العربية
Typed, pending editorial approval
٧٢٤ - وَعَنْهَا : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ: تَوَضَّنِي لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ». رَوَاهُ إِمَامُنَا أَبُو حَنِيفَةَ. وَرَوَى مُحَمَّدٌ مِثْلَهُ فِي الْأَصْلِ».
وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيّ وَالتَّرْمِذِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِلْمُسْتَحَاضَةِ: «ثُمَّ تَوَضَّنِي لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيْءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ».
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ”ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلٰوةٍ“ جو مذکور ہے اس کے معنی محاورۂ عرب کے لحاظ سے (لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ) یعنی ہر نماز کے وقت وضو کیا کرو چنانچہ کہا جاتا ہے کہ (أَتَيْتُكَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ أَيْ وَقْتَهَا) یعنی میں تمہارے پاس نماز ظہر کے وقت آؤں گا، اس محاورہ سے معلوم ہوا کہ لام بمعنی وقت کے ہے جس پر امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کی روایت کردہ حدیث دلیل ہے، جس میں (بِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ) مذکور ہے علاوہ ازیں بعض حدیثوں میں (عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ) بھی وارد ہے جس سے وقت کی طرف ہی اشارہ ہوتا ہے، چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی مذہب ہے۔ (فتح القدیر)12