Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 860

Chapter on The Virtues of Prayer

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on The Virtues of Prayer

Zujajat al-Masabih 860Volume 1

English

Abu Hurayrah (May Allah be pleased with him) narrated that he came to Damascus and stayed with the family of Abu Kultum al-Dawsi. He went to the mosque and sat in its western part, where they began discussing the middle prayer and differed over it. He said: "We also differed over it just as you are differing, while we were at the doorstep of the Messenger of Allah (ﷺ), and among us was the righteous man Abu Hashim ibn ʿUtbah ibn Rabiʿah ibn ʿAbd Shams. He said, 'I will find out for you,' and went to the Messenger of Allah (ﷺ), as he was bold in approaching him. He sought permission, entered, and then came out to inform us that it is the ʿASr prayer."

العربية

Typed, pending editorial approval
٨٦٠ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّهُ أَقْبَلَ حَتَّى نَزَلَ دِمَشْقَ عَلَى آلِ أَبِي كُلْتُمَ الدَّوْسِيِّ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ، فَجَلَسَ فِي غَرْبِيَّهِ، فَتَذَاكَرُوا الصَّلَاةَ الْوُسْطَى، فَاخْتَلَفُوْا فِيْهَا، فَقَالَ: اخْتَلَفْنَا فِيهَا كَمَا اخْتَلَفْتُمْ، وَنَحْنُ بِفَنَاءِ بَيْتِ رَسُولِ اللهِ ، وَفِيْنَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَبُو هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَقَالَ: أَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ ، وَكَانَ جَرِيئًا عَلَيْهِ، فَاسْتَأْذَنَ فَدَخَلَ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا، فَأَخْبَرَنَا أَنَّهَا صَلَاةُ الْعَصْرِ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 964
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ دمشق آ کر ابو کلثم دوسی کے گھر فروکش ہوئے پھر مسجد کو تشریف لائے اور مسجد کے غربی جانب ایک جگہ بیٹھ گئے (وہاں دیکھا کہ) لوگ صلوٰۃ وسطٰی کا باہم تذکرہ کرتے ہوئے اس کے متعلق آپس میں اختلاف کر رہے ہیں یہ سن کر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم کو بھی صلوٰۃ وسطٰی کے متعلق اختلاف ہوا تھا جس طرح کہ آپ حضرات کے درمیان صلوٰۃ وسطٰی کے تعین میں اختلاف ہو رہا ہے کہ وہ کونسی نماز ہے؟ اور اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے اور ہماری مجلس میں اُس وقت ایک باخدا بزرگ ابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس موجود تھے ابو ہاشم نے کہا کہ میں اس مسئلہ کو آپ لوگوں کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کر کے آتا ہوں یہ کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جرأت سے حاضر ہو جایا کرتے تھے، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی اور اندر گئے پھر ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم کو خبر دی کہ صلوٰۃ الوسطٰی سے مراد نماز عصر ہے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)