العربية
Typed, pending editorial approval
۷۲۰ - وَعَنْهُ ، عَنِ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «إِذَا كَانَ دَمًا أَحْمَرَ فَدِيْنَارُ، وَإِذَا كَانَ دَمًا أَصْفَرَ فَنِصْفُ دِينَارٍ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
وَقَالَ أَكْثَرُ الْعُلَمَاءِ: لَا شَيْءَ عَلَيْهِ سِوَى الاسْتِغْفَارِ، وَهُوَ قَوْلُ أَصْحَابِنَا أَيْضًا. ثُمَّ إِنَّ الَّذِينَ ذَهَبُوا إِلَى عَدَمِ وُجُوْبِ الصَّدَقَةِ أَجَابُوا أَنَّ قَوْلَهُ : يَتَصَّدَقُ مَحْمُوْلُ عَلَى الاسْتِحْبَابِ، إِنْ شَاءَ تَصَدَّقَ وَإِلَّا لَا ، قَالَهُ الْعَلَامَةُ الْعَيْنِيُّ فِي عُمْدَةِ الْقَارِي»، وَكَذَا فِي الْعَالَمْكِيْرِيَّةِ».
وَقَالَ فِي بَذْلِ الْمَجْهُودِ»: اخْتَلَفُوْا فِي وُجُوْبِ الكَفَّارَةِ فِي إِتْيَانِ الْحَائِضِ، فَقَالَ مَالِكَ وَأَبُو حَنِيفَةَ وَالشَّافِعِيُّ: لَا يَجِبُ عَلَيْهِ شَيْءٌ، بَلْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَتَصَدَّقَ إِنْ وَطِئَ فِي أَوَّلِ الْحَيْضِ بِدِينَارٍ، وَفِي آخِرِهِ بِنِصْفِ دِينَارٍ، وَيَسْتَغْفِرُ اللهَ تَعَالَى.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 137 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور اکثر علماء نے کہا ہے کہ حیض کی حالت میں جماع کرنے والے پر استغفار کے سوا کوئی چیز واجب نہیں ہے اور ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے، واضح رہے کہ جو علماء اس بات کے قائل ہیں کہ حالت حیض میں جماع کرنے سے خیرات واجب نہیں ہوتی، انہوں نے یہ جواب دیا کہ حائضہ سے جماع کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں خیرات کرنے کا جو ذکر ہے وہ استحباب پر محمول ہے چاہے تو خیرات کرے اور چاہے تو نہ کرے، چنانچہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو عمدۃ القاری میں بیان کیا ہے اور اسی طرح عالمگیریہ میں مذکور ہے، البتہ بذل المجہود میں لکھا ہے کہ علماء نے حائضہ سے جماع کرنے سے کفارہ واجب ہونے کے بارے میں اختلاف کیا ہے، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے کہ ایسے شخص پر کچھ بھی واجب نہیں ہے بلکہ خیرات دینا مستحب ہے اگر ابتدائی حیض میں جماع کرلیا ہو تو ایک دینار خیرات کرے اور اگر آخری حیض میں جماع کیا ہو تو نصف دینار خیرات کرے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے۔