Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 6045

Chapter on the Reward of This Ummah

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Reward of This Ummah

Zujajat al-Masabih 6045Volume 5

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (ﷺ) said: “Your lifespan 1 compared to the lifespans of past nations is like the time between the Asr prayer and sunset. Your example, and that of the Jews and Christians, 2 is like a man who hired workers and said: ‘Who will work for me until midday for a qirat each?’ The Jews worked until midday for a qirat each. Then he said: ‘Who will work for me from midday to the Asr prayer for a qirat each?’ The Christians worked from midday to the Asr prayer for a qirat each. Then he said: ‘Who will work for me from the Asr prayer to sunset for two qirats each?’ You are those who work from the Asr prayer to sunset, and you have double the reward. The Jews and Christians were angry and said: 3 ‘We worked more and received less.’ Allah said: ‘Have I wronged you 4 in any of your rights?’ They said: ‘No.’ Allah said: ‘That is My favor, which I grant to whomever I wish.’”

العربية

Typed, pending editorial approval
٦٠٤٥ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما)عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّمَا 1 أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلَا مِنَ الْأُمَمِ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ، وَإِنَّمَا 2 مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا، فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ فَعَمِلَتِ النَّصَارَى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ؟ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ، أَلَا لَكُمُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ، فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالُوا 3 نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءٌ، قَالَ اللهُ تَعَالَى: فَهَلْ ظَلَمْتُكُمْ 4 مِنْ حَقَّكُمْ شَيْئًا ۚ قَالُوا: لَا ، قَالَ اللهُ تَعَالَى: فَإِنَّهُ فَضْلِي أُعْطِيهِ مَنْ شِئْتُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7770
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا تمہاری مدت(2) گزشتہ امتوں کی مدت کے مقابلہ میں اس مدت کی طرح ہے جو عصر کی نماز سے لے کر سورج ڈوبنے تک ہے۔ اور اس کے سوا نہیں(3) تمہاری مثال اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے کارکنوں کو کام پر لگایا اور کہا کون شخص ہے جو میرے لئے دوپہر تک ایک ایک قیراط پر کام کرے گا تو یہود نے دوپہر تک ایک ایک قیراط پر کام کیا پھر اس نے کہا کون شخص ہے جو میرے لئے دوپہر سے نماز عصر تک ایک ایک قیراط پر کام کرے گا پس نصاریٰ نے دوپہر سے نماز عصر تک ایک ایک قیراط پر کام کیا پھر اس نے کہا کون شخص ہے جو میرے لئے عصر سے سورج غروب ہونے تک دو دو قیراطوں پر کام کرے گا۔ سنو! تم وہ لوگ ہو جو عصر کی نماز سے سورج غروب ہونے تک کام کر رہے ہیں سنو! تمہارے لئے دوگنا اجر ہے تو اس پر یہود و نصاری غصہ میں آئے اور انہوں نے کہا(4) ہمارا کام زیادہ ہے اور معاوضہ کم ہے تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کیا(5) میں نے تمہارے حق میں سے کچھ کم کیا، تو انہوں نے کہا نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ میرا فضل ہے میں جس کو چاہوں عطا کرتا ہوں۔(بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3459 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (10)

Note 1

Your lifespan

(1) His statement: “Your lifespan” refers to the duration set for something, here meaning the lifespan of the Ummah. It may also refer to death, indicating its final part. The meaning is that your lifespan compared to the total lifespans of past nations is like the time between Asr and sunset compared to the start of the day to Asr, yet you have greater reward than them combined. Then he clarified the proportion between this Ummah and the Jews and Christians individually. (As stated in Al-Lama’at)

Note 2

Your example and that of the Jews and Christians

(2) His statement: “Your example and that of the Jews and Christians” means in relation to the Lord. His statement: “He said” is in the form of a question. Repeating “qirat” indicates each worker gets a qirat, not the group collectively. “Then he said” refers to the man hiring the workers. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

They said: We worked more and received less

(3) His statement: “They said: We worked more and received less” means the People of the Book said: Our Lord, You gave Muhammad’s Ummah great reward for little work, and us little reward for much work. They may say this on the Day of Judgment, or they said it after learning of this Ummah’s virtues in their scriptures. Our scholars used this to support Abu Hanifa’s view that Asr begins when the shadow of an object is twice its length, as the Christians’ work cannot exceed this Ummah’s unless this duration is considered. (As stated in Al-Mirqat)

Note 4

Have I wronged you

(4) His statement: “Have I wronged you” means have I diminished your rights. His statement: “That is My favor” means the matter or decree, indicating that the greater reward is My favor, which I grant to whomever I wish. The hadith shows that this Ummah’s time is shorter than the Christians’, whose time is shorter than the Jews’, and that this Ummah’s religion persists until the Hour without abrogation. (As stated in Al-Mirqat)

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله: هذه الأمة: قال في التوضيح: المراد بالأمة المطلقة أهل السنة والجماعة، وهم الذين طريقتهم كطريقة رسول الله ﷺ وأصحابه. كذا في «المرقاة».

Note 1

قوله

(۱) قوله : إنما أجلكم إلخ الأجل المدة المضروبة للشيء، وهي جملة مدة العمر. وقد يطلق على الموت بإرادة الجزء الأخير منها، والمعنى مدة عمركم في جنب مجموع أعمار الأمم السابقة، كالمدة التي بين صلاة العصر إلى المغرب في جنب أول النهار إلى العصر، ومع ذلك أنتم أكثر ثوابا منهم، أي من مجموعهم، ثم بين النسبة بين هذه الأمة وبين اليهود والنصارى فرادى. كذا في «اللمعات».

