ف: مذکورہ بالا حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ فجر اسفار یعنی سپیدی میں ادا کی جائے اس
بارے میں یہ واضح رہے کہ نمازِ فجر کے ادا کرنے میں اس قدر تاخیر نہ ہو کہ طلوع آفتاب کا تنگ ہونے
لگے بلکہ نمازِ فجر کو اسفار یعنی ایسی سپیدی میں ادا کرنا مستحب ہے کہ بہ ترتیل کم و بیش چالیس آیتوں کے
ساتھ نماز ختم ہونے پر اگر نماز میں فساد ظاہر ہو تو دوسری مرتبہ نمازِ فجر کا اعادہ اسی طرح کیا جا سکے جیسے کہ
پہلی مرتبہ ادا کیا تھا۔ (ملتقی الابحر)۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مذکورہ بالا حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ فجر اسفار یعنی سپیدی میں ادا کی جائے اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نمازِ فجر کے ادا کرنے میں اس قدر تاخیر نہ ہو کہ طلوع آفتاب کا تنگ ہونے لگے بلکہ نمازِ فجر کو اسفار یعنی ایسی سپیدی میں ادا کرنا مستحب ہے کہ بہ ترتیل کم و بیش چالیس آیتوں کے ساتھ نماز ختم ہونے پر اگر نماز میں فساد ظاہر ہو تو دوسری مرتبہ نمازِ فجر کا اعادہ اسی طرح کیا جا سکے جیسے کہ پہلی مرتبہ ادا کیا تھا۔ (ملتقی الابحر)۔