathering people.” We said: “O Messenger of Allah, what do you command us?” He said: “Go to Sham.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٦٠٣٦ - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: سَتَخْرُجُ نَارُ1 مِنْ حَضْرَمَوْتَ أَوْ مِنْ حَضْرَمَوْتَ تَحْشُرُ النَّاسَ»، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7760
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب حضرموت کی جانب سے یا حضرموت سے ایک
آگ(13) نکلے گی جو لوگوں کو جمع کرے گی۔ ہم عرض کئے یا رسول اللہ! آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم شام کو لازم کرلو۔(ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2217 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “A fire from Hadramaut” may refer to a literal fire, as Torbushti said, or a trial metaphorically called fire. In either case, it will occur before the Hour. They asked: “What do you command us?” meaning to avoid it, and he said: “Go to Sham.” His statement: “gathering people” means the fire will collect and drive them, as stated in An-Nihayah. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: نار من حضر موت قال التوربشتي: يحتمل أن تكون النار، أي عين، وهو الأصل. ويحتمل أنها فتنة عبر عنها بالنار، وعلى التقديرين فالوجه فيه أنه قبل قيام الساعة؛ لأنهم قالوا: فما تأمرنا يعنون في التوقي عنها، فقال: «عليكم بالشام». وقوله: «تحشر الناس» أي تجمعهم النار وتسوقهم على ما في النهاية». كذا في «المرقاة».
Note 1
(13) قوله: نار من حضرموت. علامہ تورپشتی نے فرمایا: احتمال ہے کہ وہ بعین آگ ہی ہو اور یہی اصل ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ فتنے ہوں اس کو آگ سے تعبیر کیا گیا ہو۔ اور دونوں احتمالات میں یہ صورت نکلتی ہے کہ یہ قیامت (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) قائم ہونے سے پہلے والا ہے کیونکہ صحابہ نے عرض کیا آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں یعنی اس آگ سے بچنے کے بارے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم شام کو لازم کرلو۔ وقوله: تحشر الناس۔ یعنی وہ آگ لوگوں کو جمع کرے گی اور ان کو ہانکے گی جیسا کہ یہاں میں ہے۔ (مرقات)