Note 2

قوله

(۲) قوله : وإنما مثلكم ومثل اليهود والنصارى أي مع الرب سبحانه وتعالى. وقوله: «فقال أي على طريق الاستفهام. وقوله: «قيراط قيراط وكرر قيراط؛ للدلالة على أن الأجر لكل واحد منهم قيراط، لا أن مجموع الطائفة قيراط. وقوله: «ثم قال أي الرجل المستعمل للعمال. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله : فقالوا: نحن أكثر أعمالا وأقل عطاء: أي قال أهل الكتاب: ربنا أعطيت أمة محمد ثوابا كثيرا مع قلة أعمالهم، وأعطيتنا ثوابا قليلا مع كثرة أعمالنا، ولعلهم يقولون ذلك يوم القيامة. وقد حكى عنهم النبي بصيغة الماضي لتحقق ذلك، أو صدر عنهم مثل ذلك لما اطلعوا على فضائل هذه الأمة في كتبهم، واستدل به علماؤنا؛ تقوية لقول أبي حنفية الله : إن أول العصر بصيرورة ظل كل شيء مثليه؛ إذ لا يتصور أن يكون النصارى أكثر عملا من هذه الأمة إلا باعتبار هذه المدة التقطته من المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله: فهل ظلمتكم أي هل نقصتكم. وقوله: قال الله تعالى: فإنه أي الشأن أو التقدير، فإن العطاء الكثير المدلول عليه بالسياق فضلي، وبالجملة فيدل الحديث على أن زمن هذه الأمة أقل من زمن النصارى، كما أن زمن النصارى أقل من زمن اليهود، وعلى أن دين هذه الأمة متصل إلى قيام الساعة لا ينسخه ناسخ. كذا في «المرقاة».

Note 1

(2) قوله: انما اجلكم الخ. اجل کسی چیز کی مقررہ مدت کو کہتے ہیں اور یہ کل مدت عمر ہوتی ہے اور کبھی جس طرح کل بول کر جزو مراد لیتے ہیں اسی طرح (اجل) کل مدت عمر بول کر اس کا اخیر حصہ یعنی موت مراد لیتے ہیں یہاں مطلب یہ ہے سابقہ امتوں کی عمروں کے مجموعہ کے مقابلہ میں تمہاری عمریں اس مدت کی طرح ہے جو دن کے آغاز سے عصر تک کے وقت مقابلہ میں عصر کی نماز سے مغرب کی نماز کے درمیان کے وقت کی ہے مگر اس کے باوجود ان کے مجموعی ثواب سے تمہارا ثواب زیادہ ہے پھر اس امت کی اور یہود و نصاریٰ میں سے ہر ایک کے درمیان کی الگ الگ نسبت کا ذکر فرمایا۔ (مرقات) (3) قوله: وانما مثلكم ومثل اليهود والنصارى. معنی تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال رب تعالیٰ کے ساتھ۔ وقوله: فقال یہ فرمانا بطریق استفہام ہے۔ وقوله: قيراط قيراط. لفظ قیراط کی تکرار اس بات کے لئے ہے ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک قیراط ملے گا یہ مطلب نہیں کہ پوری جماعت کو ایک قیراط ملے گا۔ وقوله: ثم قال. یعنی پھر اس شخص نے کہا جس نے کارکنوں کو کام پر لگایا تھا۔ (مرقات) (4) قوله: فقالوا نحن أكثر أعمالا واقل عطاءً ا۔ یعنی اہل کتاب نے کہا اے ہمارے پروردگار تو نے امت محمدیہ کو ان کے کام کم ہونے کے باوجود بہت ثواب عطا فرمایا اور ہم کو ہمارے کام بہت ہونے کے باوجود کم ثواب عطا فرمایا اور ہو سکتا ہے ان کا یہ کہنا قیامت کے دن ہوگا۔ چونکہ یہ بات پکی ہے اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بصیغہ ماضی بیان فرمایا یا جب انہوں نے اپنی کتابوں میں جس وقت امت محمدیہ کے فضائل سے واقفیت حاصل کیا ہو تو اس وقت یہ واقعہ ہو چکا ہوگا۔ اس حدیث شریف سے ہمارے علماء نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں استدلال کیا ہے کہ نماز عصر کا وقت ہر چیز کا سایہ دو مثل ہونے پر شروع ہوتا ہے کیونکہ اس امت کی نسبت سے نصاری کا عمل زیادہ ہونا اس کے بغیر متصور نہیں ہو سکتا۔(ماخوذ از مرقات) (5) قوله: فهل ظلمتكم. یعنی کیا میں تمہارے اجر میں کمی کیا۔ و قوله: قال فانه. فانہ میں ضمیر شان ہے، یا اس ضمیر سے تقدیر مراد ہے یعنی یہ عطاء کثیر جس پر سیاق دلالت کرتا ہے وہ میرا فضل ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس امت کا زمانہ نصاری کے زمانہ سے کم ہے جیسا کہ نصاری کا زمانہ یہود کے زمانہ سے کم ہے کیونکہ اس امت کا دین قیامت تک جاری ہے اس کو منسوخ کرنے والا کوئی ناسخ نہیں۔(مرقات)