English
Narrated by Ibrahim: "The companions of Muhammad ﷺ never agreed on anything more than they agreed on brightening the Fajr prayer."
العربية
Typed, pending editorial approval
۸۲۰ - وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: مَا اجْتَمَعَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ عَلَى شَيْءٍ مَا اجْتَمَعُوْا عَلَى التَّنْوِيرِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 922
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے اصحاب کا اتفاق کسی چیز پر اس طرح نہیں ہوا جیسا کہ نمازِ فجر کے خوب روشنی میں ادا کرنے پر
ہوا ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مذکورہ بالا حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ فجر اسفار یعنی سپیدی میں ادا کی جائے اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نمازِ فجر کے ادا کرنے میں اس قدر تاخیر نہ ہو کہ طلوع آفتاب کا تنگ ہونے لگے بلکہ نمازِ فجر کو اسفار یعنی ایسی سپیدی میں ادا کرنا مستحب ہے کہ بہ ترتیل کم و بیش چالیس آیتوں کے ساتھ نماز ختم ہونے پر اگر نماز میں فساد ظاہر ہو تو دوسری مرتبہ نمازِ فجر کا اعادہ اسی طرح کیا جا سکے جیسے کہ پہلی مرتبہ ادا کیا تھا۔ (ملتقی الابحر)۔